تازہ ترین : 1
Afghanistan Siasi Adam Istehkam Ka Shikar

افغانستان ،سیاسی عدم استحکام کا شکار

اشرف غنی، عبدالہ عبداللہ نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے پر اتفاق کیا۔ ووٹوں کی دوبارہ گنتی دراصل اشرف غنی کا مطالبہ تھا اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی لڑائی کے اس مرحلہ میں اشرف غنی کی جیت ہوئی ہے

سہیل عبدالناصر:
افغان صدارتی انتخاب کا پہلا مرحلہ نہایت خوش کن تھا اور دکھائی دیتا تھا کہ یہ بدنصیب جنگ زدہ ملک جمہوری استحکام کی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ تباہ کن ثابت ہوا۔ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی،دونوں صدارتی امیدواروں نے ایک دسرے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے نتائج مسترد کر دئے۔
خدشہ پیدا ہو چلا تھا کہ افغانستان، پشتون امیدوار اشرف غنی اور تاجک نژاد عبداللہ عبداللہ کی حمائت میں کہیں تقسیم نہ ہو جائے لیکن امریکی صدر باراک اوبامہ کی دونوں امیدواروں سے ٹیلیفون پر گفتگو اور بعد ازاں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ کابل اور دونوں امیدواروں سے بات چیت نے سیاسی گرداب کو کافی حد تک ختم کر دیا۔ دونوں امیدواروں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے پر اتفاق کیا۔
ووٹوں کی دوبارہ گنتی دراصل اشرف غنی کا مطالبہ تھا اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی لڑائی کے اس مرحلہ میں اشرف غنی کی جیت ہوئی ہے۔ ووٹوں کی دوبارہ گنتی شروع ہو چکی ہے اور 22جولائی کو حتمی نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔
مذکورہ صدارتی الیکشن محض افغانستان کا داخلی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ بھرپور علاقائی لڑائی کے بڑے منظر نامہ کا ایک حصہ ہے۔
عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کا پس منظر ہمیں صورتحال اور اس کے پس پردہ کارفرما عوامل کو کو سمجھنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا تعلق افغانستان کے شمال سے ہے جہاں اب بھی روس کے گہرے اثرات ہیں اس سمیت متعدد وجوہ کے تحت عبداللہ عبداللہ کو روس کا حامی امیدوار سمجھا جاتا ہے جو کوئی غلط تاثربھی نہیں۔ اسی طرح اشرف غنی نسلاً پشتون ہیں۔
کابل سے متصل پشتون صوبہ لوگر سے ان کا تعلق ہے۔ سردار داؤد کی حکومت کا تختہ الٹنے سے قبل وہ سکالر شپ پر امریکہ جانے میں کامیاب ہو گئے اور وہیں کے ہو رہے۔ افغانستان کے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلہ میں عبداللہ عبداللہ کی برتری اور اشرف غنی کے ہارنے کے باعث یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ افغانستان میں امریکہ دو شکستوں سے دوچار ہوا۔ فوجی اعتبار سے اسے طالبان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی تو سیاسی اعتبار سے روس نے اسے شکست سے دوچار کیا۔
یہ تاثر راسخ ہوتے ہی صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلہ میں اشرف غنی کی کامیابی کیلئے خوب زور لگایا گیا۔ وہ اشرف غنی جو پہلے مرحلہ میں محض چھتیس فیصد ووٹ لے سکے دوسرے مرحلہ میں باون فیصد سے بھی آگے جا نکلے۔ نتائج کے اعلان سے پہلے ہی عبداللہ عبداللہ نے اپنی کامیابی کا دعویٰ کر دیا اور کابل سمیت متعدد علاقوں میں ان کی حمائت میں جلوس نکالے گئے۔
ایک سابق وزیر خارجہ اور ایک سابق وزیر خزانہ کی یہ لڑائی اس نہج پر پہنچ گئی کہ ملک کا سیاسی عدم استحکام ، طالبان کی شورش سے زیادہ خطرناک ہو گیا۔ جان کیری کو ہنگامی طور پر کابل پہنچنا پڑا۔ دونوں امیدواروں سے مذاکرات کے نتیجہ میں طے پایا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی اقوام متحدہ کے مبصرین کی زیر نگرانی مکمل کی جائے گی اور اس عمل میں اتحادی افواج ان کی مدد کرے گی۔
پیشگوئی یہ کی جا رہی ہے کہ اس بندوبست کے نتیجہ میں اشرف غنی ہی افغانستان کے نئے صدر ہوں گے۔
افغانستان میں اس بدترین سیاسی عدم استحکام نے ایسے وقت جنم لیا جب امریکہ اور اس کے اتحادی ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ان حالات میں امریکہ کسی بھی قسم کے انتشار کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن اس معاہدہ کے باوجود معاملہ پوری طرح ختم نہیں ہوا۔
کوئی بعید نہیں کہ متلون مزج افغان کس وقت بگڑ بیٹھیں۔اسی باعث معاہدہ طے پانے کے باوجود جان کیری نے کابل میں کہا تھا کہ اب بھی مشکلات موجود ہیں اور طویل سفر طے کرنا ہے۔ معاہدہ کے تحت سب سے پہلے کابل میں موجود بیلٹ بکس کھولے جائیں گے جس کے بعد اتحادی فوج صوبوں کے دوردراز علاقوں سے بیلٹ بکس اکٹھے کر کے جہازوں اور ہیلی کاپٹروں پر کابل پہنچائیں گے۔
دونوں امیدواروں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ دوبارہ گنتی کے نتائج قبول کریں گے اور کامیاب امیدوار ایک قومی حکومت تشکیل دے گا۔نئے صدر کی دو اگست کو منعقد ہونے والی تقریب حلف برداری اب ملتوی کر دی گئی ہے اور حامد کرزئی کو ایوان اقتدار میں قیام کیلئے مزید چند روز میسر آ گئے ہیں۔ صدارتی امیدواروں کے درمیان اس معاہدہ کے نتیجہ میں جہاں افغان عوام نے سکھ کا سانس لیا وہاں پاکستان نے بھی قدرے اطمینان محسوس کیا کیونکہ افغانستان میں کسی بھی قسم کے عدم استحکام کے برے اثرات بہرحال پاکستان پر مرتب ہوتے ہیں۔
لیکن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس حوالہ سے عجیب منطق کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے صدارتی انتخاب کے دوران ڈالے گئے ووٹوں کی ازسرنو گنتی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان میں گزشتہ عام انتخابات کا مکمل آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عمران خان نے جوش میں یہ مطالبہ کر تو دیا ہے لیکن اس معاملہ کی سیاسی و سفارتی نزاکتوں کو با لکل ملحوظ نہیں رکھا اور یہ حقیقت بھی ان کے ذہن میں نہیں تھی کہ افغان صدارتی انتخاب کے نتائج کو دونوں بڑے امیدواروں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے مسترد کیا جس کے بعد ملک میں متوازی حکومت تشکیل دینے کی دھمکیاں دی گئیں،خدانخواستہ پاکستان میں ایسی کوئی صورت پیدا نہیں ہوئی۔
افغان صدارتی انتخاب میں عالمی اور علاقائی کھلاڑی شامل ہیں،یہ محض افغانستان کا داخلی سیاسی معاملہ نہیں۔ اشرف غنی کو امریکہ کا اور عبداللہ عبداللہ کو روس کا حمائت یافتہ امیدوار سمجھا جاتا ہے، اس کے برعکس پاکستانی انتخابات میں عالمی و علاقائی سیاست اس حد تک دخیل نہیں عالمی کھلاڑی کھلے عام پاکستان کی سیاست و انتخاب میں اس درجہ مداخلت کر سکیں۔
افغان الیکشن کا تنازعہ حل کرانے کیلئے امریکی صدر اور وزیر خارجہ کو براہ راست مداخلت کرنا پڑی، دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان ایک معاہدہ کے نتیجہ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر اتفاق ہوا لیکن عمران خان کو علم ہونا چاہیے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی اقوام متحدہ کے مبصرین کی نگرانی میں ہو گی جب عالمی اتحادی فوج”ایساف“ اس ضمن میں تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔
اتحادی فوج تمام افغان صوبوں سے بیلٹ باکس ہیلی کاپٹروں اور طیاروں پر کابل پہنچائے گی جہاں ووٹوں کی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ افغان امیدواروں نے دوبارہ گنتی کیلئے تو امریکہ، اقوام متحدہ اور ایساف پر اعتماد کیا تاہم بفرض محال پاکستان میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوتی ہے تو عمران خان خان گنتی کے بندوبست کیلئے کس پر اعتماد کریں گے کیونکہ انتخابی بندوبست کے ذمہ دار تمام اداروں پر وہ پہلے ہی عدم اعتماد کر چکے ہیں۔ افغان طرز پر پاکستان میں انتخابی نتائج کی ازسرنو مکمل چھان بین کے مطالبہ سے ملک کے خالصتاً ایک داخلی معاملہ کو بین الاقوامی رنگ دینے کا تاثر ابھر سکتا ہے جو کسی اعتبار سے نیک شگون نہیں ہو گا۔
وقت اشاعت : 2014-07-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں