تازہ ترین : 1
Baharat Main Phelta Zeher

بھارت میں پھیلتا ہوا زہر

روز اول سے انتہاء پسند ہندو دوسری مذہبی اقلیتوں کو جینے نہیں دیتے۔ قیام پاکستان کے وقت جب بے دردی سے مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا تھا اس کو روکنے کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان نہرو پیکٹ کے نام سے معاہدہ ہوا جس میں بھارت کے مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی

محمد صادق جرال
بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اسکی آبادی ایک ارب 30 کروڑ کے قریب ہے جس میں تقریباً 20 کروڑ مسلمان بستے ہیں جو بڑی مذہبی اقلیت ہیں۔ ملایشیاء اور پاکستان کے بعد بھارت تیسری مسلمان آبادی والا ملک ہے۔ اسکے بعد عیسائی ، سکھ، بدھ مت اور دوسری مذہبی اقلیتیں بھارت میں رہتی ہیں مگر روز اول سے انتہاء پسند ہندو دوسری مذہبی اقلیتوں کو جینے نہیں دیتے۔
قیام پاکستان کے وقت جب بے دردی سے مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا تھا اس کو روکنے کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان نہرو پیکٹ کے نام سے معاہدہ ہوا جس میں بھارت کے مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی۔ اس وقت جو بھارت میں مسلمانوں کیساتھ جو بہیمانہ سلوک ہو رہا ہے وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت ہمارا پڑوسی ہے اور پڑوس میں ہونیوالے واقعات سے پاکستان کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔
بھارت اپنے پاکستان مخالف اور مسلم دشمن رویہ کی وجہ سے دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014ء کے انتخاب میں اپنی انتخابی مہم میں بھی پاکستان دشمن خیالات کا کھل کر اظہار کیا تھا اور یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ بھارت کے عوام کے معاشی حالات بہتر کریگا ، لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر کرنے کیلئے بلندو بانگ دعویے کیے تھے لیکن برسراقتدار آتے ہی اندرونی اور بیرونی محاذ پر پاکستان ، ہندوستان کے مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے نریندر مودی اور انکی پارٹی کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کو اسی وجہ سے مقبوضہ کشمیر اور دہلی کے انتخاب میں بدترین شکست پر سبق حاصل کرنا چاہیے تھا مگر انہوں نے انتہاء پسندی ترک نہ کی۔ اب ریاست بہار کے الیکشن میں بھی عبرتناک شکست انکی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کیخلاف ریفرنڈم ہے۔ بہار کے الیکشن میں بھی مودی نے انتخابی جلسوں میں پاکستان مخالف کارڈ بھی استعمال کیا لیکن پذیرائی نہ ہو سکی۔
2014ء کے انتخابات میں نریندر مودی پر انتہاء پسندوں کے ساتھ مراسم کا الزام لگا تھا لیکن انہوں نے انکار کیا۔ اپنے وعدے کیمطابق اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے اور عوام کے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے بھارت میں انتہاء پسندی کو فروغ دیا گیا۔ جس سے وزیر اعظم کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ عیسائیوں ، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کا بھارت میں جینا دو بھر کر دیا گیا ہے۔
محض شک کی بنیاد پرکہ ایک گھر میں گائے کا گوشت موجود ہے، ایک مسلمان کو پتھر مار مار کر شہید کر دیا گیا۔ اس واقعہ پر ہندوستان سمیت پوری دنیا میں بھارت کیخلاف شدید رد عمل سامنے آیا۔ مودی کی حکومت کے متعصبانہ رویے کی وجہ سے بھارت میں سائنس دانوں، شاعروں ، فنکاروں ، دانشوروں اور سابقہ فوجیوں سمیت شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد نے اپنے سرکاری اعزازات واپس کر چکے ہیں۔
مزید بھی احتجاج جاری ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں کو جبراً ہندو بنانے کے واقعات بھی منظر عام پر آرہے ہیں۔ انتہاء پسند تنظیم R.S.S. کیمطابق بھارت ایک ہندو ملک ہے۔ وہاں کے رہنے والے مسلمان ، عیسائی ، کمیونسٹ بھارت کے دشمن ہیں۔ کیونکہ نریندر مودی بھی اس تنظیم کے رکن رہے ہیں اس لئے انکے اندر سے ابھی تک انتہاء پسندی ختم نہیں ہوئی۔ مسلم دشمنی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ ان کی پوری کابینہ بھی انتہاء پسندی کو فروغ دینے میں شامل ہے۔
انکی حکومت تیزی سے اپنی ساکھ کھو رہی ہے۔ باہر کی بدترین شکست سے BJP کو سخت دھچکا لگا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم شدید ڈپریشن کا شکار ہیں۔ اب انہیں اپنے اقتدار کو قائم رکھنا ہے تو انتہاء پسندی کی پالیسیوں کو ترک کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر ان کا اقتدار میں رہنا مشکل ہو گا۔ حکومت کے اس رویے سے نریندر مودی بھارت کیلئے گوربا چوف ثابت ہو سکتے ہیں۔
بھارت پوری دنیا میں پروپیگنڈہ کرتا ہے کہ پاکستان میں طالبان نے قبضہ کر رکھا ہے۔ حقیقت میں وہ خود انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان کے اندر وہ منظم سازشیں کر رہا ہے اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ جس کے واضح ثبوت وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف نے امریکہ اور پوری دنیا کو پیش کیے ہیں لیکن دفتر خارجہ نے بھی بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہاء پسندی پر کئی بار تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری ہندو ، دہشتگردی کا نوٹس لیں۔
امریکہ اور دیگر عالمی دنیا کو بھی دوہرا معیار ختم کرنا چاہیے۔ نیویارک ٹائم اور دیگر دنیا کے اخبارات اپنی خبروں اور اداریوں میں بھارتی حکومت کے انتہاء پسندانہ پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی حکومتیں بھی بھارت پر دباؤ ڈالیں اور بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں پر مظالم بند کرے جس ملک میں کشمیر پارلیمنٹ کے ممبر کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مظالم کیخلاف آواز اٹھانے پر چہرے پر سیاہ رنگ پھینک دیا جائے اس سے بڑی انتہاء پسندی کیا ہو گی۔
بھارت اپنا چہرہ خود ہی کالا کر رہا ہے۔ پوری دنیا بھارت پر دباؤ ڈالے مظلوم کشمیریوں پر ظلم کا سلسلہ بند کرکے کشمیری عوام کو جینے دے۔ کشمیری قیادت کو آئے دن نظر بند اور پابند سلاسل رکھا جاتا ہے، ان کو رہا کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کیمطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیاجائے۔ حالیہ کشمیر الیکشن میں بھی پوری مشینری استعمال کرنے کے بعد BJP کو عبرتناک شکست ہوئی لیکن جوڑ توڑ کر کے دنیا کو دکھانے کیلئے کٹھ پتلی حکومت کشمیر میں بنائی گئی۔
کشمیری عوام اپنی آزادی کی جنگ 1947ء سے لڑ رہے ہیں جبکہ بھارت نے رات کے اندھیرے میں شیخ عبداللہ اور انگریزوں کے ساتھ مل کر نہرو نے ایک سازش کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کیا تھا۔ بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے اسکو یہ بھی احساس نہیں ہے۔ اس سے ہمارے اچھے تعلقات ہونے چاہیں لیکن وہ طاقت کے نشے میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے سے چھوٹے ہمسایہ ملکوں کو زیر تسلط رکھنا چاہتا ہے۔ چاہیے تو یہ کہ بھارت پاکستان کیساتھ اچھے تعلقات رکھے اور کشمیر کے معاملے پر کشمیری عوام کو اعتماد میں لیکر مسئلہ کشمیر کو حل کرے۔ یہی بھارت اور پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اس سے اس خطے میں بے چینی ختم ہو سکتی ہے اور عوام ترقی کی منزلیں طے کر سکتے ہیں۔
وقت اشاعت : 2015-12-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں