بند کریں
جمعرات مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
درندگی کی انتہا
شام میں حضرت اویس قرنی اور عمار بن یاسر کے مزارات پر حملے۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر اور حضرت اویس قرنی کے مزارات پر حملے کی خبروں نے مسلمانوں کے دل ہلا کر رکھ دئیے۔ پاکستان میں ان واقعات پر احتجاج کاسلسلہ جاری ہے
زبیر احمد اکمل:
شام میں مساجد ، مقدس مقامات اور عظیم بزرگ شخصیات کے مزارات پر حملے اور انہیں گرانے کے واقعات سے عموماً عالم اسلام اور خصوصاً پاکستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ حضرت عمار بن یاسر اور حضرت اویس قرنی کے مزارات پر حملے کی خبروں نے مسلمانوں کے دل ہلا کر رکھ دئیے۔ پاکستان میں ان واقعات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
علماء کرام نے ان واقعات کو کھلی درندگی قرار دیا ہے۔ جب کہ مذہبی شخصیات نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ”او آئی سی “ کو اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ حضرت عمار بن یاسر  جلیل القدر صحابی ہیں۔ ابتدائی دور میں اسلام کا پرچم بلند کرنے کا اعزاز بھی آپ کو حاصل ہے آپ پر اور آپ کے خاندان پر کفار نے بے انتہاء ظلم کیا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ کافر جب حضرت عمار کو اذیتیں دیتے تو چیخوں کی آوازیں باہر تک سنائی دیتی تھیں۔
نبی مکرم سیدنا رسول اللہ باہر سے گزر رہے تھے حضرت عمار نے عرض کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول ظالموں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا تم سے وعدہ ہے اللہ تعالیٰ اذیتوں کے بدلے میں تمہیں جنت عطا کرے گا۔ ایک روایت میں درج ہے کہ آپ کے والد حضرت یاسر اور والدہ حضرت سمعیہ تینوں کو کافر اذیتیں دے رہے تھے۔ جرم یہ تھا کہ انہوں نے کلمہ توحید پڑھ لیا تھا۔
اور نبی مکرم کی قبول کر لی تھی۔ آپ نے تینوں کے لئے اعلان فرمایا اے آل یاسر  صبر کرو میرا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور میرے اللہ کا وعدہ ہے کہ تم کو جنت ملے گی۔ ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت عمار کو اتنا مارا گیا کہ آپ کے خون کے چھینٹے بیت اللہ شریف کی دیوار پر بھی لگے۔ حضرت امام احمد کی روایت کے مطابق اسلام میں شہادت کا مرتبہ سب سے پہلے حضرت عمار کی والدہ حضرت سمیعہ کو حاصل ہے۔
حضرت اویس قرنی یمن کے گاؤں ”قرن“ کے رہنے والے تھے آپ کی والدہ نابینا تھیں۔ بہت ضعیف اور کمزور ہو گئی تھیں۔ والدہ کی خدمت کی وجہ سے نبی محترم کی خدمت میں حضرت اویس حاضر نہ ہو سکے لیکن آپ کی تعریف حضور نے صحابہ کرام کے سامنے فرمائی مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضور نے حضرت عمر سے فرمایا اے عمر! یمن سے جہاد کے لئے آنے والی جماعتوں میں قبیلہ مراد میں سے ایک شخص اویس نامی آئے گا وہ اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے اللہ تعالی کے ہاں اس کا یہ مرتبہ ہے کہ اگر وہ کسی معاملے پر قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو ضرور سچا کر دے گا۔
اور فرمایا عمر جب ان سے ملو تو ان سے دعائے مغفرت کروا لینا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا اے عمر ! دوسری روایت اے علی! جب تم اویس سے ملو تو میرا سلام اس سے کہنا اور دعا بھی کرانا۔ چنانچہ حج کے موقع پر حضرت عمر کی حضرت اویس سے ملاقات ہوئی تو اپنے لئے انہوں نے دعا کروائی اس موقع پر ساتھ حضرت علی بھی موجود تھے۔ یقیناً یہ شخصیات عظیم مرتبے اور بڑی شان والی ہیں اور آج ان کے مزارات اور مساجد پر حملے کی خبریں نشر ہوئیں تو عالم اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی پاکستان کی دینی جماعتوں نے ان واقعات کے سدباب کے لئے اسلامی سربراہی کانفر نس کے کردار پر زور دیا ہے۔
اس حوالے سے مختلف رہنماؤں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے راہ نما پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ شام میں ہونے والے واقعات مسلمانوں کے لئے دلی دکھ اور رنج کا باعث ہیں اور ہر مسلمان ان واقعات کی مذمت ہی نہیں کرتا بلکہ نفرت کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ تو وہ شخصیات ہیں جن کی تعریفیں خود اللہ کے نبی سید رسول اللہ فرماتے ہیں۔
یقیناً مساجد اور ایسی ہستیوں کے مزارات کو بم دھماکوں سے ختم کرنا درندگی ہے اور ان دلخراش واقعات کو کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ ایسے اندوہناک سانحہ میں ملوث عناصر اور ان کے سرپرست ہرگز قابل رحم نہیں ہیں مسلم امہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ شام میں ہونے والے ان واقعات کا نوٹس لے اور ان کے سد باب کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ جماعت اسلامی کے راہ نما لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلامی ممالک کی بدقسمتی ہے کہ بیرونی طاقتیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہیں حضرت عمار بن یاسر اور حضرت اویس قرنی  کے مزارات اور مسجد پر حملے ہمارے نزدیک عالمی درندگی ہے۔
اس قسم کے واقعات ناقابل برداشت ہیں شام میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ عالم اسلام کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔شام کی حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے واقعات کو روکے اور ان کے پیچھے سازشوں کو بے نقاب کرے۔ جمعیت علماء اسلام کے راہ نما مولانا محمد امجد خان نے کہا کہ آج ان ہستیوں کی مساجد اور مزارات بموں کے دھماکوں سے گونج رہے ہیں جنہوں نے اسلام کے لئے اپنے خون سے تاریخ رقم کی ہے اور جن کا مقام و مرتبہ مسلمہ حقیقت ہے۔
احادیث اور سیرت کی کتابیں ان کے عظیم مرتبے کی گواہ ہیں ہمارے نزدیک یہ واقعات کی روک تھام کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے اور کوئی پالیسی مرتب کرنی چاہئیے۔ شام کی حکومت ایسے مٹھی بھر لوگوں کو بے نقاب بھی کرے اور عظیم ہستیوں کے مزارات اور ملحقہ مساجد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔عالم اسلام خصوصاً پاکستان ان واقعات پر سراپا احتجاج ہے ہمارا مطالبہ ہو گا کہ حکومت پاکستان اس حوالے سے آواز بلند کرے۔
جمعیت علماء پاکستان کے راہ نما قاری محمد زوار بہادر نے کہا کہ حضرت عمار اور حضرت اویس کے مزارات اورملحقہ مساجد پر حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ ان واقعات پر ہر پا کستانی کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے یقیناً مسلمان ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اسلامی ممالک کی قیادت کو خواب غفلت سے جاگنا چاہئیے اور اسلام کے عظیم سپوتوں کی مساجد اور مزارات کا تحفظ کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-05

(2) ووٹ وصول ہوئے