بند کریں
جمعہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انقرہ میں خودکش حملے
ان کے اثرات سیاست پر بھی مرتب ہو نگے۔۔۔۔ جس ریلی پر یہ خودکش حملے کئے گئے تھے اس کا انعقاد ان کُرد گروپوں کی جانب سے کیا گیا تھا جنہیں گزشہ 13 برس سے ملک پر حکمرانی کرنے والی جماعت اے کے پی کا سب سے بڑا سیاسی مخالف قرار دیا جاتا ہے
ترکی کے شہرانقرہ میں ہونے والے دو خوفناک خودکش بم دھماکوں کے نتیجے میں 97 سے زائد بے گناہ شہری لقمہِ اجل بن گے تھے۔ ترکی کے وزیراعظم احمد داوٴ دادوگلو نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا”ترکی کی اتاریخ کے اس بدترین اور وحشیانہ حملے کا مقصد نومبر کے مہینے میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونا ہے۔
“ ترک حکومت چند ماہ قبل ہونے والے عام انتخابات میں پرلیمان میں اکثریت سے محروم ہوگئی تھی اس کے بعد حکمران جماعت نے دیگر پارٹیوں کے ساتھ الحاق کر کے اپنی کھوئی ہوئی اکثریت بحال کرنے کے لیے نیم دلانہ کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہوئی اور ترک آئین کی رو سے دوبارہ انتخابات منعقدہ کروانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
جس ریلی پر یہ خودکش حملے کئے گئے تھے اس کا انعقاد ان کُرد گروپوں کی جانب سے کیا گیا تھا جنہیں گزشہ 13 برس سے ملک پر حکمرانی کرنے والی جماعت اے کے پی کا سب سے بڑا سیاسی مخالف قرار دیا جاتا ہے ۔
کردوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ یا تواس نے ان حملوں کے ذریعے ملک میں کرد مخالف جماعتوں اور گروپوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی یے یا کم از کم یہ حملے اینٹلیجنس سطح پر حکومت اور ریاستی اداروں کی واضح ناکامی ضرور ہیں۔
خود کش دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تدفین کے موقع پر حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن کی قیادت کرد جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کر رہے تھے۔
مظاہرین دھماکے کی جگہ پرجا کر پھول رکھنا چاہیے تھے لیکن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ دھماکوں کے بعد ترک حکومت اور خوص طور پر صدر طیب اردگان کے خلاف نعرے لگانے والوں کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے جو اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ گزشتہ 13 برس سے برسراقتدار طیب اردگان اب اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں۔ جس ریلی پر خودکش حملے کئے گئے تھے وہ ترک فوج اور سیکورٹی اداروں کی کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ مسلح تصادم کے واقعات میں اضافے کے خلاف منعقد کی گئی تھی۔
صدر طیب اردگان دراصل ترک آئین بدلنے کی کوشش میں ہیں تاکہ ملک میں صدارتی نظام حکومت رائج کیا جاسکے۔ طیب اردگان کے سیاسی مخالفین سمجھتے ہیں کہ صدر طیب اردگان ملک کے آئین کو بدل کر اپنی آمریت کے قیام کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
ترک معاشرے میں اس وقت جو سیاسی تفریق دکھائی دے رہی ہے اس کے ڈانڈے شام کی خانہ جنگی سے بھی ملتے ہیں شام اور عراق کے سرحدی علاقوں میں داعش کو کردوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے ۔
ترکی سے تعلق رکھنے والے کرد نو جوان بھی شام میں داعش کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں شریک ہو رہے ہیں اور اس کے ردعمل میں ترک کے سرحدی علاقوں میں بسنے والے کردوں کو داعش کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ترکی میں اگر انقرہ دھماکوں کی طرز پر مزید افسوسناک واقعات رونما ہوئے تو وہاں ایک ایسا سیاسی انتشار جنم لے سکتا ہے جو حکمران جماعت کے اقتدار کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہو گا ۔ حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کی ذمہ داری حکمران جماعت اور صدر طیب اردگان پر عائد ہوتی ہے اور اس مقصد کے لیے انہیں اپنے بعض سیاسی عزائم ترک کرنا ہونگے۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-27

(0) ووٹ وصول ہوئے