تازہ ترین : 1
Dunya Ko PurAman Banana Hai Tu

دنیا کو پرُامن بنانا ہے تو۔۔۔۔۔

جنگی اخراجات کم کرنا ہونگے۔۔۔۔۔۔ جنگ عظیم دوم کے کچھ عرصہ بعد تک تو دنیا میں امن وامان قائم رہا مگر اب دنیا کے اکثر ممالک کمزوروں پر اپنی برتری برقرار رکھنے کیلئے اسلحہ کی دوڑ میں ایک دوسرےپرسبق لےجاتےنظرآتےہیں

تہمینہ رانا :
آجکل جسے دیکھو بدامنی اور دہشتگردی کی وجہ سے پریشان نظر آتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پرُامن اور سکون حاصل کرنے کیلئے نت نئے اور حسب توفیق اسلحہ کی خریداری بھی جاری رکھتے ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ” امن “ کا نہ ہونا ہے جس کی وجہ اکثر ممالک کا اسلحہ کی خریدو فروخت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے دولت کابے دریغ استعمال ہے۔
اگر اس عفریت کو نہ روکا گیا تو دنیاسے امن ناپید ہو سکتا ہے اور ہم اپنی آنیوالی نسلوں کے دفاع کو محفوظ بنانے کی بجائے انہیں اپنے ہاتھوں ایک بڑی اور عالمی جنگ میں جھونک دینگے ۔
جنگ عظیم دوم کے کچھ عرصہ بعد تک تو دنیا میں امن وامان قائم رہا مگر اب دنیا کے اکثر ممالک کمزوروں پر اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے اسلحہ کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبق لے جاتے نظر آتے ہیں۔
بدامنی کی بڑی وجہ اسلحے کی فراوانی، جرائم کی شرح میں اضافہ، ملکی خانہ جنگی، دہشتگردانہ واقعات کی کثرت ہے ۔ گلوبل سکیورٹی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی ادارے انسی ٹیوٹ فار اکنامک پیس نے اپنے سالانہ انڈیکس میں دنیا میں امن وامان کی گرتی ہوئی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شام ، افغانستان، سوڈان ، وسطی افریقہ اور ایرانی تناوٴ سے دنیا میں حالت امن کو خطرہ لاحق ہے۔
مڈل ایسٹ، ساوٴتھ ایشیا، افریقہ میں لوگوں کا جنگی کارروائیوں کی وجہ سے قتل عام ایک سانحہ سے کم نہیں۔ لوگ خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے دیگر ممالک کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پنا گزینوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کی وجہ بے تحاشہ مسائل ہیں جو طاقت کے زعم میں مبتلا بڑے ممالک کی کمزور ممالک پرجارحیت کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
حتیٰ کہ پناہ گزینوں کو پناہ دینے والے ممالک کے مسائل میں بھی اضافہ ہو جاتاہے۔ یورپ اس کی بڑی مثال ہے جس میں امن وامان کی صورتحال کو خطرہ لاحق ہے۔
آئی ای پی کا کہنا ہے کہ دنیا کو گزشتہ 60 سالوں سے امن وامان کی خرابی کا سامنا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد امن کی صورتحال خراب ہوئی یا بہتر ہوئی سے متعلق اعداد وشمار 2007 ء میں ظاہرکئے گئے ہیں جس میں بانی وچیئرمین سٹیوکلی لپا نے کہا کہ” عرب سپرنگ“ یعنی مشرق وسطیٰ میں آنیوالے انقلاب کی وجہ سے عالمی مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے۔
دنیا کے 162 ممالک میں سے 22 کا تجزیہ کرنے پر دنیا میں امن عامہ کی خراب صورتحال کی وجہ تنازعات کی وجہ سے شرع قتل میں اضافہ ، سول نافرانی اور دہشت گردی شامل ہیں۔ IEP کی کہنا ہے کہ گزشتہ 7سالوں میں دنیا کے اکثر ممالک کا رجحان خود کو مضبوط بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ اسلحہ خریدنے کی طرح مبذول پایا گیا ہے ۔ دنیا بھر میں 9.8 کھر ڈالر سالانہ جنگی اخراجات کی مد میں خرچ کیا جاتا ہے جو اس کا واضح ثبوت ہے کہ ہم خود ہی دنیا میں امن کی صورتحال خراب کر رہے ہیں۔

شام اور افغانستان دنیا کے ایسے ممالک ہیں جن میں امن کی صورتحال زیادہ خراب ہے۔ اسی طرح جنوبی سوڈان، وسطی افریقہ، یوکرائن اور مصر میں دن بدن امن کی صورتحال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ آئس لینڈ ایک ملک ہے جو دنیا بھر میں امن وامان کی بہترین صورتحال کی وجہ سے سرفہرست ہے۔ امریکہ اور مغربی یورپی ریاستوں میں اسلحہ کی خریدوفروخت پر آنیوالے اخراجات کو دن بدن کم کیا جا رہا ہے جبکہ چین، روس، جن میں اکثریت وسطی ایشیائی ممالک کی ہے جس طرح سے اسلحہ خرید رہے ہیں۔
ویسے ہی وہاں تناوٴ بڑھتا جا رہا ہے۔ کھربوں ڈالر جنگوں پر خرچ دینے سے امن بحال نہیں رکھا جا سکتا ۔ اگر یہی رقم غربت کے خاتمے، ترقیاتی کاموں، صحت و تعلیم، پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، سڑکوں، ہسپتالوں پر خرچ کی جائے تو دنیا کے اکثر و بیشتر مسائل نہ صرف کم ہو سکتے ہیں بلکہ ”امن “ کی گرتی ہوئی ساکھ کی بحالی آسان ہو جائے گی۔ تنازعہ کا حل صلح پسند اور مثبت رویوں سے جلدی ڈھونڈا جا سکتا ہے ناکہ بزورطاقت مسائل حل کئے جائیں۔ آنیوالی نسلوں کو تعلیم و صحت سمیت بے تحاشا مسائل کا سامنا ہے۔ اگر ہمیں اپنی آئندہ نسل کو پرسکون ماحول مہیا کرنا ہے تو دنیا میں امن قائم کرنا ہوگا۔
وقت اشاعت : 2014-07-05

(2) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں