بند کریں
جمعہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
افغانستان کی نئی قیادت
اس کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے!۔۔۔۔۔افغان قیادت کو پاکستان سے شکایت رہی ہے کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں ان عسکریت پسندوں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں جو سرحد پار کر کے افغانستان میں کار روئیاں کرتے ہیں
اسعد نقوی :
افغانستان کی نئی حکومت کو متعدد مسائل کا سامنا ہے ۔اگر نئی قیادت ان کو حل کر سکی تو افغانستان ترقی کی جانب سفر کر سکتا ہے ۔اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو نہ صرف حکومت خطرے میں پڑ جائے گی بلکہ افغانستان دوبارہ خانہ جنگی کی جانب جا سکتا ہے۔
افغانستان میں سیاسی تبدیلی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور انتخابات کے بعد شروع ہونے والے اختلافات بھی بظاہر حل ہو چکے ہیں۔
اب ایک مخلوط حکومت بن چکی ہے نئی افغان حکومت کو اپنے آغاز سے ہی متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ نیٹو فورسز بظاہر واپسی کے لئے پر تول رہی ہیں اور ابتدائی فوجی دستے واپس جا چکے ہیں۔اب افغانستان کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ خود مختار ملک کے طور پرکام کر سکتا ہے اور اسے بیرونی آقاوٴں کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ بظاہر یہ سب کتابی باتیں لگتی ہیں کیونکہ افغانستان کے حالات دیکھتے ہوئے یہ ممکن نظر نہیں آتا ۔
افغان قیادت کو اب چومکھی لڑائی لڑنا ہوگئی۔اسے نہ صرف اپنی سرحدوں کو استعمال ہونے سے بچانا ہے بلکہ اندورنی حالات کوبھی بہتر بنانا ہے۔
افغان قیادت کو پاکستان سے شکایت رہی ہے کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں ان عسکریت پسندوں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں جو سرحد پار کر کے افغانستان میں کار روئیاں کرتے ہیں۔ایسی ہی شکایت پاکستان کو بھی افغانستان سے ہے کہ افغانستان میں ملا فضل اللہ سمیت اہم طالبان کمانڈرز کے سیف ہاوٴس بنے ہوئے ہیں جو وہاں بیٹھ کر پاک فوج اور عوام پر حملے کروارہے ہیں۔
پاکستان نے عسکریت پسندوں کے خاتمے کیلئے آپریشن ضرب عضب کے نام سے جون سے ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ اس دوران ایک ہزار سے زیادہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔اس آپریشن کا افغانستان کے حالات پر بھی اچھااثر پڑے گالیکن اگر افغانستان موجودہ ہٹ دھرمی کا شکار رہا اور اس سلسلے میں پاکستان سے تعاون یہ کیا تو پھر یہی عسکریت پسند نئی افغان حکومت کے لئے درد سربن جائیں گے۔
اب افغان قیادت کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے پاک فوج کے اس آپریشن کو کامیاب بننے میں کردارادا کرنا ہے پھر عسکریت پسندوں کو سرحد پار پناہ دے کر یہ سلسلہ جاری رکھنا ہے۔
افغان قیادت کو امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں منشیات کی کاشت اور خرید و فروخت کو بھی ختم کرنا ہے۔ یہ افغانستان کے وار لارڈزکا اہم کاروبار ہے لیکن اس کی وجہ سے افغانستان عالمی سطح پر مشکوک ہو چکا ہے۔
دوسری جانب یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ طالبان نے اپنے دور حکومت میں منشیات کی کاشت اور خرید وفروخت پرکافی حد تک قابو پالیا تھا لیکن طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد اس میں پھر تیزی آئی ہے۔ اب نئی قیادت کو ہنگامی بنیادوں پر ایسے انتظامات کرنے ہوں گے جن سے یہ کاروبار ختم ہو اور دنیا کے سامنے افغانستان کی نئی پہچان سامنے آئے۔
افغانستان طویل عرصہ جنگ وجدل کا شکار رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد معذور ہوگے ہیں اور سینکڑوں گھر اجڑ چکے ہیں مجموعی طورپر افغانستان کے بعض علاقوں میں توا نفراسٹر کلچر مکمل طورپر تباہ ہو گیا ہے۔ بے روزگار نو جوانوں کے پاس ہتھیار اتھانے کے سوا اور کوئی راستہ بچا ہی نہیں۔ افغانستان قیادت اگر ملک کی ترقی اور بہتری چاہتی ہے تو پھر اسے چار لاکھ سے زائد نئی ملازمتیں پیدا کرنی ہوں گی۔
افغانستان کو شدید اندورنی عسکریت پسندی کا سامناہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ستمبر 2013 سے اگست 2014 کے دوران ہی 36 ہزار افغان فوجی اہلکار فورسز سے الگ ہو چکے ہیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں۔ جو زخمی ہونے کی وجہ سے ناکارہ ہوگے اور وہ بھی جو طالبان کے حملوں کی شدت کو دیکھتے ہوئے مفرور ہوگئے۔اب نئی حکومت کے آتے ہی طالبان نے اپنے حملے مزید تیز کر دیئے ہیں۔
یہاں تک کہ اب یہ باتیں بھی گردش کرنے لگی ہیں کہ نئی حکومت کابل کوبھی محفوظ نہیں رکھ سکتی ۔ اس صورت حال میں نئی افغان قیادت کا مورال مزید گرسکتا ہے۔ نیٹو فورسز کے انخلاء سے طالبان میں پہلے ہی مزید جوش و جذبہ دیکھنے میں آرہاہے۔ حکومت کو اس صورت حال سے نکلنے کیلئے بھی ٹھوس منصوبہ بندی اور عملی کام کی ضرورت ہے
تاریخ اشاعت: 2014-11-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان