تازہ ترین : 1
Bharti Jailon Se 189 Pakistani Qaidi Ghaib

بھارتی جیلوں سے 189پاکستانی قیدی غائب

بھارت روایتی دھوکہ دہی کی روش پرقائم پاکستانی فہرست کے مطابق 460قیدیوں کی فہرست میں 271پاکستانی درج ہیں بھارتی وزیراعظم کے حالیہ دورہ لاہور سے یقینا امن کی آشا کاراگ الاپنے والوں کی باچھیں کھل گئی تھیں اور۔۔۔

رابعہ عظمت :
بھارتی وزیراعظم کے حالیہ دورہ لاہور سے یقینا امن کی آشا کاراگ الاپنے والوں کی باچھیں کھل گئی تھیں اور انہوں نے اس اقدام کے نتیجے میں نریندرمودی کی تعریف کے لئے زمین وآسمان کے قلابے ملا دئیے تھے لیکن انہیں یہ یادرکھناچاہیے کہ بھارتی حکمران چاہے ان کاتعلق کانگریس سے ہویابی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی سے وہ ایک ہی شاستری اصول ”بغل میں چھری ، منہ میں رام رام، پرہی عمل پیرا ہیں۔
بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے۔ انہیں گائے کاگوشت کھانے پرذبح کیا جا رہاہے۔ گھرواپسی یوپریورتن دھرم کے فارمولے پرکروایاجارہاہے۔ ایسانہ کرنے کی صورت میں انہیں پاکستان چلے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پاکستانی فنکاروں پربھی بھارت میں داخلے پرپابندی عائدکردی گئی ہے اور اب بھارتی جیلوں میں دو سوپاکستانی قیدیوں کے غائب ہونے کے انکشاف نے بھارت کی پاکستان مخالف مہم پرمہرتصدیق ثبت کردی ہے۔
قیدیوں کی گمشدگی کی اطلاع اس وقت ملی جب پاکستان اور بھارت دونوں ممالک نے نئے سال یکم جنوری 2016ء کو ایک دوسرے کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کاتبادلہ کیا۔ بھارت کی طرف سے دی گئی فہرست میں 271پاکستانیی شامل ہیں، جبکہ پاکستانی فہرست میں 113ماہی گیروں سمیت 460پاکستانی قیدی درج ہیں۔ تاہم بھارت کی جانب سے پیش کردہ فہرست میں قیدیوں کی تعداد کم ہونے پاکستانی حکام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں بھارتی سیکرٹری خارجہ رواں ماہ 25جنوری کوپاکستان کا دورہ کریں گے۔ واضح رہے کہ 2008ء سے پاکستان اور بھارت ایک معاہدے کے تحت سال میں مرتبہ یکم جنوری اور یکم جولائی کوقیدیوں کی فہرست کاتبادلہ کرتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی طویل سرحد اپنی بھیڑبکریاں چراتے ہوئے یاغلطی سے قریبی شہریوں کاسرحدپار کرجانا معمول کی بات ہے مگربھارتی فوجی انہیں رہاکرنے کے بجائے جاسوس قراردے کرانہیں غیر قانونی طور پر جیلوں میں ڈال دیتے ہیں۔
ان بھارتی عقوبت خانوں میں ان پاکستانی قیدیوں پراس قدر ظلم ڈھایا جاتاہے کہ یاتووہ شخص ہلاک ہوجاتاہے یاپھرذہنی توازن کھوبیٹھتا ہے۔ جس کی بدترین مثال سیالکوٹ کے سرحدی علاقے کے رہائشی نوجوان شوکت علی کی ہے جوغلطی سے سرحد پارکرکے بھارتی فوج کے ہتھے چڑھ گیاتھااور تشددسے حراست کے دوران ہی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بھارتی جیلوں میں قیدپاکستانیوں پربھارتی حکام اس قدر تشدد کرتے ہیں کہ یاتووہ پاگل ہوجاتے ہیں یاپھرخود کشی پرمجبور ہوجاتے ہیں مگرافسوس تواس بات کاہے کہ ہمارے اعلیٰ حکام ان قیدیوں کی رہائی کے لئے کوئی موثر اقدام نہیں اٹھاتے اور نہ ہی ان کے خلاف روا رکھے جانے والے وحشیانہ سلوک پرآواز اٹھاتے ہیں۔
بھارتی جیلوں میں قیدپاکستانیوں کی گمشدگی نہایت تشویشناک امرہے۔ خطرہ ہے کہ بھارتی حکومت انہیں کہیں لے جاکردہشت گردی کی کسی بوگس کارروائی میں ملوث کرسکتی ہے یاانہیں جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک بھی کرسکتی ہے۔ اس لئے ہماری حکومت کافرض بنتاہے کہ وہ ان گمشدہ افراد کے بارے میں فوری پتہ چلائے ۔ پاکستان سے توبھارتی دہشت گردوں کو انسان ہمدردی کے نام پر رہاکیا جاتارہتاہے اور یہ خوش آئندسلسلہ جاری ہے لیکن بھارتی حکام کے مسلم مخالف رویے میں کوئی فرق نہیں آیا۔
اب بھارتی حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ بھارتی جیلوں میں موجود تمام پاکستانی قیدیوں کی رہائی کیلئے مذاکرات کرے اور ان کی باحفاظت پاکستان واپسی کوممکن بنائے۔ 2000ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک جوڈیشل کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اس کامقصد یہ تھا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ اعلیٰ حکام سال میں تین یاچاربار ایک جگہ مذاکرات کریں گے تاکہ دونوں کی جیلوں میں قید شہریوں کاخیال رکھاجاسکے تاکہ ان سے کسی قسم کی زیادتی نہ ہوپائے۔
اس جوڈیشل کمیٹی میں دونوں ممالک کے چند افراد مسلسل آٹھ سالوں تک باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے ہیں لیکن پھر بھارتی روایتی ہٹ دھری سامنے آگئی اور اس نے نہایت بداخلاقی کامظاہرہ کرتے ہوئے جوڈیشل کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہونے سے صاف انکارکردیا۔ پاکستان میں امن کی آشاکاڈھنڈوراپیٹنے والے کیا بھارت کامظاہرہ کرتااور مقبوضہ کشمیر کی بھلوال جیل میں قید ثناء اللہ کی ہلاکت کامعاملہ عالمی سطح پراٹھاتا تو آج بھارت میں ہمیں دھوکہ دینے کی ہمت نہ ہوتی کہ جس دھوکہ دہی کی روش پرقائم رہتے ہوئے اس نے 189پاکستانی قیدیوں کی فہرست سے غائب کردئیے۔
ہندوستان کی جیلوں میں قیدپاکستانیوں کی اکثریت ماہی گیری کے طبقے سے ہی جوغریب سمندر حدود کے قواعد سے لاعلمی کی بناء پردھرلئے جایتے ہیں اور وہاں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ حالانکہ ماہی گیروں کادیرنیہ مطالبہ وہی ہے جواقوام متحدہ کے آرٹیکل 73کے عین مطابق ہے جس کی روسے ماہی گیری کے دوران مچھیروں کوگرفتار نہیں کیاجاسکتا۔ لیکن ستم طریفی یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان ک کشیدہ تعلقات کے ساتھ ساتھ ہندو بنیے کی فریب دینے کی روایتی عادت اور ماہی گیروں کی رہائی کے حوالے سے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے اکثر قیدی اپنی سزاکی مدت پوری ہونے کے باوجود بھی جیلوں میں قید رہتے ہیں۔
جیساکہ صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ تعلقہ کھارومچھاں میں شاہ بندر کے قریب ایک جزیرے پرواقع گاؤں آتھر کے ماہی گیروں کی اکثریت ہندوستانی جیلوں میں قیدہے۔ ان کاقصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ یہ بھارتی ریاست گجرات کی بھوج جیل میں قید وبندکی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی سے ہندوستان کی سرحد تک 17مقامات ایسے ہیں جہاں دریائے سندھ کاپانی سمندرسے ملتاہے۔
ان مقامات کوکریک کہاجاتاہے سب سے آخری کریک کاجر کریک اور سرکریک ہیں۔ جس پربھارت اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتاہے جبکہ ماہی گیر بھارتی جیلوں سے رہاہوکرآتے ہیں توان کی لانچیں بھی واپس ہیں کی جاتیں۔ گزشتہ دنوں ایک ولخراش واقعہ میں بھارتی کوسٹ گارڈکے افسرنے ایک پاکستانی ماہی گیرکواس کیکشتی سمیت بم سے اڑا دیا تھا۔ جس پربھارتی حکام نے خود کشی کاڈرامہ چایا۔
حالانکہ بھارتی کوسٹ گارڈ کے افسرنے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہاتھا کہ اس نے خود کشتی اڑانے کاحکم دیاتھا۔ یہ غریب مچھیرے غلطی سے ہندوستان کی حدودمیں داخل توہوتے ہیں لیکن پھرمہنیوں نہیں بلکہ سالوں کی قید ان کامقدربن جاتی ہے اوروہ زندگی کے بیش قیمتی سال بھارتی جیلوں کیکال کوٹھڑیوں کے اندھیروں میں ہی گزاردیتے ہیں۔ جس کی واضح مثال دوپاکستانی ماہی گیروں کی بھارتی جیل سے 22سال بعد رہائی کاواقعہ ہے جبکہ سینکڑوں پاکستانی قیدی کئی سالوں سے عدالتی کارروائی کے منتظر ہیں جس پربھارتی سپریم کورٹ نے بھی یشویش کااظہار کیاتھا۔
بھارتی جریدے ”ایکسپریس“ کے مطابق مقبوضہ کشمیر نیشنل پینتھرزپارٹی کے سربراہ بھیم سنگھ کی جانب سے مفاد عامہ میں دائر کی گئی ایک درخواست میں یہ مئوقف اپنایاگیاتھا کہ بغیرکسی عدالتی کارروائی کے بھارتی جیلوں میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد قیدہے۔ عدالت کومزید بتایاگیا کہ ان قیدیوں میں سے زیادہ ترافراد کومقبوضہ کشمیرکے شمال مغربی علاقے کی جیلوں میں رکھاگیاہے۔
ان میں سے بیشتر کاجرم صرف اتنا ہے کہ انہوں نے غلطی سے سرحد پارکرلی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ان قیدیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کی دیگر ریاستوں میں بھی پاکستانی بغیرکسی عدالتی سماعت کے جیلوں میں بند ہیں۔ کشمیریی وکلاء کی تنظیم کشمیر ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن نے مقبوضہ کشمیر کی جیلوں کادورہ کرنے کے بعد تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہاگیاتھا کہ جموں میں قید پاکستانیوں کو سونے کیلئے بستربھی فراہم نہیں کیاجاتا۔
ہندوستانی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں پرہونے والے حملوں میں بھی بھارتی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہماری حکومت بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی گمشدگی ان پرتشدد اور ہلاکتوں کامسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھائے اور بھارت کو دہشت گرد ملک قراردلوانے کیلئے باقاعدہ قراردادپیش کی جائے۔ موجود حالات دواقعات کے پیش نظر بھارتی دہشت گردی کامنہ توڑجواب دینے اور ہندوستان کابھیانک چہرہ پوری دنیاکے سامنے نے نقاب کرنا اشد ضروری ہے۔
بھارتی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کے ساتھ رحمانہ سلوک عام سی بات ہے۔ انہیں انسانی ضروریات سے بھی محروم رکھاجاتاہے۔ تنظیم حقوق انسانی کے مطابق بھارت کی جیلوں کاشماردنیاکی بدترین جیلوں میں ہوتاہے۔ یہاں پاکستانی قیدیوں سے انتہائی انسانیت سوزسلوک روارکھاجاتاہے۔ طرح طرح کی ذہنی وجسمانی اذیتیں دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے کئی قیدی اپنا ذہنی توازن کھوبیٹھے ہیں۔
ان پروحشیانہ تشدد کیاجاتاہے ابلتاپانی ان پر پھینکا جاتاہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہمیشہ ایک اچھے ہمسائے جیسابرتاؤ کیاہے جس کاسب سے بڑا ثبوت گیتا کی واپسی ہے جو پندرہ سال تک ایدھی سنٹر میں محبت وشفقت کے ماحول میں رہی جس پر کبھی بھی آنچ نہیں آنے دی گئی۔ دوسری جانب بھارت میں قیدپاکستانی خواہ وہ مردہیں یاخواتین ان سے مجرموں جیسا سلوک روارکھاگیا ہے اور جب پاکستانی قیدی بھارتی جیل کے عملے کے بدترین تشدد سے پاگل ہو جاتے ہیں، اپنے ہوش وحواس کھوبیٹھتے ہیں توانہیں جیل سے رہاکرکے واپس پاکستان بھیج دیاجاتاہے۔
گزشتہ ایک عشرے کے دوران پاکستان متعدد نوجوانوں کی لاشیں وصول کرچکاہے جنہوں نے سرحدی حدود کیخلاف ورزی کی تھی اور بھارت نے انہیں حراست میں لیکر ان پرمقدمہ درج کرکے مختلف جیلوں میں بھیج دیاتھاجبکہ بھارت نے قیدیوں کی پراسرارہلاکتوں پربھی کبھی جواہدہی کی ضرورت محسوس نہیں کی بھارتی پنجاب کی امرتسر جیل’ دہلی کی تہاڑ جیل اور مقبوضہ کشمیرکی بھلوال جیلیں پاکستانی قیدیوں کیلئے بدنام زمانہ گوانتا ناموبے کے عقوبت خانے سے کم نہیں جہاں قیدیوں کوصرف مسلمان ہونے کی بنا پرسزا دی جاتی ہے جن کاجرم صرف اتناہے کہ انہوں نے امریکی مظالم کے خلاف آواز ٹھائی۔
ہندوستان نے کشمیر سنگھ کی رہائی کے بدلے میں ہمیں پاکستانیوں کی لاشوں کے تحفے بھیجے جنہیں وحشیانہ تشدد سے جان سے ماردیاگیا تھااور جن غریب مچھیروں کوگرفتار کیاجاتاہے بعد میں ان پربھی دہشت گردی کاجھوٹا الزام لگا اور دہشت گرد قراردیکردرندگی کانشانہ بنایاجاتاہے۔ مزیدبراں مصدقہ اطلاعات کے مطابق چند ماہی گیروں کیررہائی اور بھارت مراعات کالالچ دیکرانہیں ” را“ کا ایجنٹ بنانے کاانکشاف بھی ہوا ہے اور انکار پرانہیں سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں۔
بھارتی جیل میں دوبرس کی سزاکاٹنے والے ماہی گیراحمد میاں نے بتایاکہ وہ معمول کے مطابق اپنے ساتھیوں کے ساتھ مچھلی کے شکار پرگیاتھا اور انہیں ”کاجر“ کریک“ کے سمندری علاقے کے قریب پکڑ لیاگیا۔ انہیں بھارتی بحریہ کے جہاز کے اندرہی قیدی بنالیاگیا۔ اس موقع پرفائرنگ بھی کی گئی تاکہ یہ ظاہر کیاجاسکے کہ پاکستانی دہشت گردوں کوسخت مقابلے کے بعد گرفتار کیاگیاہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان سے تفتیش کی جاتی اور بھوکا پیاسارکھ کررات بھرجگایاجاتاہے اور ماہی گیروں کو”را“ کاکام کرنے کیلئے لالچ بھی دی جاثی رہی کہ اگر وہ بھارتی جاسوس بن جائیں گے توانہیں آزاد کردیاجائے گا۔
وقت اشاعت : 2016-01-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں