بند کریں
جمعہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بہار کے انتخابات میں بی جے پی کو عبرتناک شکست
بہار کے لوگوں نے مودی کے منہ پر طمانچہ رسید کرتے ہوئے بی جے پی کے گائے کارڈ اور پاکستان مخالف بیانات، انتہا پسندی اور نفرت کی پالیسیوں کو مسترد کردیا
بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کو بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار، سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد اور کانگریس پر مشتمل تین جماعتی اتحاد بھاری اکثریت سے جیت گیا۔ بہار کے لوگوں نے مودی کے منہ پر طمانچہ رسید کرتے ہوئے بی جے پی کے گائے کارڈ اور پاکستان مخالف بیانات، انتہا پسندی اور نفرت کی پالیسیوں کو مسترد کردیا۔
نتیش کمار تیسری بار بہار کے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ ریاستی انتخاب کے پانچ مرحلوں کے دوران وزیر اعظم مودی کل 8 بار بہار آئے اور انہوں نے 17 ریلیوں سے خطاب کیا۔ انتخابی مہم کے دوران مذہبی فرقہ واریت کا رنگ بھی غالب رہا، ریاستی اسمبلی کی کل 243نشستوں کے انتخاب کیلئے بی جے پی نے تین دیگر جماعتوں کے ساتھ این ڈی اے کے اتحاد کے نام سے الیکشن لڑا۔
وزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار کی جماعت جنتا دل (یونائیٹڈ)، لالو پرساد کی راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس نے نتیش کمار کی قیادت میں مل کر الیکشن لڑا۔ انتخابی نتائج کے مطابق وزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار کی جنتادل یونائیٹڈ نے 101نشستوں پر الیکشن لڑا اور 71سیٹیں جیت لیں، کانگریس 41 نشستوں پرمیدان میں اتری اور27 اپنے نام کرلیں، لالو پرساد کی راشٹریہ جنتادل نے بھی 101 میں سے 80 نشستیں جیت لیں، اس طرح تینوں اتحادی جماعتوں نے کل 178 نشستیں اپنے نام کرلیں، جبکہ بی جے پی صرف 53 اور تین اتحادی جماعتیں صرف 5 نشستیں ہی حاصل کرپائیں، اس طرح این ڈی اے نے 58 نشستیں حاصل کیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ٹیلی فون کیا اور جیت پر مبارکباد دی۔ نتیش کمار نے ایک ٹوئٹ میں بہار کے لوگوں کا زبردست حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ہم آپ کی زبردست حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم اپنی فتح میں باوقار رہیں گے۔ لالو پرساد نے پٹنہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہاپسندی کی شکست ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہی رہیں گے۔ لالو پرساد نے کہا کہ نتیش کمار کی حکمرانی میں بہار کے عوام ترقی کرینگے۔ دریں اثناء لالو پرساد اپنی اہلیہ کے ہمراہ نتیش کمار کی رہائش گاہ پہنچے ، جہاں دونوں رہنماوٴں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ لالو پرساد نے اس موقع پر مودی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کو دہلی میں ایک دن بھی رکھنا ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے مترادف ہے۔
ہم نریندر مودی کی فاشسٹ حکومت کو بھارت سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ لالو نے کہا کہ مودی کو اب استعفیٰ دے کر گجرات چلے جانا چاہیے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے نتیش کمار کو ٹیلی فون کر کے جیت پر مبارکباد دی۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے نیتیش کمار کو مبارک باد دی اور کہا ہے کہ یہ رواداری کی جیت اور عدم رواداری کی ہار ہے۔ نئی دہلی کے وزیر اعلٰی کجریوال نے کہا کہ بہار میں شکست نے مودی اور امیت شاہ کا غرور خاک میں ملادیا ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ مودی کے خلاف ریفرنڈم ہے۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ اب وزیر اعظم مودی غیر ملکی دورے کینسل کر کے صرف ملک میں ترقی پر ہی توجہ دینگے۔ ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا نے بہار کے ریاستی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر نتیش کمار کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کو بہار انتخابات میں شکست کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بہار والوں نے ثابت کردیا ہندو کو مسلمان سے لڑ اکر کوئی نہیں جیت سکتا، یہ رعونت پر انکسار کی، نفرت پر محبت کی اور بٹوارے پر ایکتا کی جیت ہے ، بہار کے نتائج نے وزیر اعظم مودی کو یہ پیغام دیا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ملک کو تقسیم نہیں کر سکتے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی کا ہارنا مودی کی ذاتی شکست ہے۔ اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیر اعظم نے کسی ریاستی انتخابات کی مہم اس قدر حصہ نہیں لیا تھا۔ جے ڈی یو کے سرکردہ رہنما شرد یادو نے کہا کہ یہ جیت عوام میں پائی جانے والی بے چینی کی جیت ہے۔ پٹنہ میں جنتا دل یونائیٹڈ کے دفتر کے سامنے جشن کا ماحول ہے۔
کارکنوں نے بھر پورجشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخاب بہار ہی نہیں بلکہ بھارت کے مستقبل کی سمت و رفتار کا بھی تعین کرے گا۔ بہار کی کل آباد ی کا 15فیصد مسلمان ہیں، مبصرین کے مطابق الیکشن مہم کے دوران بی جے پی رہنماؤں کے مسلم مخالف بیانات پر یہ تمام ووٹ اس کے خلاف ہی پڑے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بی جے پی نے الیکشن سے 6 ہفتے قبل انتخابی مہم شروع کی اور اس دوران 600 سے زائد جلسے و ریلیاں منقعد کیں۔ بی جے پی کی رواں سال دوسری شکست ہے ، فروری میں بی جے پی کو دہلی میں بھی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-26

(0) ووٹ وصول ہوئے