بند کریں
اتوار مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
امریکی پاکستانیوں کیلئے یوم سیاہ۔۔۔!
حالیہ واقعہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے لئے یوم سیاہ کے مترادف ہے۔ مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی انتہائی افسردہ دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستانیوں کے کردار کے بارے میں صدر اوباما نے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے روبرو اعتراف کیا
طیبہ ضیاء چیمہ
امریکہ میں پہلی بار1764 میں کسی تعلیمی ادارے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد مختلف درسگاہوں میں فائرنگ کے واقعات گاہے بگاہے پیش آتے رہے، ہلاکتوں کی تعداد پہلے ایک دو ہوا کرتی تھی لیکن آخری سالوں میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات نے امریکہ میں اسلحہ مخالف سوچ کو ایک مہم کی صورت دے دی ہے۔ اوباما حکومت عام شہریوں کے اسلحہ رکھنے کے خلاف ہے جبکہ اپوزیشن ری پبلکن پارٹی ( ویپن لوَر) اسلحہ سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔
امریکہ میں بندوق کو بطور کھلونا استعمال کیا جانے لگا ہے۔ پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کے فائرنگ کے واقعات تشویشناک صورت حال اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ایسے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جس میں پانچ برس سے کم عمر کے بچے بندوق کو کھلونا سمجھ کر اپنے ماں باپ یا بہن بھائی پر گولی چلا دیتے ہیں۔ اسلحہ رکھنے پر پابندی عائد نہ کی گئی تو امریکہ میں فائرنگ کے واقعات معمول کی بات بن جائیں گے۔
فائرنگ کا پہلا ہولناک واقعہ 1966میں یونیورسٹی آف ٹیکساس میں پیش آیا جس میں 17 لوگ مارے گئے۔ 2005 میں ریاست منی سوٹا میں فائرنگ سے 10 طلباء مارے گئے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ کی تاریخ کا المناک واقعہ پیش آیا جب 2007 میں یونیورسٹی آف ورجینیا میں فائرنگ سے 33 سٹوڈنٹس، اساتذہ اور عملہ ہلاک ہو گیا۔ تعلیمی اداروں میں گن شوٹنگ کے واقعات میں اضافہ ہوتا گیا حتیٰ کہ 2012 میں ریاست کنیکٹی کٹ کے ایک سکول میں فائرنگ کے دوران 28 لوگ جن میں بڑی تعداد کم سن بچوں کی تھی بھون کر رکھ دیا گیا۔
امریکہ کی تاریخ کا یہ لرزہ خیز واقعہ تھا جس نے پوری د نیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ابھی یہ صدمہ تازہ تھا کہ رواں سال اکتوبر 2015 میں ریاست آرگن کے ایک سکول میں 10 لوگ قتل کر دیئے گئے۔ امریکی تعلیمی اداروں میں فائرنگ کے واقعات کی یہ ایک ہلکی سی جھلک پیش کی ہے جبکہ امریکہ میں فائرنگ کے مختلف واقعات کی فہرست طویل اور تشویشناک ہے۔ سال میں دو چار واقعات معمول بنتا جا رہا ہے۔
نناوے فیصد واقعات میں امریکی باشندے ملوث پائے جاتے ہیں، مسلم باشندے ملوث پائے گئے تو ان کا تعلق بھی عرب ممالک سے بتایا گیا لیکن دو روز قبل جو واقعہ کیلی فورنیا میں پیش آیا‘ امریکہ کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جس میں پاکستانی امریکی شہری ملوث پایا گیا ہے۔ اس کی بیوی بھی فائرنگ میں اس کے ہمراہ تھی اور وہ بدنصیبی سے پاکستانی بتائی جاتی ہے جبکہ ان دونوں کی شادی سعودی عرب میں ہوئی۔
خدا جانے حج کرنے گئے تھے یا کوئی معاملہ ہے۔ امریکہ تفتیش میں لگا ہوا ہے۔ معاملہ دہشت گردی سے جوڑا جائے گا کیوں کہ قاتل کے کمرے سے مزید اسلحہ برآمد ہوا ہے اور پھر سعودی عرب سے بیوی لانا‘ کہانی کو مزید الجھا رہا ہے۔ حالیہ واقعہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے لئے یوم سیاہ کے مترادف ہے۔ مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی انتہائی افسردہ دکھائی دے رہے ہیں۔
پاکستانیوں کے کردار کے بارے میں صدر اوباما نے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے روبرو اعتراف کیاکہ وہ پاکستانیوں کی قدرکرتے ہیں‘ پاکستانی امریکہ کے پرامن شہری ہیں۔ اس واقعہ سے ہمارے بچے پریشان ہیں۔ ہمارے بڑے غمزدہ ہیں۔ صدارتی امیدوار ٹرمپ جو مسلمانوں کے خلاف مہم چلا رہا ہے، حالیہ واقعہ سے مخالفت کا مزید موقع ہاتھ لگ گیا ہے۔
فائرنگ کا واقعہ امریکہ میں کوئی نئی بات نہیں لیکن دہشت گردی یا فائرنگ کے واقعہ میں پاکستانی کا ملوث ہونا پاکستانیوں کے لئے حالات مزید مشکل بنا دے گا۔ پاکستانی نڑاد باشندے سید رضوان فاروق نے کیلی فورنیا کے ایک علاقے میں معذور افراد کے ایک سینٹر میں اندھا دھند فائرنگ سے 14 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ 18 افراد زندگی اور موت کی کشمش میں مبتلا ہیں۔
ڈھائی سال قبل کنیکٹی کٹ سکول میں ایک جنونی کے ہاتھوں 28 بچوں اور بڑوں کے بہیمانہ قتل کے بعد یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے جس نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستانی جوڑے کو پولیس فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا‘ 28 سالہ سید محمد رضوان فاروق اور 27 سالہ تاشفین ملک میاں بیوی تھے جبکہ ان کی ایک چھ ماہ کی شیر خوار بیٹی بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور کار کا خاتون سے رابطہ بذریعہ انٹرنیٹ ہوا۔
امریکہ کے تمام میڈیا پر چوبیس گھنٹے صرف اس ایک واقعہ پر جتنے منہ اتنے تبصرے جاری ہیں۔ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر خاتون سعودی عرب کیا کرنے گئی تھی‘ شاید حج کرنے گئی تھی یا شاید کسی انتہا پسند تنظیم سے تعلق تھا وغیرہ۔ سید فاروق کے گھر والے کہتے ہیں کہ وہ مذہبی تھا مگر انتہاء پسند نہیں تھا۔ فاروق سعودی عرب گیا اور دونوں نے وہاں شادی کر لی اور بیوی کو منگنی کے ویزے پر امریکہ بلا لیا۔
خاتون نے امریکہ کا ویزہ پاکستان سے حاصل کیا۔ واقعہ سے قبل بچی کو اس کی دادی کے حو الے کر گئے۔ فاروق کے کمرے سے قانونی طور پر خریدی کئی بندوقیں بھی برآمد ہوئیں۔ معذوروں کے جس سینٹر میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا‘ وہاں کوئی تقریب جاری تھی، اس دوران فاروق ناراض دکھائی دے رہا تھا اور کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد واپس چلا گیا اور اپنی اہلیہ اور اسلحہ کے ہمراہ تقریب میں واپس آیا اور اشتعال انگیز فائرنگ شروع کر دی۔
فائرنگ کے بعد میاں بیوی نے فرار ہو نے کی کوشش کی۔ پولیس نے ان کا تعاقب کیا‘ فاورق نے پولیس پر فائر کھول دیا‘ پولیس کی جوابی کارروائی میں دونوں میاں بیوی موقع پر ہلاک ہو گئے۔ صدر اوباما نے قبل از تفتیش واقعہ کو دہشت گردی سے جوڑنے سے منع کیا ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، اس ملک میں جب تک ”گن کنٹرول پالیسی“ پر عمل نہیں کیا جائے گا‘ فائرنگ کے واقعات روکنا مشکل ہیں جبکہ ری پبلکن اس پالیسی کی منظوری کے حق میں نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-07

(0) ووٹ وصول ہوئے