تازہ ترین : 1
afghanistan  me America Shikast ka  Baqaida ailan

افغانستان میں امریکی شکست کا باقاعدہ اعلان

پاکستان کے خلاف امریکی صدر کا ٹویٹ، سی پیک کی شکل میں امریکہ کے لیے پاکستانی حدود میں سرخ لائن کھینچی جاچکی ہے

محمد انیس الرحمان:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹر پیغام نے پاکستان تو کیا اثر انداز ہونا تھا خود امریکہ کی قلعی کھل گئی ہے یہ ٹویٹر پیغام جس میں پاکستان کو دھمکیاں دی گئی تھی درحقیقت امریکی صدر کی جانب سے افغان میں امریکی شکست کا اعلان تھا آجکل چونکہ میڈیا کا دور دورہ ہے اس لئے ذرا سی بات دنیا بھر میں لمحوں میں پھیل جاتی ہے ورنہ جو لوگ جدید تاریخ سے واقف ہے ان کے علم میں ہے کہ جس وقت امریکہ کو ویت نام میں شکست سامنے کھڑی نظر آنے لگی تو اس نے کمبوڈیاکو کوسنا شروع کردیا تھا امریکی وزیر دفاع رابرٹ میکنا مارا جو کینیڈی کے دور میں وزیر خارجہ تھا اس ساری صورتحال کا ماسٹر مائنڈ کہلاتا ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب ویت نام میں ہنوائی سائیگان اور گولون جیسے بڑے شہروں میں بھی امریکی ویت کانگ کے دلیرانہ حملوں کی وجہ سے غیر محفوظ ہوچکے تھے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں ابھرنے والی سپر طاقت امریکہ اس صورتحال میں باقی دنیا کو کیا منہ دکھائے؟یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکاتھا اس لئے کمزور اور چاروں طرف مسائل میں گھرے کمبوڈیاکی شامت آئی امریکیوں نے کمپوڈیا پر الزام عائد کیا کہ شمالی ویت نام میں ویت نامی حریت پسند ویت کانگ کے کمپوڈیا میں بیس کیمپ ہیں جو وہاں سے آکر ویت نام میں امریکیوں پر حملوں میں ملوث ہیں اس وقت کے صدر نکسن کے ایسے بیانات کیا آج پاکستان کے خلاف ٹرمپ کے بیان سے مختلف ہیں؟ٹرمپ کا بھی یہی الزام ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں انتہا پسندوں جن میں حقانی نیٹ ورک بھی شامل ہے کے محفوظ ٹھکانے ہیں جو وہاں سے آکر افغانستان میں امریکیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیاناتی کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ وہی امریکی صہیونی سکرپٹ ہیں جو وہ شکست نظر آنے پر بار بار دہراتا ہے۔
کمپوڈیا اس قسم کے الزام لگانے کے بعدآخر کار امریکی صدر رچرڈنکسن نے 30 اپریل1970 ٹیلی ویژن پر آکر کمبوڈیا کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا تھا امریکی جنوبی فوج ویت نامی عوام کے ساتھ مل کر کمبوڈیاپر حملہ آور ہونے جارہی ہے جہاں پر موجودہ شمالی ویت نام کے ویت کانگ گوریلوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں تاکہ ویت نام کے اندران کی سپلائی لائن کاٹی جاسکے اس سے پہلے چند امریکی فوجیوں کی لاشیں بھی کمپوڈیا کے دریا میں بہا کر انہیں بعد میں برآمد کیا گیا اور الزام کمبوڈیاپر لگادیا جو ویت نام کی جنگ کی وجہ سے خود معاشی اور سیاسی طور پر بنیادوں تک بلا ہوا تھا اس سے ہی پہلے امریکی فضائیہ امریکی عوام کے علم میں لائے بغیر کمبوڈیا پر بمباری کررہی تھی درحقیقت نکسن نے کمبوڈیا پر اعلان جنگ سے کئی ماہ قبل ہی وہاں پر بمباری کا حکم دے دیا تھا لیکن اس سے پہلے نکسن اپنے اس اعلان جنگ پر باقاعدہ عمل کرتا اسے سیاسی طور پر واٹر گیٹ اسکینڈل کی وجہ سے مستعفی ہونا پرا۔
نکسن نے امریکہ کی عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر جو وجوہات کمبوڈیاپر حملے کے لیے گھڑی تھیں اس پر امریکی عوام یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسے صدر کی کسی بات پر کیسے یقین کرلیتے جس نے واٹر گیٹ اسکینڈل میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا تھا اس سارے منظر نامے میں ایک حیرت انگیز موڑ اس وقت سامنے آکر امریکی قوم سے خطاب کرتا ہے اور انہیں کمبوڈیا پر ایسے حملے کی ابتدا کے بارے میں بتاتا ہے جو وہ کئی قبل ہی خاموشی سے کرچکا تھا منظر نامہ کچھ اس طرح سے تھا کہ نکسن کے ہاتھوں میں تقریر کا مسودہ تھا اور وہ روانی سے امریکی قوم کو کمبوڈیاپر حملے کی وجوہات سے آگاہ کررہا تھا کہ اچانک مسودے چوتھے صفحے پر نکسن کو محسوس ہوا کہ تقریر پر اسکرپٹ سے ہٹ گئی یہاں کچھ دیر توقف کے بعد نکسن اپنی نشست سے اٹھ کر قریب موجودجنوبی ویت نام اورکمبوڈیا کے بڑے نقشے کی جانب مڑتا ہے اورہاتھ کی انگلی سے اشارہ کرکے ویت نام اور کمبوڈیا کی سرحد کے قریب واقع مبینہ ویت کانگ کے عسکری کیمپوں کی جانب اشارہ کرکے امریکی عوام کا آگاہ کرتا ہے کہ ان کی وجہ سے امریکی افواج کو کمبوڈیا میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد تقریباً چند رسمی جملوں کے بعد ختم کردی جاتی ہے مسودے میں تبدیلی کی غلطی کیا نادانستہ تھی؟کیا امریکی صدر کے اسٹاف میں نقب لگ چکی تھی معاملہ کچھ بھی ہو اس واقعے نے امریکی عوام کو بے حد مایوس کیا نکسن کا زوال شروع ہوچکا تھا بعد میں اپنی کتاب میں نکسن نے دنیا پر ایک نہ نظر آنے والے ہاتھ کی حکومت کا ذکر کیا تھا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نہ نظر آنے والا ہاتھ نکسن کے ساتھ ہاتھ گرگیا تھا اس سارے واقعے کو نیویارک ٹائمز اور ہفت روزہ ٹائم میگزین کی ٹائیٹل سٹوری بنایا گیا ۔
۔۔۔جی ہاں یہ وہی نیو یارک ٹائمز ہے جو آج پاکستان کو کہہ رہا ہے کہ پاکستان کے خلاف اقدام سے اگر ردعمل میں پاکستان نے افغانستان کے لیے نیٹو سپلائی بند کردی تو صورتحال امریکہ کے خلاف سخت ہوسکتی ہے امریکیوں نے ویت نام سے بھاگتے ہوئے کمبوڈیا کا جو حشر کیا وہ اب تاریخ ہے لیکن پاکستان کو کمبوڈیا سے موازنہ کرنے والے کے دماغی توازن پر شک کرنا پڑے گا سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سترکی دہائی میں اور موجودہ دور میں بہت فرق ہے کمبوڈیا امریکہ کی ویت نام جنگ کے دوران سیاسی اور معاشرتی طور پر ہل چکا تھا اسے علاقائی سطح پر بڑی قوت کا تعاون بھی حاصل نہیں تھا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اُس زمانے کے لحاظ سے وہ ایک بالکل لاوارث قسم کی ریاست میں تبدیل ہوچکا تھا جہاں امریکہ کو ویت نام کا غم غلط کرنے کا بھرپور موقع ملا تھا لیکن بات پھر بھی نہ بن سکی تھی اس وقت کے رہے سہے میڈیا نے امریکی سفارتخانے کی چھت پر موجود آخری ہیلی کاپٹر پر امریکی فوجیوں کے فرار کی تصاویر دنیا بھر میں عام کردی تھیں جبکہ پاکستان کو ایسی کسی بھی صورتحال کا سامنا نہیں ہے۔
سب سے پہلے پاکستان ایک جوہری قوت ہے دوسرے افغانستان میں سوویت یونین کی جنگ کے دوران اس کے ادارے پراکسی جنگ کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں تیسرے ایک منظم اور پیشہ ورانہ فوج یہاں موجو دہے اس کے علاوہ اس کے دفاعی اداروں کو داخلی دہشت گردی سے نمٹنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے اس کے علاوہ سیاسی محاذ پر امریکہ اور برطانیہ نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی شکل میں یہاں جو سیاسی سیٹ اپ مسلط کروایا تھا تاکہ اقتصادی طور پراسے اندر سے کھوکھلا کردیا جائے وہ بری طرح پٹ چکا ہے سی پیک کی شکل میں پاکستان کو شمالی علاقوں سے لیکر گوادر تک لائف انشورنس حاصل ہوچکی ہے جس کے لیے سب سے مضبوط کردار بیجنگ اور ماسکو ادا کررہے ہیں کیونکہ اب ان کے اپنے مفادات بھی یہاں اسی قدر ہیں جتنا کہ خود پاکستان کے چین چالیس برس کے پٹے پر گوادر کی بندرگاہ لے چکا ہے اب کیا امریکہ یا بھارت اس کے خلاف براہ راست کسی قسم کی مہم جوئی کا آپشن رکھتے ہیں بلوچستان کو امریکہ اور بھارت نے مل کر بین الاقوامی قوتوں کے کھیل کا میدان بنانے کی بھرپور کوشش کی لیکن آج تک انہیں وہاں سے کیا حاصل ہوسکا؟اورنہ آئندہ کچھ حاصل ہوسکے گا۔
بھارت کو شدید خواہش ہے کہ امریکہ کے ہاتھوں ہی افغانستان کا معاملہ طے ہو کیونکہ بھارت کسی صورت افغانستان میں اپنی فوج نہیں بھیجے گا اس کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے کہ بھارتی کبھی افغانوں یا پختونوں کے سامنے خود اپنے علاقوں میں کھڑے نہیں ہوسکے تو کجا یہ کہ وہ افغانستان میں جاکر ان افغانوں کا مقابلہ کریں گے جن کے سامنے امریکہ اور اس کے صہیونی مغربی اتحادی نیٹو کی شکل میں کامیاب نہ ہوسکے اس لئے پاکستان کے لیے بہتر ہے کہ وہ امریکہ سے بغیر کوئی جھگڑا مول لئے دنیاکے سامنے واضح کردے کہ یا تو امریکہ افغانستان کو مستقبل اس کے عوام پر چھوڑ کر وہاں سے نکل جائے یا پھر خود اس جنگ کو لڑئے پاکستان نے جس قدر مدد کرنی تھی وہ اس سے کہیں زیادہ کرچکا خود داخلی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ اسی ہزار سے زائد فوجی اور سوملین افراد کی قربانیاں دے چکا ہے امریکہ اگر اپنے طاقتور ترین اتحادیوں کے ساتھ آکر بھی افغانستان میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل نہیں کرسکا تو پھر اسے یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان نے امریکہ اور اس کے بچے کھچے اتحادیوں کے خلاف نئی جنگ حکمت عملی اختیار کی ہے کہ وہ صر ف موسم بہار کا انتطار نہ کریں بلکہ اس موسم میں بھی امریکیوں اور افغان فوج پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں امریکی جانی نقصان سے بچنے کے لئے خود پیچھے رہتے ہیں جبکہ افغان فوج کو آگے رکھا جاتا ہے اس کے علاوہ اب افغان طالبان چھوٹے یونٹوں کی شکل میں تمام افغانستان میں پھیل کر یہ کاروائیاں کررہے ہیں آنے والے وقت میں یہ صورتحال امریکہ کو مزید تنگ کردے گی اس لئے پاکستانی اداروں کو چاہئے کہ امریکی اور دیگر مغربی ملکوں کے عوام تک صورتحال کو واضح کرنے کی حکمت عملی اپنائیں اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو لوٹنے والوں کے خلاف اب فیصلہ کن کاروائی کریں کیونکہ آنے والیوقت میں پاکستان کا کردار نہ صرف خطے کے لیے بلکہ باقی دنیا کے لیے بھی انتہائی اہم ہونے جارہا ہے اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے وطن عزیز کے اندر معاشی دہشت گردوں کی جلد از جلد گردنوں کو دبوچ کر انہیں انجام تک پہنچانا پڑے گا کیونکہ داخلی طور پر استحکام کے ساتھ ہی پاکستان آنے والے وقت میں حالات کا بہتر سامنا کرسکے گا۔

وقت اشاعت : 2018-01-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں