بند کریں
اتوار مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں عسکری شکست کے بعد
مقامی لبرل قوتیں امریکی جنگ جاری رکھیں گی!! شمالی افریقہ سے لیکر جنوبی ایشیا تک مغرب نواز لبرل قوتوں کو منظم کیا گیا ہے

محمد انیس الرحمن:
نائن الیون کے ڈرامے کے بعد افغانستان اور عراق پر حملہ کرنے کی صورت میں امریکہ اور اس کے صہیونی صلیبی اتحادیوں (نیٹو) کو جن حالات سے گزرنا پڑا ہے اس سے مغرب ایک مرتبہ پھر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ انتہائی کمزور اور کسمپرسی کی حالت میں ہونے کے باوجود اسلامی مزاحمت کے سامنے عسکری میدان مارنا ناممکنات میں سے ہے۔ بلکہ مسلم خطوں پر یلغارجیسی ”حماقت“ مسلمانوں کے متحدکرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتی ہے جس کا تصور ہی مغرب کے نزدیک کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔

شمالی عراق کو چھوڑ کر باقی عراق ایک میدانی ملک ہے اور میدانی علاقے کو گوریلا جنگ کیلئے نامناسب تصور کیا جاتاہے لیکن عراقی مجاہدین کے ہاتھوں امریکہ اور اس کے صہیونی صلیبی اتحادیوں کی جو درگت بنی وہ تمام دنیا کے سامنے ہے۔ رہ گیا افغانستان تو جو افراد اور حلقے اس کی تاریخ سے واقف ہیں ان کے نزدیک کسی ”سپر پاور“ کا وہاں پر گھٹنے ٹیک دینا حیران کن نہیں۔
مغرب اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ عراق کے بعد اب افغانستان سے نکلے کے بعد اسلامی دنیا میں مغربی نظام کے خلاف اسلامی مزاحمتی فکر اسی طرح سر اٹھا سکتی ہے جس طرح سوویت یونین کی تحلیل کے بعد مشرق وسطیٰ او دیگر خطوں میں اس کا منظر دیکھنے میں آیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت امریکہ اپنے صہیونی صلیبی اتحادیوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ عراق اور افغانستان پر حملہ آور ہوا تو اس نے مسلم خطوں میں ”لبرل قوتوں “ کو مستحکم کرنے کی پالیسی اختیار کی، اب مغرب کی یہی حکمت عملی ہمیں شمالی افریقہ سے لیکر جنوبی ایشیا میں پاکستان تک نظر آتی ہے جس کے تحت اسلامی نظام زندگی کو رائج کرنے کی حامل قوتوں سے براہ راست ٹکرانے کی بجائے ” لبرل قوتوں“ کی شکل میں اندر سے مقابلہ کی تیاری ہے۔

امریکہ کی سرکردگی میں مغرب کی اس حکمت عملی کو سمجھنے کیلئے صرف افغانستان میں امریکہ کی موجودہ کوششوں کو سمجھ لیناہی کافی ہے۔ امریکہ 2014ء کے آخرت تک افغانستان سے نکلنے سے پہلے وہاں کیاچاہتا ہے؟ امریکہ کی خواہش ہے کہ اپنا عسکری اور معاشی غلبہ برقرار رکھنے کیلئے اسے افغانستان میں اپنے عسکری اڈے قائم کرنے دئیے جائیں جہاں پر مقررہ تعداد میں فوج اور جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیار جمع رکھے جائیں۔
اس کے بعد یہ کوشش کی جائے کہ مغرب کی سرپرستی میں جو نام نہاد آئین بنایا گیا ہے وہ کسی نہ کسی شل برقراررہے اور اسی آئین کے تحت افغانستان میں انتخابات ہوں اور وہاں پر بننے والی حکومتیں باقی مسلم دنیا کی حکومتوں کی طرح مغرب کی دست نگر ہوں تاکہ یہاں پر اسلامی نظام حیات کی حامل حکومت قائم نہ ہوسکے اور باقی دنیا اس خطے کو نمانے کے طور پر لیکر مغرب کے فراڈ دجالی معاشی نظام سے چھٹکارے کی تحریک نہ شروع کردے۔
امریکہ کے بنائے ہوئے نظام کے خلاف اگر افغان طالبان کی شکل میں مزاحمت زور پکڑے تو اس کا مقامی ”افغان نیشنل آرمی“ کی شکل میں مقابلہ کیا جائے۔ ”افغان قومی فوج“ افغانیوں پر ہی مشتمل ہوگی اس لئے اگر اس طرف بھی جانی نقصان ہواتو افغانی ہی مریں گے امریکیوں کی ہلاکت کی صورت میں لاشیں واپس امریکہ نہیں جائیں گی۔ افغان قومی فوج کے پیچھے امریکی اڈوں میں محصور فوج ہوگی جو گاہے بگاہے ”افغان قومی فوج“ کی افغان طالبان کے خلاف مدد کرے گی اسی مقصد کیلئے افغانستان کا نام نہاد لویہ جرگہ بلا کر افغانستان میں 2014ء کے بعد بھی افغانستان میں امریکی اڈوں کے قیام کی قرار داد منظور کروائی گی جس پر کرزئی فی الحال دستخط کیلئے تیار نہیں جبکہ امریکیوں کی کوشش ہے کہ اس رتبہ کسی غیر وں کو افغانستان کا صدر بنایا جائے تاکہ افغانستان کو اسلام اور لبرل ازم اور پختون اور غیر پختون کے فتنے سے دوچار کردیا جائے۔
جو کام امریکہ افغانستان میں ”افغان قومی فوج“ سے لینا چاہتا ہے وہی کام اسے باقی مسلم دنیا میں لبرل قوتوں سے درکار ہے اور یہی لبرل قوتیں ہیں جو اب مغربی صہیونی دجال نظام کی مسلم خطوں میں جنگ لڑرہی ہیں۔
شمالی افریقہ کے عرب ممالک اس قسم کی جنگ کا سب سے پہلے نشانہ بنے ہیں۔ جس وقت تیونس میں مغرب نواز آمر بن علی کی استبدادی حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں نے زور پکڑا تو مغرب نواز لبرل قوتوں نے وہاں پسپائی اختیار کی اور نام نہاد جمہوریت کے ذریعے بھی اگر اسلامی فکر کی حامل سیاسی جماعت ”النھضة “ اقتدادرمیں آئی تو اب اس کا ڈھڑن تختہ کرنے کیلئے وہاں کی لبرل قوتوں پر ڈالروں کی بارش کردی گئی ہے۔
یہی صورتحال مصر میں اختیار کی گئی ہے بلکہ اس کیلئے انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی راستہ اختیار کیا گیا۔ حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف تحریر چوک میں جس تحریک مزاحمت نے سر اٹھایا تھا وہ بھی مکمل طور پر ایک کمہوری عمل تھا جس کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل نوز حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنا پرا اس کے بعد بھی امریکہ، اسرائیل اور یورپ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ آئندہ صدارتی انتخابات میں مصر کی لبرل قوتیں دوبارہ اقتدار میں آجائیں لیکن عام انتخابات میں اخوان نے اکثریت حاصل کی اور محمد مرسی نے مصری صدارت کا منصب سنبھالا۔
اس میں شک نہیں کہ جس جمہوریت ک ے تحت مرسی اقتدار میں آئے تھے وہ مغربی ساختہ ہے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد محمد مرسی نے قوانین میں ترمیم شروع کردی تاکہ مغربی نظام کی چھاپ کو آہستہ آہستہ ختم کیا جاسکے اس کے ساتھ انہوں نے باقی اسلامی دنیا کی اسلامی قوتوں سے تیزی کے ساتھ راہ و رسم بڑھا شروع کی جس میں ترکی کی موجودہ اسلام پسند حکومت بھی شامل ہے برسوں سے غزہ کی کھلی جیل میں محصور ہزاروں فلسطینی مسلمانوں کے لئے سینا کے علاقے کی جانب راستے کو کھول دیا یہ راستہ اسرائیل کی خوشنودی کی خاطر حسنی مبارک نے بند کیا تھا۔
یہ صورتحال امریکہ اور بالخصوص اسرائیل کیلئے انتہائی خطر ناک تھی کیونکہ ماضی میں بھی مصر عالم عرب کی سیاسی اور سماجی زندگی میں ایک قوائدانی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس لئے مرسی حکومت کا تختی الٹنے کیلئے مصر کی لبرل قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ محمد البادی جس کی قیادت میں امریکہ نے انسداد ایٹمی پھیلاؤ کا ایک نام نہاد کمیشن بنایا تھا اور جس کی جھوٹی رپورٹوں پر عراق پر حملے کی راہ ہموار کی گئی تھی اسے مصر بھیجا گیا اس کے ساتھ ساتھ سابق مصری وزیر خارجہ اور عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل عمر موسیٰ کو سامنے لایا گیا لیکن امریکہ اور اسرائیل کی دال نہ گل سکی تو اس دجالی تحریک میں مزید وقت بھرنے کیلئے مصر کی سلفی جماعت ” النور“ کو خریدا گیا جس نے مرسی کی سیاسی مخالفت شروع کردی لیکن جب اس سے بھی کام نہیں نکلا تو مغرب اور اسرائیل کی پالتو مصری عسکری قیادت کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایک طرف مصر کی لبرل قوتوں نے سیاسی حکومت کے خلاف زور لگایا تو دوسری جانب جنرل سیسی کی قیادت میں لبرل قوتوں نے مصری جرنیلوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ حالات کی خرابی کا بہانہ بنا کر محمد مرسی کی آئینی حکومت کا تختہ الٹ دے اور ایسا ہی ہوا محمد مرسی کو گرفتار کر کے اخوان المسلمون پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے ۔ نہتے مصری عوام پر گولیاں برسائی گئیں اور کئی سو مصری شہری صہیونیت نواز مصری جرنیلوں کے انتقام کی بھینٹ چھڑ گئے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم دنیا میں صرف چند ملکوں نے مصری فوج کے اس ظالمانہ رویے کے خلاف آواز اٹھائی جن میں ترک وزیر اعظم طیب اردگان سر فہرست تھے۔
دوسری جانب ترکی کے اسلام پسند وزیرا عظم طیب اردگان عالم عرب کے لبرل حلقوں کیلئے درد سر بن گئے اس وقت عالم عرب کی مغرب نواز لبرل صحافت طیب اردگان کو نئے نئے القابات سے نواز رہی ہے۔ مصر اور فلسطین کے معاملے میں ترکی کی پالیسی کو عالم عرب کے داخلی معاملات میں مداخلت سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔
کہیں ترکی کی اس پالیسی کو ”ترک عثمانوی خلافت“ کے اعیاد ے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور طیب ااردگان کے نام سے پہلے ”سلطان“ کا اضافہ کر کے سلطان طیب اردگان کہا جانے لگتا ہے۔ جر کام مغرب نے مقامی لبرل قوتوں کے ساتھ مل کر تیونس اور مصر میں کیا ہے وہ اب ترکی میں کرنا چاہتا ہے اس لئے عالمی صہیونی میڈیا میں ترک حکومت کے خلاف جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں۔
اس کام کو ہوا دینے کیلئے ترک حکومت پر مالیات بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے لیکن تحقیقات کے بعد کچھ سامنے نہیںآ یا۔
ان تمام حالات کا مختصر جائزہ لینے کے بعد جس وقت پاکستا کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے تو حالات مختلف نظر نہیں آتے۔ اس میں شک نہیں کہ امریکہ افغانستان میں اٹھانے ولی ہزیمت کا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتا ہے اور اس مقصد کیلئے وہ معاشی طور پر وطن عزیز کو مفلوج بنانے کی کوشش کررہا ہے ، یہ صوررتحال ہوتی ہے جس میں وقت تو لگتا ہے لیکن بڑی سے بڑی قوت بھی اپنے پیروں پر کھڑی نہیں رہتی۔
سوویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے اس افغانستان میں کھینچ کر لانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ طویل جنگ کی وجہ سے اسے معاشی دیوالیہ کردیا جائے۔ اس لئے جو کام امریکہ اور مغربی یورپ کے جدید میزائل نہ کرسکے اور کام افغانوں کے ذریعے سولہ برسوں میں کردکھایا گیا ۔ اب پاکستان کے جوہری ہتھیار اور یہاں کی اسلامی فکر مغرب کیلئے سب سے بڑا مسئلہ قرار پائی ہے ، اس مقصد کیلئے افغانستان کی مہنگی ترین مہم کا آغاز کیا گیا لیکن نہ تو افغانستان اور وسطی ایشیا میں امریکہ کے خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے اور نہ ہی افغانستان میں کوئی سیاسی گروہ اس قدر مضبوطی حاصل کرسکا جو امریکہ کے خطے سے نکل جانے کے بعد مغرب کے مفادات کا تحفظ کر سکے لیکن پاکستان کے معاملے میں دو طرح کی پالیسی اختیار کی گئی ہے ایک طرف مشرف کے دور میں ” میڈیا کی آزادی“ کے نام پر ایسے نیوز چینل کھولنے کا آغازکی اگیا جن کے تحت نئے نئے سوالات اٹھا کر پاکستانی قوم کو ذہنی لحاظ سے مضطرب کیا جاسکے دوسرے اس زر خرید میڈیا کے ذریعے پاکستان کی اسلامی فکر کی جڑماری جاسکے یہ وہ کلہاڑی تھی جس نے مشرف کے پیر کو بھی زخمی کیا اور جس وقت اس نے امریکی مطالبے پر مزید ” ریڈلائن“ عبور کرنے سے انکار کیا تو یہی میڈیا اس کے خلاف استعمال کیا گیا۔
آج اسی میڈیا کا بڑا حصہ بھارت نوازی کا کھلے عام راگ الاپ رہا ہے۔ جہاں تک وہ بڑی سیاسی جماعتوں کاتعلق ہے تو یہ پہلے سے ہی این آر او کے ” بندھن“ میں بندھ چکی ہیں۔ این آر او صرف مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان سیاسی سودے بازی تک محدود نہیں تھا۔ بینظیر کے قتل کے بعد این آر او کروانے والے بین الاقوامی قوتیں جن میں امریکہ اور برطانیہ سر فہرست تھے ۔
نون لیگ او پی پی کے زرداری گروپ کو قریب لے آئے تھے اس کے بعد جو ہوا وہ قوم تاحال بھگت رہی ہے۔ پہلے زرداری گروپ کو کھل کر لوٹ مار کرنے کی اجازت دی گئی اب نون لیگ کی قیادت اپنے پرانے ” طریقہ واردات“ پر ہے جس کا نتیجہ یہ نکل اہے کہ مہنگائی نے قوم کی کمر توڑ دی ہے۔ ڈالر کے معاملے میں مشرف دور کی مثال دینے والے اس بات کو مد نظر رکھیں کہ عالم ی صہیونی مالیاتی اداروں نے جان بوجھ کر مشرف کے دور میں مہنگائی میں اس لئے اضافہ نہیں ہونے دیا تھا کہ مشرف حکومت کو عوامی رد عمل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ پاکستان میں اسلام پسند قوتوں کے خلاف آسانی سے کارروائیاں کر تا رہے۔
یہ بالکل اسی طرح ہے کہ مصر میں اسرئیل نواز جرنیل کے اقتار پر قبضے کے بعد مصر کی معاشی صورتحال انتہائی مخدوش ہوگئی لیکن مصری قوم کے خلاف اس آمر کے اقتدار کو طول دینے کیلئے اس پر کئی بین ڈالر کی امدد کی بارش کردی گئی تاکہ مصر میں خوانیوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہے ۔ یہی پالیسی مشرف دور میں عالمی مالیات اداروں کی تھی کہ پاکستان کے قرضوں کو ری شیڈول کر کے معاشی بحران نہ پیدا ہونے دیا جائے تاکہ امریکہ مطالبے پر ہونے والی کارروائیوں میں کوئی رخنہ نہ پڑے لیکن جب مشرف نے ایک خاص حد سے آگے جانے سے انکار کیا تو بعد کے حالات سب کے سامنے ہیں۔
ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں ہورہا باہر وہ ملک جو امریکی پالسی کے سامنے بند باندھنے پر تل جاتا ہے وہاں سب سے پہلے معاشی بحران سر اٹھاتا ہے اس کے بعد لبرل قوتوں کو کھڑا کر کے ملک میں سیاسی افراتفری مچادی جاتی ہے۔ ان حالات کا مقابلہ صرف ایک ہی صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ ملک میں کرپشن کو آہنی ہاتھوں سے ختم کردیا جائے اس کیلئے ضروری ہے کہ مغرب کا سودی نظام پہلے ختم کیا جائے اور کاغذ کی فراڈ کرنسی کی بجائے سونے اور چاندی جیسے حقیقی زر کو کرنسی کے طور پر استعمال میں لایا جائے جب کرپشن ختم ہوگی تو معاشی بحران خود بخود دم توڑدے گا۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-06

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان