بند کریں
جمعرات مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بوکوحرام پُر امن نائیجریا کے لئے سوچا سمجھا عذاب!!
نائجیریا کے علاقے چیبوک کے ایک سکول سے276طالبات کو اغوا کرنے کے بعد اللہ کا حکم کہہ کر فروخت کرنے کابیان جاری کرنیوالی شدت پسند تنظیم بوکوحرام پر یہ بھی الزام ہےکہ وہ رات کےوقت حملےکرتی ہے،چرچوں کوآگ لگاتی ہے
مصنف : اشفاق رحمانی
عالمی نشریاتی ادارے کی طرف سے اچانک دو خبریں منظر عام پر آئی ہیں جس میں پہلے نمبر پر یہ خبر تھی کہ شدت پسندوں نے جن 276 لڑکیوں کو اغوا کیا تھا ان میں سے 57 بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ جبکہ مقامی نشریاتی اداروں کے مطابق بوکو حرام کے مشتبہ شدت پسندوں نے مزید 20 لڑکیوں کو اس علاقے سے اغوا کیا ہے جہاں سے وہ پہلے تقربیاً 200 لڑکیوں کو مغوی بنا چکے ہیں۔
بورنو ریاست میں مشتبہ شدت پسند لڑکیوں کو بندوق کی نوک پرگاڑیوں میں لاد کر کسی نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔حالیہ واقعے سے پہلے اپریل میں بوکو حرام کے مسلح ارکان نے نائجیریا کے علاقے چیبوک کے ایک سکول سے 200 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کیا تھا جو تاحال ان کے پاس قید ہیں۔یاد رہے کہ پانچ ہفتے پہلے اسلام پسند سلفی مسلک سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیم بوکو حرام نے276طالبات کو ایک سکول سے اغوا کر لیا تھا۔
یہ واقعہ نائجیریا کے علاقے چیبوک کے ایک سکول میں پیش آیا آخری اطلاعات تک جن لڑکیوں کو اغوا کیا تھاوہ تاحال بوکو حرام کے پاس مغوی ہیں۔بوکو حرام ان لڑکیوں کی رہائی کے بدلے اپنی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مغربی طرز تعلیم کو حرام سمجھنے والے شدت پسند تنظیم نے 276 طالبات کو اغوا کرنے کے بعد اللہ کا حکم کہہ کر فروخت کرنے کا بیان جاری کر دیا جس سے پوری دنیا میں اغوا کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ ابھی تک ملزمان کی شناخت نہیں ہو سکی۔حیران کن خبر یہ ہے کہ نائجیریائی فوج کے دس جرنیلوں اور پانچ دیگر اعلیٰ عہدیداروں پر بوکو حرام کی امداد کا الزام ہے۔دوسری طرف آسٹریلیا کے ڈاکٹر سٹیفن نے نائجیریا میں عالمی نشریاتی ادارے کے نمائندے کو بتایا کہ انھوں نے بعض مغوی لڑکیوں سے ملاقات کی ہے۔ان کے مطابق ’ان میں سے بعض لڑکیاں ایک کیمپ میں اسلام پسند گروپ بوکو حرام کے اپنے اغواکاروں کے کپڑے دھو رہیں ہیں تو بعض دوسرے کیمپ میں ان کے لیے کھانا پکا رہی ہیں۔
جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دو سو سے زائد طالبات کو اغوا کرنے والی نائجیریا کی شدت پسند تنظیم بوکو حرام پر پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔ان پابندیوں کے تحت بوکو حرام کا شمار بھی القاعدہ اور اْس سے منسلک ان تنظیموں میں ہو گا جن پر ہتھیاروں کی پابندی ہے اور جن کے اثاثے منجمد ہیں۔
بوکوحرام نائجیریا کی شدت پسند مسلح تنظیم ہے۔
اس تنظیم کا پورا نام جماعاہل السن الدعوة والجہاد ہے۔یہ تنظیم مغربی طرز تعلیم کو حرام سمجھتی ہے اس لیے اس کا نام بوکو حرام پڑ گیا اور اسی نام سے یہ مشہور ہے۔ ہاوٴسا زبان میں بوکو حرام کا لفظی مطلب ”مغربی تعلیم حرام ہے“ ہوتا ہے۔اس کی ابتدا محمد یوسف نامی سکالر نے رکھی جو 2009 میں مارے گئے۔ اس کے بعد اس گروپ کے کئی دھڑے ہو گئے۔ سب سے مضبوط دھڑا ابوبکر شیخاوٴ کا ہے۔
نائجیریا کے صوبوں مدو غری، قدونہ، کانو اور یوبے میں ان کا زیادہ اثر ہے۔ اس کی ابتدا ء اپنے مخالفین کے بے رحمانہ طور پر ٹارگٹ کلنگ سے شروع ہوئی اور اکثر واردات کے بعد فرار ہونے کے لئے موٹرسائیکل استعمال کی جاتی تھیں۔ ہلاک ہونے والے مخالفین کی اکثریت نمایاں اسلامی رہنما تھے۔
اس تنظیم نے 2009 سے نائجیریا کے خلاف بغاوت شروع کر رکھی ہے۔
2009 میں بوکوحرام کی بغاوت شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ مختلف پولیس تھانوں اور فوجی بیرکوں پر حملہ کر کے وردیاں اور ہتھیار لوٹنے کے بعد ان کی مدد سے نہ صرف دہشت گرد حملے کئے بلکہ بینک بھی آسانی سے لوٹے۔شیخاوٴ کی قیادت میں بوکوحرام نے بم دھماکوں اور اغوا کی وارداتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس دوران کئی غیرملکی بھی اغوا کیے گئے ہیں۔
اپریل2014 میں شمالی نائجیریا کے ایک سکول سے دو سو سے زائد طالبات کو اغوا کیا گیا، اور بعد میں اس بارے میں شیخاوٴ نے جو بیان دیا اس کے مطابق اس نے ان لڑکیوں کو فروخت کر دیا۔ اپنی اس حرکت کے لیے اس نے جو جواز پیش کیا ، اس میں کہا کہ یہ لڑکیا ں اللہ کی ملکیت تھیں، مجھے اللہ نے حکم دیااور میں نے اللہ کی ملکیت ان لڑکیوں کو فروخت کر دیا۔بوکو حرام کا نظریہ جہاد اور دیگر نظریات تعلیمات اسلامی کے برعکس ہیں۔
متعدد علماء نے اس سلسلے میں باقاعدہ بوکوحرام کے طرزِ استدلال کو باطل قرار دیتے ہوئے، فتاوی بھی جاری کئے ہیں۔
نائیجریا کی عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکارہ اڈوکیا نے 200 سے زائدسکول طالبات کی رہائی کے بدلے خود کو اسلام پسند دہشت گرد تنظیم بوکو حرام کی قید میں دینے کی پیشکش کی ہے۔جن کو اسی سال اپریل میں بوکو حرام کے جنگجووں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
نائیجریا کے معروف اخبار "وینگارڈ" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "رات کے گیارہ بجے ہیں، آپ کو پتا میں کیا سوچ رہی ہوں؟ وہ ننھی بچیاں کہاں ہیں، نہ جانے اس کے ساتھ بیت رہی ہو گی؟ یہ سب ناانصافی ہے۔ وہ بہت چھوٹی ہیں۔ کاش میں ان کی رہائی کے بدلے خود کو بوکو حرام کے جنگجووں کو پیش کر سکوں؟یاد رہے کہ اڈوکیا نائیجریا میں صرف گلوکاری کی وجہ سے مشہور نہیں بلکہ ان کی عوامی مقبولیت کے پیش نظر اقوام متحدہ نے انہیں امن کا سفیر بھی مقرر کر رکھا ہے۔

نائیجریا سمیت مختلف ممالک پر مشتمل مذاکرات کار جن میں اینگلیکن کلیسا کے پادری ڈاکٹر سٹیفن ڈیوس کے مطابق رہائی کے لیے بات چیت کرنے والے ان میں سے بعض لڑکیوں کو رہائی دلانے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے لیکن بوکو حرام کے کمانڈروں نے آخری وقت میں گرفتاری کے خوف سے اپنے ارادے بدل دیے۔ان کے حالیہ بیان کے مطابق سکول سے اغو کی جانے والی بیشتر طالبات کو ملک کے باہر تین مختلف کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔
مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ طاقت کے استعمال سے ان طالبات کی رہائی کی کوشش نقصان دہ ثابت ہوں گی کیونکہ بوکو حرام اغوا کی مزید کوششیں شروع کر دیں گے۔اس سے قبل نائجیریا میں پولیس نے دارالحکومت ابوجا میں مغوی طالبات کی رہائی کے لیے ہونے والے مظاہروں پر پابندی لگا دی ہے ۔ایک خبر یہ بھہ ہے کہ مغوی طالبات کی رہائی کے لیے بات چیت حتمی مراحل تک پہنچ گئی تھی کہ نائجیریا کی حکومت نے مذاکرات ختم کر دیے۔
یہ بھی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ طالبات کو اسلامی شدت پسندوں کے بدلے رہا کیا جانا تھا۔ بوکو حرام ان لڑکیوں کی رہائی کے بدلے اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔نائیجریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق نائجیریا کے صدر گڈ لک جوناتھن نے حال ہی میں بوکو حرام کے خلاف ’مکمل جنگ‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں فوجی حکومت ختم ہونے کے 15 سال مکمل ہونے پر ’یومِ جمہوریت‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گڈ لک جوناتھن نے کہا کہ ’بین الاقوامی دہشت گردی سے نائجیریا کی ترقی کو خطرہ ہے۔
نائجیریا کے صدر گڈ لک جوناتھن نے اپنی سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ ہماری سر زمین پر دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ایک مکمل فوجی آپریشن شروع کریں۔بیان کے ایک ہفتے بعد ہی نائجیریا کی فوج کو ملک کے شمال میں شدت پسندوں کے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔شدت پسند کارروائیوں کی روک تھام کے لیے بنائے گئے مقامی گروپ کے ایک رکن نے بتایا کہ لڑکیوں کو اغوا کرنے کے ساتھ شدت پسند ان تین مردوں کو بھی اغوا کر کے ساتھ لے گئے جنھوں نے انھیں روکنے کی کوشش کی تھی۔
بوکو حرام کو نائجیریا کی درخواست پر القاعدہ اور اس کی اتحادی تنظیموں میں شامل کیا گیا ہے۔طالبات اغوا سے دو دن پہلے اسی شہر میں حملہ آوروں نے فارم کے مزدوروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ حملہ آور کاروں اور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔ بوکو حرام کو اس کے اسی انداز سے بھی پہچانا جاتا ہے۔اس لوٹ مار سے قبل وسطی شہر جوس میں یکے بعد دیگرے دو بم دھماکوں میں کم از کم 118 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
نائجیریائی حکام اس کا ذمے دار بھی بوکو حرام ہی کو قرار دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں نائجیریا کے مستقل مندوب یو جوئے اوگویو نے کہا کہ مسئلے کے حل میں پہل کی جائے خاص طور پر جب مسئلہ دہشت گردی ہو۔دو ہفتے پہلے بوکو حرام نے ایک ویڈیوجاری کی تھی جس میں مغوی طالبات کو برقعوں میں ملبوس بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اقوام متحدہ سے اس سلسلے میں جاری کی جانے والی دستاویز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بوکو حرام کے ارکان نے القاعدہ کے ملحقہ اداروں سے تربیت حاصل کی اور مالی میں ان کے ساتھ مل کر کارروائیاں کیں۔
نائیجریا میں ہونے والے افسوس ناک واقعہ کو گزرے چھ ہفتے ہونے کو ہیں تاہم ابھی تک شدت پسند گروپ کی طرف سے باضابطہ کو ڈیمانڈ سامنے نہیں آئی ہے۔پُر امن نائیجریا پر مسلک کے نام سے یہ عذاب کب تک جاری رہتا ہے اس بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم ایک بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے دنیا بھر میں شدت پسند تنظیموں میں اسلامی شدت پسند تنظیموں کے ناموں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     اشفاق رحمانی

اشفاق رحمانی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان