تازہ ترین : 1
Amrici Sadarti Intikhabat

امریکی صدارتی انتخابات

مسلم دشمنی مہم کااہم موضوع بن گیا

نعیم خان:
امریکہ میں اس برس ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل متنازعہ سیاست دان ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف اپنی انتہاپسندسوچ کی وجہ سے انتہائی منتازعی ہوچکے ہیں۔ اب امریکہ میں موجود مسلم کمیونٹی ان کے خلاف کھل کرسامنے آچکی ہے اور ان کے نظریات کے خلاف مظاہرے بھی کئے جارہے ہیں۔ ڈونلڈہیں یہی وجہ ہے کہ امریکی مسلم کمیونٹی میں ان کے خلاف نفرت انگیزجذبات پائے جاتے ہیں اور دیگر مذاہب سے منسلک افرادبھی انہیں پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھ رہے۔
دسمبر کے آخری ہفتے اس کاعملی مظاہرہ بھی کیاگیا جس میں 200کے لگ بھگ افرادنے ان کے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔اس کے بعد مظاہرین نے وہیں باجماعت نمازبھی اداکی۔ ذرمب ٹاورکے باہرجمع مسلمانوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈاور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ” فاشزم نہیں چاہے“ اور فاشزم اور نفرت کے پرچارک ڈرمیپ نہیں چاہیے“ جیسے نعرے درج تھے۔
یادرہے کہ اس سے قبل اسی جگہ جولائی میں بھی ٹرمپ کے خلاف احتجاج کیاگیا تھا اس وقت بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کے شہریوں کومنشیات سمگلر، مجرم اور عصمت دری کے مرتکب لوگ قرار دیاتھا۔ نیویارک میں واقع رائل اسٹیسٹ کے ٹائیکون ٹرمپ کے دفترکے باہرصدارتی امیدواربننے کے خواہش مند69سالہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھیوں نے بھی ان کے حق میں مظاہرہ کیالیکن ان کے حامیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابرتھی۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک صدارتی امیدواروں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ پرشدید تنقید کی ہے۔ ڈیموکریٹک صدارتی امیدواروں کے مباحثے میں ہیلری کلنٹن، سینیٹربرنی سینڈراور میری لینڈکے گورنرمارٹن اومیلے نے حصہ لیا اور ڈونلڈٹرمپ پرکھل کرتنقید کی۔ ہیلری کلنٹن کاکہنا تھا کہ ڈونلڈ کے اسلام مخلاف بیانات لوگوں کوداعش میں شمولیت پراکسارہے ہیں اس لیے ان کے ایسے منتازعہ بیانات عوام کے کانوں تک پہنچنے سے روکے جانے چاہیں۔
یادرہے کہ ماضی میں بھی امریکی سیاست پرنسل پرستی اور شدت پسندی کااثر غالب رہاہے اور ہربارکوئی نہ کوئی امیدواراسلام مخالف یانسل پرستی کے نعروں کی مدد سے امریکی صدربننے کی کوشش کرتاہے۔ اسی طرح مسلم ممالک پرحملوں سے لے کرشدت پسندانہ تنظیموں کوختم کردینے تک کے وعدے بھی کئے جاتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ اب مختصر سے ایک طبقے کے علاوہ دیگرامریکی عوام دیگرممالک پرامریکی حملوں اور شدت پسندانہ بیانات کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔
اسی طرح اسلام مخالف نعرے لگاکراقتدار حاصل کرنے والوں کوبھی مایوسی کاسامنا کرناپڑتا ہے۔ گزشتہ صدارتی انتخابات میں بھی عراق پرحملے صدارتی امیدواروں کی بحث کا مرکزی حصے بنے رہے۔ اس باربھی یہ موضوعات سراٹھارہے ہیں۔ ڈونلڈٹرمپ کے بارے میں کہاجا رہاہے کہ شدت پسندانہ نظریات کی وجہ سے شایدانہیں زیادہ دوٹرزکی حمایت تونہ مل سکے البتہ وہ ایسے بیانات کی بدولت خبروں کاحصہ ضروربن چکے ہیں۔
یادرہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات سے قبل صدارتی امیدواروں اور ان کے حامیوں کے درمیان مباحثے کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے اور انہی مباحثوں کے دوران عام شہریوں کواندازہ ہوجاتاہے کہ ان کاصدرکون بن سکتاہے۔ اس بارصورتحال کچھ ایسی ہے کہ صدارتی امیدواروں پرمسلمانوں سے نفرت یاان کے خلاف اقدامات کے حوالے سے کئی سوال اٹھ چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ بیانات پر تنقید ہورہی ہے تودوسری جانب ڈیمو کریٹک کادامن بھی مسلم خون سے ترنظر آتاہے۔البتہ انتخابات قریب آتے ہی ڈیموکریٹک امیدواروں نے مسلم دوستی اور امن کے نعرے لگانے شروع کردیئے ہیں۔
وقت اشاعت : 2016-01-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں