بند کریں
اتوار مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
” بھارتی افواج کمزور ہو رہی ہیں“روسی ماہرین کی رائے
دنیا کی ساتویں بڑی بحری فوج کو پیش آنے والے پے درپے حادثات نے پورے بھارتی دفاعی نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔بحریہ کے سر براہ اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے
بلال احمد :
گزشتہ دنوں بھارت کا ایک سی 130جے ہر کولیس دوران پرواز گوالیار میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں سوار پانچ اہلکار جان بحق ہوگئے۔ بھارت کے لیے یہ نقصان کوء نئی بات نہیں ہیں۔ دراصل 2014ء کا سال اُن کے لئے کئی نئے مصائب اور چیلنجز لے کر سامنے آیا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارتی فضائیہ اپنے طیاروں کے حادثات اور خرابیوں سے پریشان نظر آتی تھی۔
اس طرح بھارتی افواج کو بھی کئی مسائل نے گھیرے میں لے رکھا تھا لیکن دنیا کی ساتویں بڑی بحری فوج کو پیش آنے والے پے درپے حادثات نے پورے بھارتی دفاعی نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔بحریہ کے سر براہ اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت جو دنیا میں امپورٹ ہونے والے کُل اسلحہ کا 19فیصد حصہ خریدتی ہے، سنگین مسائل کا شکار ہے، جس کے باعث اُس کا مستقبل تاریک محسوس ہورہا ہے۔

بھارتی بحریہ کے بارے میں 2000ء سے پہلے کہا جاتا تھا کہ بھارتی بحریہ کو ہر پانچ سال بعد کسی بڑے حادثہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن جلد ہی یہ شرح بلند ہو گئی اور ہر دو سال بعد ایسے واقعات رونما ہونے لگے۔دسمبر 2005ء میںآ ئی این ایس ترشول ایک نجی بحری جہاز سے جا ٹکرایا۔ الزام نجی بحریہ جہاز پر ڈال دیا گیا کہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے باعث اُسے یہ فریگیٹ نظر نہیں آیا۔
2006ء میں آئی این ایس پر ہار کی ٹکرائی این ایس راجیو گاندھی سے ہوگئی جس کے باعث آئی این ایس پر ہار ڈوب گیا۔ اُسے کے کمانڈر پر غفلت کے باعث مقدمہ چلا اور اُس کا کروٹ مارشل کیا گیا۔ جنوری 2008ء میں کِلو کلاس آبدوز کو سطح سمندر پر آتے ہوے یہ پتہ نہ چلا کہ اوپر غیر ملکی جہاز کھڑا ہے اور حادثہ پیش آگیا، دونوں کا شدید نقصان ہوا۔ 2011ء میں ایک فریگیٹ غلطی سے کمرشل بحری جہاز سے ٹکرایا ۔
جس سے اس میں آگ لگ گئی تمام عملہ کو بچالیا گیا لیکن فریگیٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اگست 2013ء میں ایک سندھار کیشک کلاس آبدوز میں تین دھماکے ہوئے جس میں 15 جوان اور تین آفیسر ہلاک ہوئے۔ دسمبر 2013 ء میں ایک بارودی سرنگیں صرف کرنے والا جہاز، ایک فریگیٹ (f-40) اور دوسرا فریگیٹ ایف 50- حادثات کا شکار ہوئے۔ یہ سلسلہ تیز رفتاری سے 2014ء میں بھی جاری ہے۔
جنوری 2014ء میں ایک میزائل بردار فریگیٹ بندرگاہ سے جا ٹکرایا، ایک چھوٹی میزایل بُوٹ اس وقت حادثہ کا شکار ہوتے ہوئے بچ گئی جب اس کے ایک حصہ میں بڑا سوراخ نمودار ہوا۔ فروری2014ء میں ایک بھارتی آبدوز کو حادثہ پیش آیا جس میں دو آفیسر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگے۔ اس واقع کے بعد بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈی لے جوشی نے استعفیٰ دے دیا۔ مارچ 2014ء میں ایک تباہ کن جہاز کے ایک حصہ سے گیس خارج ہونے سے ایک سنیئر افسر موقع پر ہلاک ہو گیا۔

حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ بھارتی بحریہ کے یہ واقعات کم ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں اور زیادہ تر مسائل ملکی طور پر تیار کئے ہوئے ہتھیاروں اور افسروں کی نااہلی کی وجہ سے پیش آئے۔ ایسے ہی مسائل کا سامنا بھارتی فضائیہ کو بھی ہے۔
بھارت مگ ۔21 طیاروں کو اُڑتے ہوئے تابوت قراد دیا جاتا ہے۔ کئی بھارتی تبصرہ نگار اس طیارہ کو بیوہ عورتیں بنانے کی مشین بھی کہتے ہیں۔
گزشتہ چالیس سال میں بھارتی مگ طیاروں کے حادثات میں تقریباََ 482طیارے تباہ ہو گئے۔ ان حادثات میں171پائیلٹ، 39سویلین اور آٹھ دیگر افسران ہلاک ہوئے۔ یہ بھارتی حکومت کے وزیر دفاع اے کے انتھونی نے 2012ء میں راجیا سبھہ میں تقریر کرتے ہوئے بتایا تھا۔ اس وقت مگ ۔29کے علاوہ تمام مگ طیارے انڈین فضائیہ سے فارغ کئے جا چکے ہیں۔
دنیا میں لڑاکا طیاروں کے حادثات عام ہیں لیکن دنیا میں انڈیا کا اس سلسلے میں پہلا نمبر ہے اوریہ اعزاز اُس کے پاس گزشتہ چالیس سال سے ہے ۔
دنیا میں اوسطاََ 4سے5طیاروں کو ہر ایک لاکھ گھنٹوں کی پرواز کے دوران حادثات پیش آتے ہیں جبکہ انڈیا میں یہ اوسط 6سے7ہے جو کچھ سال 10بھی رہی ہے۔ بھارت نے ان حادثات کا ذمہ دار روسی ٹیکنالوجی کو قراد یا تھا جسے روسی کمپنیوں نے مکمل طور پر رد کر دیا۔ روسی ٹیم نے بھارتی حکومت کو ایک رپورٹ دی جس کے مطابق بھارتی پائیلٹ تربیت یافتہ نہیں ہیں، اُن کی تربیت مکمل فضائی گھنٹوں کے لئے نہیں کی گئی ہوتی اور بھارت میں مرمت یا ری بلڈ ہونے والے طیارے عالمی معیار کے نہیں ہوتے۔
حال ہی میں بھارتی جدید ایس یو۔30طیارہ تباہ ہوا جس کی انکوائری کے بعد ثابت ہواکہ بھارتی پائیلٹ اُسے اڑانے کے اہل نہیں۔چین میں بھی ایسے طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں جن کے حادثات کی شرح انڈیا سے بہت کم ہے۔
اس وقت ہتھیاروں سے پہلے سب سے بڑا مسئلہ بھارتی فوجیوں کا نفسیاتی ڈپریشن ہے۔ حال ہی میں ایک بھارتی فوجی نے کشمیر میں اپنے پانچ ساتھیوں کو بُری طرح فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
اس کے بعد اُس نے خود کو بی ہلاک کر لیا۔ ایسے کئی واقعات ریکارڈ پر ہیں۔ حال ہی میں سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے ایک خفیہ خط میں اقرار کیا تھا کہ بھارتی آرمی تربیت میں بہت پیچھے ہے اور اس کی آپریشنل صلاحیت ٹھیک نہیں ہے۔ اسی خط میں جنرل صاحب نے کہا تھا کہ انڈین آرمی کا 97فیصد ائیر ڈیفنس بہت پرانا اور فرسودہ ہے۔ ٹینک پرانے اور ایمونیشن کی کمی کا شکار ہیں۔

اس وقت انڈین فورسز مکمل طور پر یورپی اور امریکی اسلحہ کی طرف منتقل ہونا چاہیے ہیں لیکن انڈین دفاعی صنعت جو روسی ٹیکنالوجی نہیں سنبھال سکی وہ امریکی ٹیکنالوجی کس طرح استعمال کرے گی۔ اس سارے نے سیٹ اپ کے لیے کئی سال اور مکمل نیا سسٹم درکار ہو گا۔ اور سب سے بڑھ کر انڈین ٹیکس دہندوں کمائی ہوئی دولت کو اس ایندھن میں پہلے سے ہی دھکیلا جا رہا۔
اب مزید اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔
چین کی دفاعی صنعت نے روسی ٹیکنالوجی کو احسن طریقہ سے اپنے اندد جذب کر لیا ہے اور اب چین کئی دفاعی شعبوں میں خود کفیل ہے ۔ انڈیا ابھی تک اس سلسلے میں بہت پیچھے ہے، اسی لیے وہ عالمی منڈی میں اسلحہ کی خریداری میں سرگرم ہے تاکہ چین کے بڑھتے نظام کے سامنے ڈٹا رہے۔
بھارتی بحریہ کے دونوں طیارہ برادر جہاز اپنی مدت پوری کر چکے ہیں، تمام کلو کلاس آبدوزیں اُسے 2015ء تک فارغ کرناہوں گی جن میں سے زیادہ تر ابھی سے ناکارہ ہو چکی ہیں۔
فریگیٹ اور تباہ کن جہاز مرمت اور بحالی کے دور میں کئی مہینوں مصروف رہتے ہیں۔ اسی طرح فضائیہ کے پاس فرنٹ لائن پر صرف ایس یو 30طیارہ موجود ہیں۔ نئے طیارہ کی خریداری کے لیے ابھی کئی سال درکار ہیں کیونکہ فرانس اپنے رافیل اور برطانیہ اپنے یوروفائیٹر انڈیا کو فروخت کرنے کو تیار نہیں، امریکی طیاروں کو بھی دیکھا جا رہا ہے لیکن ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

بھارتی آرمی کو نئے ٹینک کی فوری ضرورت ہے کیونکہ ملکی طور پر بننے والے ارجن ٹینک ناکام ہو چکاہے۔ صحرا میں یہ ٹینک مکمل طور پر ناکام ہوا۔ توپ خانہ اور ائیرڈیفنس پر بھی بہت خرچہ کیا جا رہا ہے ۔ اسرائیل اور امریکہ سے وسیع پیمانہ پر خریداری کی جار ہی ہے۔ بھارتی میزائلوں کی پرانی ٹیکنالوجی اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی انڈین اگنی اور پرتھوی میزائل کئی مرتبہ ناکامی کا منہ دیکھ چکے ہیں۔
براہموس کیروز میزائل پچھلے کئی سالوں سے تیاری کے مراحل سے نہیں نکل سکا۔
انڈین فوج اگلے دس سالوں میں تبدیلی سے ہمکنار ہوگی۔ یہ آزادی کے بعد برطانوی سسٹم پر چلنے والی اپنائی جواب امریکی ساختہ ہونے جارہی ہے۔ اُس وقت کی پالیسی شفٹ نے بھارتی افواج کو سخت نقصان پہنچایا تھا جو اب نئی تبدیلی کے بعد مزید خرابی کی طرف جانے کاامکان ہے۔ایک فورس کے مختلف یونٹ کئی مختلف ممالک کی ٹیکنالوجی کا اکٹھا استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو یقینا بھارتی فورسز کے لیے بہت مشکل مرحلہ ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-17

(7) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان