بند کریں
جمعہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
امریکہ اور چین کے درمیان ایک خلائی جنگ کا امکان
امریکی گلوبل پوزیشننگ سسٹم کے مقابلے میں چین کا ”بائیڈو“ نامی سسٹم دنیا کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے خلا پر تسلط کی کوششیں تیز ہوگئیں
رانا شعیب الرحمن خاں:
دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے اور قائم رکھنے کیلئے جہاں سمندروں پر قبضہ انتہائی ضروروی ہے وہاں عالمی طاقتیں خلا پر بھی قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔ اور اس قبضہ کو ہر صورت برقرار بھی رکھنا چاہتی ہیں اس کیلئے پچھلی صدی میں امریکہ اور روس کے درمیان ایک دوڑ جاری تھی ہر ایک کی خواہش تھی کہ اس کے پاس جو ٹیکنالوجی ہے وہ دوسرے کے پاس نہ ہو اور جہاں تک ایک پہنچ جائے دوسرا وہاں تک رسائی حاصل نہ کرسکے تاکہ اس پر اس کی دھاک بیٹھی رہے ۔
اس کیلئے دونوں طاقتیں پوری دنیا کے سامنے بہت بڑے بڑے جھوٹ اور فراڈ کا سہارا بھی لیتی رہیں اور پوری دنیا چونکہ خلائی تحقیق سے نابلد تھی اس لئے انکے جھوٹے کمالات کے سامنے سر تسلیم خم کرتی رہی جس میں امریکہ کا سب سے بڑا جھوٹ چاند پر قدم رکھنا تھا جس کو دنیا اس لئے ماننے پر مجبور تھی کہ کسی کے پاس امریکی ٹیکنالوجی کے قریب ترین ٹیکنالوجی بھی موجود نہیں تھی کہ وہ اس کے اس فراڈ کو چیلنج کر سکیں، خلائی ٹیکنالوجی تو ایک طرف اس وقت تو کسی ملک کے پاس یہ ٹیکنالوجی بھی نہیں تھی کہ چاند پر رکھا جانے والا قدم جو ہالی ووڈ میں فلمایا گیا تھا اس فلمی ٹیکنالوجی کا مقابلہ کیا جاسکے یااس کو چیلنج ہی کیا جاسکے ۔
امریکہ اس وقت پوری دنیا کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا اس کے کافی عرصہ بعد امریکہ کے اس ڈرامے کی کمزوریاں واضح ہونا شروع ہوئیں۔ اور اب ان کمزوریوں کی تعداد درجنوں میں پہنچ گئی ۔ اب تو وہ سوال جو اس وقت اعلیٰ دماغوں میں نہیں آئے تھے آج بچہ بچہ وہ سوال اٹھا کر بڑے بڑے امریکہ زدہ دانشوروں کی بولتی بند کردیا تاہے۔الغرض امریکہ کے یہ ڈرامہ ویت نام سے ہونے والی ذلت آمیز شکست کے بعد کیا تھا تاکہ اپنے ماتھے پر اسے اس کی کالک کوصاف کیا جاسکے، ہام امریکہ کے چاند پر جانے والے ڈرامے کو پس پشت ڈالتے ہوئے دیکھیں تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ خلائی تحقیق میں اب بھی ساری دنیا سے آگے ہے اس نے چاند پر جانے واے ڈرامے کے ساتھ ساتھ خلائی تحقیق میں زیادہ سے زیادہ آگے نکل جانے کی کوشش کی اور ا س کوشش میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوگیا ہے امریکہ اس وقت ہماری زمین کے ارد گرد خلائی حصار میں اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے زمین کو گونہ گونہ اس کے سیٹلائٹز کی نظروں میں ہے اور یہ سیٹلائیٹ پوری زمین کے گرد ایک حالہ بنائے ہوئے ہیں جو موسموں کا حال بتانے سے کہیں آگے کی معلومات بھی رکھتے ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی تو اتنی آگے نکل چکی ہے کہ دنیا کا تمام نظام انہیں سیٹلائیٹ کے ساتھ منسلک ہوتا جارہا ہے جس میں سنائیپر بندوقیں اور دوسرے دفاعی ہتھیار بھی شامل ہیں امریکہ کا گلوبل پوزیشننگ سسٹم جو کہ دنیا کے ٹریفک نظام میں بھی معاون ثابت ہورہا ہے گاڑیوں میں بھی لگایا جارہا ہے جس کے ذریعے دنیا میں کسی بھی جگہ کے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات مثلاََ سطح سمندر سے بلندی ، موسم کا حال، وہاں تک پہنچنے کیلئے آسان راستہ، اور اس مقام تک پہنچنے کے بعد آپ جس راستے سے گئے ہوں وہ راستہ محفوظ بھی ہو جاتا ہے اور آپ واپسی پر بھٹک نہیں سکیں گے جس سے بہت بڑے صحرا کا سفر بھی آسان ہوگیا ہے، لیکن یہ سہولیات کے ساتھ ساتھ اس سسٹم کا حامل ہر شخص یا مشنری خاص طورپر ان امریکی سیٹلائیٹز کی نگرانی میں ہیں اس کے علاہ دنیا کے تمام ممالک کے میزائل سسٹم بھی سیٹلائیٹ کے ذریعے سے آپریٹ ہوتے ہیں مثلاََ اگر شمالی کوریا جو میزائل ٹیکنالوجی میں نہائت آگے بڑھتا ہوا محسوس ہورہا ہے لیکن اگر اس نے جنوبی کوریا کی طرف میزائل داغنے کی کوشش کی تو کوئی بعید نہیں کہ سیٹلائیٹ کے ذریعے اس میزائل کا رخ تبدیل کر دیا جائے اور وہی میزائل واپس شمالی کوریا کے کسی شہر پر آگرے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں خلائی ٹیکنالوجی کی اہمیت کیا ہے اور امریکہ اس پر اپنی اجارہ داری کیوں برقرار رکھنا چاہتا ہے اس کیلئے امریکہ اور روس کے درمیان خلائی ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا مقابلہ تھا جو 1957سے 1975ء تک جاری رہا۔ دونوں ممالک مصنوئی سیاروں، انسان بردار خلائی پروازون اور چاند پر اترنے کی کوششوں میں ایک سے بڑھ کر ایک کوشش کرتے رہے۔
اصل میں اس مقابلے کا آغاز 4اکتوبر 1957ء کو روس کی طرف سے سپوٹ نک نامی خلائی جہاز خلا میں بھیجنے کے بعد ہوا تھا جس کے بعد ایک دوسرے سے نفسیاتی برتری کی کوشش کارفرما رہی اور سرد جنگ میں ایک نظریاتی کشکمش بھی جاری رہی لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی روس کو اپنا پروگرام ختم کرنا پڑا اور امریکہ واحد سپر پاور بن کر سامنے آیا اور خلاؤں پر اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا دنیا کے کئی ممالک خلائی دوڑ میں شامل ہیں لیکن امریکہ ہر اس ملک کے خلائی نظام کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کررہا جو اس کا مخالف ہو اس کی مثالی شمالی کوریا ہے جس نے کچھ عرصہ پہلے ایک میزائل کے ذریعے خلائی مدار میں اپنا ایک سیٹلائیٹ پہنچایا تھا جس کا اقوام متحدہ سمیت امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے بہت واویلا سامنے آیا اس سلسلے میں شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کا یہ اقدام پر امن مقاصد کیلئے ہے لیکن امریکی اتحادی جنوبی کوریا اور جاپان شمالی کوریا کے اس اقدام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ شمالی کوریا خلائی ٹیکنالوجی میں اتنا کچھ حاصل کرچکا ہے جو اس کا حریف اور کہیں زیادہ بااثر پڑوسی ملک جنوبی کوریا اب تک حاصل نہیں کرپایا، جنوبی کوریا نے ٹیکنالوجی کی مدد سے 2009اور 2010ء میں اپنی سرزمین سے اپنا ایک سیٹلائیٹ لانچ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کی وہ دونوں کوششیں ناکام رہی تھی ں لیکن اب امریکہ کا مقابلہ چین کے ساتھ ہونے جارہا ہے لگتا یہ ہے کہ اب امریکہ اور چین کے درمیان ایک سرد جنگ کا آغاز ہورہا ہے اور اس سرد جنگ کا اختتام خلا کی ایک گرم جنگ کے بعد ہوگیا اب جنگ زمین پر لڑی جانے کا امکان کم نظر آرہا ہے کیونکہ سپر پاوروں کی جنگ کا مقصد ایک دورے پر برتری ہی ہوتا ہے جو خلا میں برتری حاصل کر لے گا اس کیلئے زمین پر برتری حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں رہے گا اس کیلئے دونوں ممالک کی خواہش ہوگی کہ وہ دوسرے کے سیٹلائیٹ کو خلا میں تباہ کردیں تاکہ زمین کی جنگ کی صورت میں اپنے دشمن کا موصلات او پیغام رسانی کا ذریعہ ختم کیا جاسکے ۔
امریکہ اور روس کے پاس تو اینٹی سیٹلائیٹ میزائل ٹیکنالوجی کسی حد تک موجود تھی لیکن اب چین اس میدان میں امریکہ سے بھی آگے نکلتا ہوا محسوس ہورہا ہے بلکہ جنوری 2007ء میں چین خلا ہی میں ایک سیٹلائیٹ کو تباہ کرنے کا کامیاب تجربہ بھی کرچکا ہے یہ سیٹلائیٹ 865کلو میٹر کی بلندی پر تھا اس پر امریکہ اور یورپی یونین نے بہت شور مچایا مگر چین کی وزارت خارجہ کے مطابق چین کو ہر وہ اختیار حاصل ہے جسے مغربی دنیا اپنے لئے جائز سمجھتی ہے۔
چین نے امریکہ کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کو اپنے ملک کے دفاعی نظام میں رسائی دینے سے انکار کیا ہے ۔ امریکہ کا خیال ہے کہ اس کی خلا میں اثاثہ جات کو چین کی اس صلاحیت سے زبردست خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور اس کے تمام سیٹلائیٹس چین کی زد میں آگے ہیں ۔ چین نے ایک تجربے کے ذریعے ایسے بڑے بادل پیدا کر دئیے ہیں جو سو سال تک قائم رہیں گے اور اس سے 20سے زائد ممالک کے سینکڑوں سیٹلائیٹس کیلئے خطرات بڑھ گئے ہیں امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ سیٹلائیٹس کو تباہ کرنے کی چینی ٹیکنالوجی امریکہ اور اس کی ٹیکنالوجی کو عدم استحکام کا شکار کرسکتی ہے امریکہ کے ماہرین تو یہ واویلا بھی کرتے رہے تھے کہ چین نے لیزر شعاع کی مدد سے امریکی جاسوسی سیاروں کو اندھا کرنے کی کوشش بھی کی تھی، 1959ء میں امریکی سیٹلائیٹ تباہ کرنے کا ایک ناکام تجربہ کیا تھا جو اپنے ہدف سے 6000دوور گزرا تھا، روس نے 1967ء میں ایسے تجربات شروع کیے اور 1976ء میں اے ۔
ایس ۔ اے ۔ٹی میزائیل بنانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ جواباََ امریکہ نے ایسے کوشش کی اور 1983ء میں ایسا ہی میزائیل تیار کرلیا 13ستمبر 1985ء میں ایس کا پہلا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ چین کے کامیاب سیارہ شکن تجربے کے بعد امریکہ کی نیندیں اڑ گئیں۔ اس کے بعد امریکہ نے ایک سیٹلائیٹ کے بے قابو ہوجانے کا بہانہ بنایا کہ اس بے قابو سیٹلائیٹ کو تباہ کرنا نہایت ضروری ہے جس میں انتہائی نقصان دہ مواد موجود ہے جس کو روس نے آڑے ہاتھوں لیا تھا روس کا کہنا تھاکہ امریکہ بہانے کے ساتھ سیارہ شکن ہتھیار کا تجربہ کرنا چاہتا ہے لیکن امریکہ اس سیارے کو تباہ کر کے اپنا تجربہ کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے، امریکہ خلا پر تسلط کیلئے دنیا کے کسی دباؤ کو بھی خاطرر میں نہیں لاتا بلکہ ہر طرح کیخلائی ٹیکنالوجی اور خلائی ہتھیاروں کا حصول اور تیاری کو اپنی قومی پالیسی خیال کرتا ہے ۔
ابھی سابق امریکی صدر کے دستخط شدہ دس صفحات پر مشتمل ایک دستاویز منظر عام پر آئی ہے جس کے مطابق امریکہ نے خلا میں اپنے مفادات کو تحفظ کی خاطر نئی اور سخت پالیسی پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت اس کے دشمن برے عزائم کے ساتھ خلا میں داخل نہیں ہوسکیں گے اسی پالیسی کی دستاویز کے مطابق امریکہ کیلئے خلا میں کسی عمل کیآزادی اتنی ہی اہم ہے جتنا فضائی یا سمندری طاقت کے استعمال کی آزادی کو اہم سمجھا جاتاہے اس دستاویز کے تحت خلائی ہتھیاروں پر اقوام متحدہ یا کسی کی طرف سے بھی پابندی کی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا جائے گا ۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا تھاکہ اس پالیسی میں یہ نہیں کہا گیا کہ خلا میں ہتھیار نصب کئے جائیں گے ۔ خلا میں ہتھیاروں کے حوالے سے مذاکرا ت سے انکار کی وجہ سے عالمی سطح پر یہ شکوک ضرور پیدا ہوئے ہیں کہ امریکہ خود خلا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کیلئے ہتھیار تیار کررہا ہے یہ دستاویز واضح کرتی ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کا انحصار بہت زیادہ حد تک خلائی صلاحیتوں پر ہے ۔
اس پالیسی میں 2001میں پنٹاگون کی جانب سے ظاہر کردہ ان خدشات کا بھی ذکر ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ترقی سے دشمن امریکی سیٹلائیٹس کے مدار میں خلل پیدا کرسکتے ہیں اسی لئے اب خلا پر تسلط قائم کرنا امریکہ اپنے لئے ضروری خیال کرتا ہے۔ تو لازمی بات ہے کہ اس کے دشمن بھی تو اسے اپنے لئے اتناہی اہم تصور کریں گے ۔ امریکہ چین کی روز بروز بڑھتی ہوئی خلائی ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہوئے اس سے بات چیت کرنا چاہتا ہے لیکن چین واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ اس پر ایک مضبوط معاہدہ کیا جانا چاہئے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک خلائی ہتھیار نہیں رکھے گا لیکن امریکہ اس معاہدے سے پہلو تہی دکھارہا ہے۔
امریکہ خلا کو اپنے باتپ کی جاگیر سمجھتے ہوئے بات چیت تو کرنا چاہتا ہے لیکن کوئی معاہدہ نہیں کیونکہ امریکہ کے بہت سے ہتھیار بھی خلا سے ہی کنٹرول ہوتے ہیں۔ اب اگر چین کسی جنگ میں یا غلطی سے ان سیاچوں کو نشانہ بنادیتا ہے تو امریکی جدید دفاعی صلاحیت مفلوج ہوجائے گی۔ اس لئے امریکہ کے وزارت خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری فرینک روز نے 11اپریل 2013کو کہا کہ چند سالوں سے امریکہ اور چین کے درمیان خلائی سیکیورٹی پر مذاکرات کی ضرورت بڑھ گئی ہے اور امریکہ نے خلا کو اپنے تحفظ کو دائرہ کار میں لار ک چین کے ساتھ گفتگو کرنے کی کوشش کی ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہم اس خلائی تحفظ کے معاملہ میں گفتگو شروع کرسکیں گے۔
امریکی انٹیلی جنس برادری دفتر خارجہ سے زیادہ پریشانی کا شکار ہے کیونکہ واشنگٹن کا جاسوسی نظام بھی زیادہ تر سیارچوں کا مرہون منت ہے ۔ سیٹلائیٹ تباہ کرنے کے علاوہ خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین امریکہ کیلئے ایک جگہ مزید چیلنج بن کر سامنے آرہا ہے۔ چین نے امریکہ کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم کے مقابلے میں اپنا پوزیشننگ سسٹم لانچ کررہا ہے جس سے چین امریکہ کا دست نگر نہیں رہے گا بلکہ چین یہاں اپنا ایک بلاک بنانے کی کوشش کرکرہا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک کو دعوت بھی دے رہا ہے ۔ بہت سے ممالک اب امریکہ کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم سے نکل کر چین کی طرف رجوع کررہے ہیں۔ چین اپنے اس سسٹم کے ذریعے 16سیٹلائیٹ خلا میں بھیج چکا ہے اور مزید 14سیٹلائیٹ بھیجنے کے بعد چین کا یہ سسٹم 30سیٹلائیٹس پر مشتمل ہوگا جبکہ امریکہ کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم میں 24سیٹلائیٹس سسٹم موجود ہیں۔ اور امریکہ کے اس سسٹم کا آغاز 1973ء میں ہوا تھا جی پی ایس رسیور کا حامل کوئی بھی اسے استعمال کرسکتا ہے اسی سسٹم کے ذریعے جنگی طیارے اور میزائل اپنے اہداف کا تعین کرتے ہیں۔
پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جن کے میزائل اور دیگر جنگی ہتھیار گلوبل پوزیشننگ سسٹم کے ساتھ منسلک ہیں ۔ اس طرح روس بھی اپنا ایک سسٹم شروع کررہا تھا جس کا نام ”گلوناس“ ہے لیکن روس نامعلوم وجوہات کی بناپر اسے مزید آگے نہ بڑھا سکا حالانکہ اس کے پاس بھی خلا میں 24سیٹلائیٹس موجود ہیں جو زمین کے گرد گردشکررہے ہیں۔ اس کے بعد تو یورپ اور بھارت بھی اپنے اپنے سیٹلائیٹ خلا میں چھوڑ کر اپنے پوزیشننگ سسٹم کی بنیاد رکھ رہے ہیں لیکن چین محدود وقت میں ان سب سے آگے نکلتا ہوا محسوس ہورہا ہے جس کا پوزیشننگ سسٹم ”بائیڈو“ مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے اور اس وقت تجربات کے مراحل میں ہے اور جلد ہی گلوبہ پوزیشننگ سسٹم کی اجارہ داری کو شکست دے دیگا۔
چین کے سیٹلائیٹ نیویگیشن سسٹم کے ڈائریکٹر ”رن شینگ“ کے مطابق 2015ء تک ایشین پیسیفک کے زیادہ تر علاقے ان کی رینج میں ہونگے جبکہ 2020ء پوری دنیا کا ہر کونہ ہمارے رسائی میں ہوگا جب بائیڈو سسٹم کے سیٹلائیٹ سے کا قافلہ 30سیٹلائیٹس پر مشتمل ہوگا جو دنیا کے ممالک کو کمرشل اور دیگر خدمات فراہم کرے گا ۔ چین کے پاس ایک بڑی مارکیٹ ہے جس کے تحت وہ اس سسٹم کے ذریعے فوجی اور شہریوں کیلئے خدمات کے سلسلہ میں امریکی گلوبل پوزیشننگ سسٹم کا مقابلہ کرسکے گا اور آئندہ اسی دہائی کے آخر تک ایک خلائی سٹیشن کا قیام کا ارادہ بھی رکھتا ہے جس کے بعد ایک مشن چاند پر بھیجنے کا پروگرام بھی شامل ہے ۔
گزشتہ سال چھتیس خلائی پروازوں کے ساتھ روس پہلی، انیس پروازوں کے ساتھ چین دوسری اور اٹھارہ پروازوں کے ساتھ امریکہ تیسری پوزیشن پر ہے ۔ اس صورتحال پر امریکہ کی پریشانہ یقینی ہے جبکہ امریکہ کے خطرناک ترین پروگراموں پر بھی امریکہ کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ اس کا یہ پروگرم مکمل طور پر پر امن مقاصد کیلئے ہے، دنیا کے ہر خطرناک ترین ہتھیاروں کے تیار کرنے والے یہی کہتے ہیں کہ ان کے یہ ہتھیار پر امن مقاصد کیلئے ہیں لیکن ہیروشیما اور ناگاساکی کے لوگوں کی ارواح آج بھی یہ سوال کرتی ہونگی کہ ہماری تباہی میں ایسا کون سا امن سے بھرا ہوا مقصد پوشیدہ تھا جس کو حاصل کرنے کیلئے ہماری بلی چڑھائی گئی۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان