تازہ ترین : 1
Afghan Tarkeen Watan Ka Bohran

افغان تارکین وطن کا بحران

بیروزگاری نوجوان نسل کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔۔۔۔ انٹرنیشنل میڈیا افغان نوجوانوں کو بھاری تعداد کی یورپ نقل مکانی کو سیکورٹی مسائل کی وجہ قراردے رہا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے

رواں سال کو ایشیا اور افریقہ سے بڑے پیمانے پریورپ نقل مکانی کرنے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ایک محتاط اندازے کے تحت اب تک 424,000 تارکین وطن یورپی ساحلوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ پچھلے سال یورپ تک رسائی حاصل کرنے والے امیگرنٹس کی تعداد 219,000 نفوس پر مشتمل تھی۔قریباََ 2,748 تارکین وطن رواں سال بحرابیض کو عبور کرنے کی کوشش میں موت کے منہ میں چلے گے۔
اصلی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔ نقل مکانی کرنیوالے 424,000 تارکین وطن میں 38 فیصد سب سے زیادہ تناسب شام کے افراد کا ہے جبکہ افغان تارکین وطن 36 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
یورپ جانے والے افغان تارکین وطن کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے انٹرنیشنل میڈیا افغان نوجوانوں کو بھاری تعداد کی یورپ نقل مکانی کو سیکورٹی مسائل کی وجہ قرارد ے رہا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے افغان عوام کو پچھلے 35 سال سے سیکورٹی مسائل کا سامنا ہے۔
ان کی یورپ نقل مکانی کی اصل وجہ معاشی بحران ہے۔
2001 میں طالبان کو اقتدار سے بیدخل کر کے سابق افغان صدر حامد کرزئی کی جمہوری حکومت کو نیٹو کی مدد سے قائم کیا گیا اس دورمیں افغانستان برق رفتار سماجی اور معاشی ترقی کے ایک دور میں داخل ہو ا تھا۔ یہ گروتھ تعمیراتی شعبے میں بھاری امریکی سرمائے سے ممکن ہوئی۔لاکھوں افغان نوجوان کو نہ صرف ملک بھر کے سکولوں اور یونیورسٹیز میں داخلہ ملا بلکہ امریکہ، برطانیہ اور بھارت کی جانب سے بھی انہیں دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں تعلیمی سکالر شپ پر داخلہ دیا گیا۔

افغان معیشت اس وقت لڑکھڑانا شروع ہوئی جب نیٹو فوج نے افغانستان سے انخلا کا اعلان ہوا اور بھاری سرمایہ کاری فوری روک گئی۔ غیر ملکی امداد، تعمیرات اور لاجسٹک معاہدوں میں کمی کی وجہ سے افغان معیشت کو سخت افراط زر کا سامنا کرنا پڑا ۔ بیروزگاری نے تعلیم یافتہ افغان نسل میں نااُمیدی پھیلنا شروع کرید ی۔ ان میں یہ احساس تیزی سے بڑھا کہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری ان کی مخفی صلاحیتوں کو ضائع کر رہی ہے۔

انسانی سمگلروں نے افغان نوجوانوں کو سہانے خواب دکھا کر انہیں یورپ جانے کی ترغیب دی ۔وہ انہیں ایسے خواب دکھاتے کہ افغان نوجوان اپنا گھر بار اور قیمتی اشیاء بیچ کر ان کے لیے رقم کا بندوبست کرتے۔ انہیں یہ ادائیگی مختلف اقساط میں کی جاتی ہے۔ انسانی سمگلرز انہیں نمروز کی سرحد سے ایران داخل کرتے۔ یہاں سے کئی دنوں کی مسافت کے بعد وہ ترکی پہنچتے۔
استنبول میں انسانی سمگلرز ان تارکین وطن کو اس وقت تک زیر زمین خفیہ گھروں میں قیام کراتے جب تک وہ ان کے لیے یورپ کے زمینی یا سمندری سفرکا انتظام نہیں کر دیتے۔ چند پناہ گزین مغربی ترکی کے ساحل سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے یونانی جزیروں تک رسائی حاصل کرتے۔ دیگر زمینی سفر کے ذریعے یونانی یا بلغاریہ جاتے۔ ان کی آخری منزل ہنگری یا یورپی یونین کے زون سچنجن ہوتی۔
ایک اوسط افغان تارکین وطن کو اس سفر کے دوران 6 ہزار ڈالر اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں۔
افغان تارکین وطن کے مسئلے کا طویل المدت حل یہی ہے کہ نئی پڑھی لکھی افغان نسل کو ملازمتیں فراہم کی جائیں۔ مختصر منصوبے کے تحت یورپی حکومت کو سرمایہ، دستاویزی فلمیں اور اشتہاری مہم کے ذریعے افغان لوگوں کو یورپ کے غیر قانونی اور خطر ناک سفر سے آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر تارکین وطن یورپ نقل مکانی کے خطرے سے آگاہ ہوں تو وہ کبھی بھی اپنی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
وقت اشاعت : 2015-10-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں