بند کریں
جمعہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
افغانستان میں امن کا قیام
یہ خواب سچ ہونے کے ہے!۔۔۔۔افغانستان کم وبیش ایک عشرے تک جنگ میں الجھا رہا لیکن گزشتہ برس امریکی فوج کے انخلا کا عمل شروع ہونے کے بعد امن کو ترستے ہوئے اس ملک کے دکھوں کے خاتمے کی واضح امید دکھائی دینا شروع ہو گئی ہے
نعیم خان:
افغانستان کم وبیش ایک عشرے تک جنگ میں الجھا رہا لیکن گزشتہ برس امریکی فوج کے انخلا کا عمل شروع ہونے کے بعد امن کو ترستے ہوئے اس ملک کے دکھوں کے خاتمے کی واضح امید دکھائی دینا شروع ہو گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اشرف غنی کی حکومت نے افغانستان طالبات کے ساتھ امن مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے چند ہفتوں کے دوران میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

افغان طالبان اور افغانستان کی حکومت کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز کے لئے صدر اشرف غنی پاکستان کی مدد اور حمایت کے منتظر تھے۔ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں حقیقی قیام امن کیلئے کی جانے والی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے اور اس حوالے سے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے پرتیا رہے۔
جہاں تک امن مذاکرات کے حوالے سے افغان طالبان کے موقف کا سوال ہے تو ہر چند کہ ان کے ترجمان ذیبح اللہ مجاہد، نے ایسی کسی کوشش یا منصوبے کی موجودی سے انکار کیا ہے تاہم حقیقت یہی ہے کہ جلد یا بدیر امن مذاکرات شروع ہو کر رہیں گئے کیونکہ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان کو تباہ کن خانہ جنگی سے بچانے کا یہی واحد راستہ ہے۔

صدر اشرف غنی مسلسل اس کوشش میں تھے کہ کسی طور پاکستان کے افغانستان کے حوالے سے خدشات دور کئے جائیں تاکہ افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے ضمن میں پاکستان کی مدد اورحمایت حاصل ہو جائے۔ اس ضمن میں انہوں نے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے بھارت کے ساتھ اسلحہ کی فراہمی کے ایک معاہدے کو موخر کیا اور افغان سرحد پر نگرانی کاعمل موثر بنایا تاکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ کیا جاسکے۔

اشرف غنی کے پیش رو حامد کرزئی نے ا پنی ہر غلطی اور خامی کا الزام پاکستان کے سر تھوپنے کی جوروایت قائم کی تھی موجودہ صدر اشرف غنی نے اس کا خاتمہ کیا اور آج دونوں برادرممالک کے درمیان اعتماد کی جو فضا قائم ہوئی ہے اس کی خوشبو پورے خطے میں پھیل سکتی ہے ۔ پشاور کے آرمی پبلک سکو ل پر تحریک طالبان پاکستان کے وحشیانہ حملے کے بعد افغان حکومت نے جس طرح پاکستان کے ساتھ تعاون کیا وہ اپنی مثال آپ ہے اور اس تعاون کے نتیجے میں ہی اس اندوہناک واقعہ میں ملوث بعض دہشت گردوں کو زندہ گرفتار کرنے میں مددملی۔

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کے مطابق افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ اہم اور مثبت ہے کہ اس حوالے سے برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے تاہم اس عمل اس عمل کو خالصتاََ افغانوں کے ہاتھوں میں سونپنا ضروری ہے کیونکہ افغانستان کا مستقبل افغانوں کے ساتھ ہ وابستہ ہے اورایک آزاد اور خود مختار ملک میں کسی دوسرے ملک کی دخل اندازی کبھی اچھے نتائج پیدا نہیں کرتی۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان