تازہ ترین : 1
America Main Islamphobia

امریکہ میں اسلام فوبیا

صدارتی امیدوار اس کو ہوا دے رہے ہیں۔۔۔۔ امریکہ کے مسلمانوں میں خدشہ پایا جاتا ہے کہ وہاں اسلام فوبیا کی ایک شدید اور طاقت ور نئی لہر جنم لے رہی ہے کیونکہ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدر امریکہ کے عہدے کے لیے کوشش کرنے والے دونوں اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور بین کارسن

امریکہ کے مسلمانوں میں خدشہ پایا جاتا ہے کہ وہاں اسلام فوبیا کی ایک شدید اور طاقت ور نئی لہر جنم لے رہی ہے کیونکہ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدر امریکہ کے عہدے کے لیے کوشش کرنے والے دونوں اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور بین کارسن اس حوالے سے منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ریپبلکن امیدوار دراصل اپنی انتخابی مہم مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بل پر کامیاب کروانا چاہتے ہیں۔

اورنج کاوٴنٹی کے اسلامک انسٹیٹیوٹ میں9/11 کے 15برس پورے ہونے پر منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے آنیوالی مسلمان خواتین اور ان کے بچوں کو گورے امریکی نوجوانوں نے ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس ادارے کے زیر انتظام ایک مسجد اور ایک سکول چلائے جا رہے ہیں اور یہاں آنے والوں کو تضحیک آمیز کلمات کا نشانہ بنانا ہی اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور بن کارسن کی زہر افشانی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔

امریکہ کے 2.8 ملین مسلمان سمجھتے ہیں کہ ملک میں جب بھی صدارتی انتخابی مہم کا آغاز ہوتا ہے تو مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز واقعات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔بین کارسن نے عہدہ صدارت کے لیے نامزدگی حاصل کرنے کی غرض سے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ کسی مسلمان کو امریکہ کا صدر منتخب ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ایک جلسے میں شریک ایک شخص کی ہاں میں ہاں ملائی تھی جو موجودہ صدر امریکہ باراک اوباما کو مسلمان قرار دے دیا تھا۔
اس حوالے سے جب ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ”اوباما کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے سے بڑا اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ صدر اوباما نے امریکہ کے اندر عیسائیوں کے خلاف ایک جنگ شروع کر رکھی ہے۔امریکی عیسائیوں کو اس وقت مدد کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی مذہبی آزادی خطرے میں پڑ چکی ہے۔“
امریکہ میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف موجود ذہینت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک 14 سالہ مسلمان نو جوان احمد محمد نے رنگین پنسلوں کے خالی ڈبے میں ایک ڈیجیٹل گھڑی تیار کی اور اپنی یہ ایجاد اپنے اساتذہ کو دکھانے اور شاباش وصول کرنے کی معصوم خواہش لیے سکول چلا آیا۔
اس کی ٹیچر نے بجائے اسے شاباش دینے کے پولیس کو اطلاع دی کہ ایک مسلمان طالب علم بم بنا کر سکول لے آیا ہے۔ اس بچے کو گرفتار کر لیا گیا ۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ احمد کی تیار کردہ گھڑی کو غلط طور پر بم قراد دے دیا گیا تھا۔ اس پر سوشل میڈیا میں احمد کے حق میں ایک مہم شروع ہو گئی جس سے متاثر ہو کر صدر اوباما نے اس بچے کو اس کی گھڑی سمیت وہائٹ ہاوٴس مدعو کر لیا تھا۔
اس واقعہ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور بن کارسن کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز باتیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ نام نہاد تاجر اسلام فوبیا کی چھابڑی لگا کر امریکی عوام کی رائے خریدنا چاہتے ہیں۔
کونسل آف امریکن اسلامک کونسل کے سربراہ نے ایک بیان میں بن کارسن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی کی مہم ترک کردیں کیونکہ ان کے خیالات و نظریات امریکی آئین سے مطابقت نہیں رکھتے جو تمام امریکیوں کو بلاتفریق مذہب برابر قرار دیتا ہے۔
وقت اشاعت : 2015-10-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں