تازہ ترین : 1
Baharti Gujarat Main Fasadat

بھارتی گجرات میں فسادات

پٹیل برداری کا احتجاج دراصل نریندرا مودی کے معاشی صنعتی ترقی کیلئے اپنائے جانے والے ماڈل کی ناکامی ہے۔ نریندرا مودی نے اپنی وزارت اعلی کے دور میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی بجائے بڑی صنعتی یونٹس لگانے کی پالیسی اختیار کی تھی

بھارت کے وزیراعظم نریندرامودی کو حکومت گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے صلے میں ملی تھی۔ گجرات کے مسلم کش فسادات کے زمانے میں نریندرا مودی اس بھارتی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی نریندرامودی کی مسلم دشمنی میں سرمو فرق نہیں آیا اور وہ آج بھی بھارتی مسلمانوں کو عملاََ بھارتی شہری تسلیم نہیں کرتے اور انہیں کسی بھی حوالے سے ہندووٴں کے ہم پلہ قرار نہیں دیتے۔

نریندرامودی کی متعصب سوچ اور انتہا پسند انہ خیالات کا نتیجہ ماضی میں مسلمانوں کے قتل عام کی صورت سامنے آیا تھا لیکن اس کٹرہندو وزیراعظم کی پالیسیوں کے شر سے بھارت میں بسنے والی دیگر غیر ہندو اقلیتیں یا ہندووٴں میں سے نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے بھی محفوظ نہیں۔ موجودہ بھارتی حکومت نے مسلمانوں اور دیگر غیر ہندو اقلیتوں سمیت نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندووٴں پر بھی عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔

پٹیل برداری کا احتجاج دراصل نریندرا مودی کے معاشی صنعتی ترقی کیلئے اپنائے جانے والے ماڈل کی ناکامی ہے۔ نریندرا مودی نے اپنی وزارت اعلی کے دور میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی بجائے بڑی صنعتی یونٹس لگانے کی پالیسی اختیار کی تھی۔ پٹیل برادری زمینداری سے نکل کر چھوٹی صنعتوں کی جانب آئی تھی اور مودی کی پالیسیوں کے نتیجے میں اس کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا تھا۔

پٹیل برادری سے تعلق رکھنے والے ہندووٴں کا شمار گجرات کے متمول طبقے میں ہوتا ہے اور ان کا گلہ ہے کہ انہیں ملازمتوں اور کاروبار کے حصول میں دلتوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ جن کے لیے بھارتی آئین ملازمتوں میں کوٹے کی ضمانت دیتا ہے ۔ پٹیل یا پتی دار برادری کے احتجاجی مظاہروں کا آغاز ایک 22سالہ نوجوان ہردیک پٹیل نے کیا تھا جس کو پولیس نے گرفتار کیا تو اس پر پٹیل برادری مشتعل ہو گئی اور یوں تشدد کا سلسلہ شروع ہو ا تھا۔

1980 تک پٹیل برادری کانگرس کی حمایت کرتی تھی کانگرس نے ”شڈیولڈکاسٹ“ کیلئے کوٹہ سسٹم رائج کیا تو پٹیل برادری نے اپنا سیاسی تعلق بی جے پی سے جوڑلیا تھا۔ نریندرامودی کی پالیسیوں کے نتیجے میں اب یہ ووٹ بنک بی جے پی کے ہاتھ سے بھی نکلتا دکھائی دیتا ہے کیونیہ احتجاجی مظاہروں کا آغاز کرنے والے پٹیل نوجوان، ہردیک پٹیل، نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کا ”کنول“ کھل نہیں سکے گا ۔
یاد رہے کہ کنول کا پھول بی جے پی کا انتخابی نشان ہے۔پٹیل برادری سے تعلق رکھنے والے ہندوٴ اس بات پر سراپا احتجاج تھے کہ انہیں بی جے پی کی حکومت کی پالیسیوں نے دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔ گجرات میں فسادات کے آغاز کے بعد وہاں فوج کو تعینات کیا جا چکا ہے۔2002 میں جب گجرات میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کو انتہا پسند ہندووٴں نے تہہ تیغ کیا تھا تو اس وقت انہیں بچانے کے لئے کسی فوج کونہیں بھیجا گیا تھابلکہ جب انتہا پسند ہندو یہ خونی کھیل کھیلتے کھیلتے تھک گئے تو وہاں امن قائم ہو گیا تھا۔

گجرات میں ہونے والے فسادات کے نتیجے میں 100 سے زائد بسیں ا ور دیگر بے شمار گاڑیاں اور دکانیں وغیرہ نذر آتش کی جا چکی ہیں فسادات کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2002ء کے مسلم کش فسادات کے بعد گجرات میں پہلی مرتبہ کوفیو کا نفاد کیا گیا ہے۔
دلتوں کا شمار بھارتی کے انتہائی پسماندہ طبقے میں ہوتا ہے اور انہیں آج بھی پورے بھارت میں اچھوت قرار دیا جاتا ہے۔
بھارتی حکومت اگر پٹیل برادری کے مطالبات تسلیم کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں دلتوں کی سماجی، معاشی اور سیاسی حالت مزید خراب ہو جائے گی۔ پٹیل برادری احتجاج جاری رکھے گی تو اس کی وجہ سے گجرات میں امن وامان کی صورتحال خراب ہی رہے گی۔
مودی کی مشکل یہ ہے کہ اگر وہ پٹیل برادری کے مطالبات تسلیم کرتے ہیں تو اس کے ردعمل میں دلت اور دیگر شڈیولڈکاسٹ سے تعلق رکھنے والی برادریاں احتجاج کریں گی۔ پٹیل برادری کا احتجاج جاری رہا تو نریندرا مودی کی آبائی ریاست کی سیاست ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔
وقت اشاعت : 2015-09-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں