تازہ ترین : 1
Afghanstan Se Americi Inkhela Main Takheer

افغانستان سے امریکی انخلاء میں تاخیر، بگاڑ کا باعث بنے گی

ایک رائے جو حقیقت کے قریب تھی ،یہ تھی کہ یہ محض اعلان ہے اس پر عملدرآمد نہیں ہو گا کیونکہ امریکہ نے افغانستان پر جو حملہ کیا تھا یہ کئی پہلو رکھتا ہے۔ ایک تو طالبان کی حکومت کا خاتمہ پیشِ نظر تھا

”کیا امریکہ اپنے اعلان کے مطابق افغانستان سے اپنی تمام فوجوں کو واپس لے جائے گا؟ “ یہ سوال اس وقت اُٹھایا گیا تھا جب امریکہ کی جانب سے پہلی مرتبہ 2014 ء افغانستان سے فوجیں واپس لے جانے کا اعلان منظرِ عام پر آیا تھا جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے متضاد آراء کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک رائے جو حقیقت کے قریب تھی ،یہ تھی کہ یہ محض اعلان ہے اس پر عملدرآمد نہیں ہو گا کیونکہ امریکہ نے افغانستان پر جو حملہ کیا تھا یہ کئی پہلو رکھتا ہے۔
ایک تو طالبان کی حکومت کا خاتمہ پیشِ نظر تھا کہ اپنے فہم کے مطابق اسلام کے مکمل نفاذ سے افغانستان دوسرے اسلامی ممالک کے عوام کے لئے رول ماڈل بن سکتا تھا۔ ان ملکوں کے عوام میں اسلام نظام کی حقیقی تڑپ عملی جذبہ میں تبدیل ہو سکتی تھی اور اسلامی تعلیمات پر مشتمل ایسا نظام معرضِ وجود میں آجائے گا جوجدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور ان کی بجا آوری کی صلاحیتوں سے مالا مال ہو گا۔
ایسا نظام کن کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ کوئی سر بستہ راز نہیں ہے لہٰذا اس کا راستہ روکنا ضروری تھا۔ دوسرے پاکستان کی سٹرٹیجک پوزیشن بھی بہت منفرد ہے۔ چین ، روس اور وسطیٰ ایشیا کے ہمسایہ ممالک اب تک زمینی راستے سے سہل اور نزدیک ترین رسائی بحیرہ عرب کے ذریعہ خلیجی ریاستوں اور مشرق وسطیٰ تک آبی رابطے، خود ملک میں کراچی گوادر جیسی بڑی گڈانی ، پسنی اور پورٹ قاسم جیسی چھوٹی بندرگاہیں سستی اور تیز رفتار تجار ت کا بہترین ذریعہ، ایران سے ترکی اور ترکی سے یورپ تک زمینی راستوں کی سہولت یہ سب کچھ پاکستان کی اہمیت کو دوچند کرنے کا باعث ہیں۔
اس حوالے سے جائزہ لیا جائے تو امریکہ افغانستان میں اپنی مستقل موجودگی کو یقینی بنا کر نہ صرف ان سہولتوں سے فیض یاب ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سیاسی، معاشی اور عسکری میدانوں میں حقیقی چیلنج بننے والے ممالک چین اور روس کا راستہ روکنے کی سہولت بھی حاصل کر سکتا ہے افغانستان سے مکمل انخلاء امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کیلئے امریکہ نے پہلے تو افغانستان پر پڑھائی کر دی بارہ سال طویل جنگ میں وہ مزاحمتی قوت سے طالبان کو زیرنہ کر سکا۔
چنانچہ حکمت عملی میں تبدیلی لائی گئی اور طالبان کو مذاکرات کے ذریعہ اپنے ڈھب لانے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ کوششیں کامیابی اور ناکامی کے مراحل سے گزرتی رہیں۔ اس دوران دونوں میں عسکری تصادم بھی جاری رہا تاہم ان دنوں ان کوششوں کا تازہ ترین مرحلہ دوبارہ مذاکرات ہیں۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین ایسا ماہدہ طے پاجائے جس سے نہ صرف وہ دونوں شریک اقتدار ہو جائیں بلکہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی پر بھی رضا مند ہو جائیں جبکہ طالبان نے پہلے مذاکرات کی شرط مکمل امریکی انخلا کی رکھی تھی مگر اب لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی امریکہ نے افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کے عمل میں تاخیر کرنے کیلئے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے واپسی کے پروگرام میں تاخیر کا عندہ دیا ہے کابل کا دورہ کرنے والے امریکی وزیر وفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کے عمل میں تاخیر کرنے کے لئے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے جبکہ امریکی صدر باراک اباما نے کہا ہے کہ افغانستان میں فوج کی تعداد دس ہزار سے کم کرکے پانچ ہزار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
اس سب کا جائزہ لیا جائے تو سیاست کی عالمی بساط پر نظر رکھنے والوں کے اس اندازے کی توثیق ہوتی، کہ امریکہ افغانستان کو آسانی سے چھوڑ کر جانے والا نہیں ہے اور اس سے ایسے خدشات سر اٹھا رہے ہیں کہ اس فیصلے سے ملک میں شورش میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ طالبان نے امریکی فوج کی موجودگی میں مذاکرات سے انکار کرکے دوحہ میں اپنا دفتر بند کر دیا تھا دوبارہ مذاکرات پر اگرچہ آمادگی ظاہر کی گئی ہے مگر امریکی افواج کی مکمل واپسی کے مطالبے سے دستبرداری کا فیصلہ نہیں ہوا ہے پر امریکی حملے سے افغانستان کی سرزمین جس تباہی سے دوچار ہوئی اور طالبان کو کیسانقصان برداشت کرنا پڑا اس سے قطع نظر خود امریکہ کوبھی مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
بہتر ہے کہ امریکہ اب افغانستان کی حکومت اور طالبان کو اپنے طور پر معاملات طے کرنے کی آزادی دے اور خطے کے ممالک بالخصوص پاکستان کے کردار کو تسلم کرے اس سے خطے میں پائیدارامن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور یہ خطے کے عوام پر بالخصوص اور پوری دنیا پر بالعموم امریکہ کا احسانِ عظیم ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان سے امریکی انخلاء میں تاخیر سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ یہ صورتحال میں بگاڑ کا باعث بن سکتی ہے۔
وقت اشاعت : 2015-02-28

(1) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں