تازہ ترین : 1
Afghanistan Main Sadarti Intekhabat

افغانستان

ووٹ ڈالنے کا مرحلہ پرامن طور پر اختتام پذیر۔۔۔۔۔جزوی طور پر نتائج آنا بھی شروع ہو گئے ہیں۔ اس صدارتی انتخاب میں دو مرتبہ منتخب ہونے کی وجہ سے حامد کرزئی شریک نہیں ہو سکتے تھے

انور سدید:
پاکستان کی مغربی سرحد (ڈیورنڈ لائن) کی دوسری طرف واقع پڑوسی ملک افغانستان میں صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا مرحلہ کسی بڑے تصادم کے عمل میں آئے بغیر ختم ہو گیا ہے اور جزوی طور پر نتائج آنا بھی شروع ہو گئے ہیں۔ اس صدارتی انتخاب میں دو مرتبہ منتخب ہونے کی وجہ سے حامد کرزئی شریک نہیں ہو سکتے تھے۔ صدارتی انتخابات کے لئے گیارہ امیدوار میدان میں اترے تھے لیکن تین نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے۔
باقی آٹھ میں سے کانٹے کا مقابلہ تین امیدواروں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، اشرف غنی اور زلمے رسول میں تھا۔ تاہم عبدالرسول سیاف کو بھی اہمیت دی جا رہی تھی جنہوں نے اسامہ بن لادن کو افغانستان میں آنے کی دعوت سب سے پہلے دی تھی۔ افغانستان کے پولنگ سٹیشن دور دراز کے علاقوں میں واقع ہیں اور ووٹوں کی صندوقچیاں کابل لانے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق اب تک صرف دس فیصد پولنگ سٹیشنوں کی گنتی ہوئی ہے اور اس کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو جو تاجک ہیں 42 فیصد، اشرف غنی کو جو پشتون ہیں 38 فیصد ووٹ ملے لیکن زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے ان دو امیدواروں میں سے کوئی بھی 50 فیصد کی حد تک نہ پہنچ سکا۔ جب کہ عبدالرسول سیاف کو تاحال صرف 5 فیصد ووٹ ملے ہیں اور امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حتمی نتائج شائد فیصلہ کن ثابت نہ ہوں اور ”ری الیکشن“ ناگزیر ہو جائے اور اول الذکر دو امیدواروں کو اگر کثرت مل جاتی ہے تو اسے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے دوسرے امیدواروں کے تعاون کی ضرورت سے عاری قرار دینا ممکن نہیں۔
بالخصوص اس لئے کہ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میں مخاصمت کی دبیز فضا نسلی بنیادوں پر سلسلہ در سلسلہ چلی آ رہی ہے اور یہ دونوں 2001 کے بعد جب طالبان نے کابل کو خیرباد کہہ دیا اور امریکی ”فاتحین“ نے کرزئی حکومت قائم کر لی تو یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اقتدار میں بہتری اور مسابقت کے لئے الجھ گئے تھے۔
2009کے انتخابات میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نشست نشین صدر حامد کرزئی کے خلاف اہم امیدوار تھے لیکن وہ شکست کھا گئے۔
پاکستان میں مقیم 30 لاکھ افغان مہاجروں نے ان کی شکست میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر عبداللہ نے اس 2009 کے الیکشن پر دھاندلی کا الزام لگایا تھا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبے کو پنپنے کا موقعہ دیا۔ انہیں احمد شاہ مسعود کا تعاون حاصل رہا اور وہ وزارت دفاع کے ترجمان کے فرائض بھی انجام دیتے رہے اور انہوں نے احمد شاہ مسعود کی وزارت دفاع کے علاوہ افغانستان کی خارجہ پالیسی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
موجودہ الیکشن میں انہیں افغانستان کی متعدد سیاسی جماعتوں․․․․․ حزب اسلامی، وحدت اسلامی، حزب جمعیت اسلامی وغیرہ کا تعاون بھی حاصل تھا۔ زیادہ ووٹ لینے والے دوسرے صدارتی امیدوار اشرف غنی عالمی بنک میں کام کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں افغان امور کے خصوصی نمائندے ابراہیمی کے 2001 میں مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے حامد کرزئی کی کٹھ پتلی حکومت میں دو سال تک وزیر خزانہ کا قلم دان بھی سنبھالے رکھا لیکن پھر صدر حامد کرزئی سے ان کے اختلاف بڑھتے چلے گئے اور وہ حامد کرزئی کے بدترین مخالفین میں شمار کئے جاتے تھے۔
تیسرے اہم صدارتی امیدوار زلمے رسول کو صدر حامد کرزئی کی حمایت حاصل تھی۔ طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو وہ کرزئی کے ساتھ ہی کابل آئے تھے اور 2010 تک کرزئی کی مشاورت کرتے رہے۔ انہوں نے بیرون اور کولمبیا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور عالمی امور کی شناسائی کا دعوی بھی کرتے ہیں۔
افغانستان کے صدارتی انتخابات کے بعد جو نیا منظر نامہ پنپنے والا ہے وہ اس خطہ کے لئے بے حد اہم ہے۔
ایک طرف امریکہ 2014 کے اختتام تک اس ملک سے شکست فاتحانہ“ کے بعد انخلا کی تیاری کر رہا ہے لیکن وہ اس خطے کو خالی بھی کرنا نہیں چاہتا۔ چنانچہ کرزئی کے ساتھ امریکہ کا معاہدہ تاحال عمل میں نہیں آ سکا جب کہ ڈاکٹر عبداللہ اور اشرف غنی مبینہ طور پر امریکہ کو یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ وہ امریکی فوج کے کچھ حصے کے قیام کے معاہدے پر دستخط کر دیں گے دوسری طرف افغانستان میں روس کی خواہش بھی روز افزوں ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کو آگے بڑھائے۔
روسی صدر پیوٹن وسطی ایشیا کی منحرف ریاستوں کو اپنے دائرہ عمل میں لانے کے لئے فعال ہو چکا ہے اور افغانستان میں سابقہ شکست کے باوجود اس کی دلچسپی کم نہیں ہوئی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ روس 1989 کی پسپائی کے نقصانات بھی پورے کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان کے لئے افغانستان کی نئی قیادت کا منظر نامہ بے حد اہم ہے۔ اس ملک میں اندرونی خلفشار اور باہمی چپقلش کا سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوا اور مقامی ”وار لارڈرز“ (WAR LORDS) کی اہمیت ہمیشہ قائم رہی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ نے 1956 میں پاکستان کے صدر سکندر مرزا کو پیشکش کی تھی کہ وہ افغانستان کو پاکستان میں شامل کر لیں اور تاریخی حقیقت تو یہ ہے کہ ایک زمانے میں افغانستان کا بیشتر علاقہ پاکستان کا حصہ رہا ہے۔ جنرل ضیاالحق نے روسی یلغار کے دور میں ”سٹریٹجک ڈیتھ“ (STRATEGIC DEATH) کا خواب دیکھا تھا جو اب بھی قائم ہے۔
اس خطے کے دوسرے بڑے ملک بھارت بھی افغانستان کے مضبوط بلکہ برتری کے تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے 2001 کے بعد بھارت نے امریکہ کے ساتھ سلسلہ جنبانی قائم رکھا اور پاکستان کو ہمیشہ نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ خوش قسمتی سے افغانستان پہلی مرتبہ جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے اور نیا سیاسی منظر نامہ مرتب کر رہا ہے۔ اس کا فیصلہ اپریل 2014 کے انتخابات کے حتمی نتائج آنے کے بعد اور نئی حکومت کے تشکیل پانے کے بعد ہی ہو گا۔ تاہم بعض تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد روس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی افغانستان میں حالات کو ایسے موڑ کی طرف بھی لا سکتی ہے جو پاکستان کے لئے خطرناک ہوں۔ اس لئے حکمرانوں کو ہمہ وقت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
وقت اشاعت : 2014-04-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں