تازہ ترین : 1
Afghan Muamlat Main Nakami K Baad

افغان معاملات میں ناکامی کے بعد

پاکستان کے خلاف بھارت کا نیا کھیل شروع۔۔۔۔۔ افغانستان پاکستان اور مشرق وسطی میں ایک ہی کھیل کھیلا جارہا ہے

محمد انیس الرحمن :
بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی ایک مرتبہ پھر معمول بنتی جارہی ہے ۔ص یہ سب کچھ اس وقت ہورہا ہے جب روس میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کا نفرنس کے دوران نواز مودی ملاقات کے بعدایک مشترکہ اعلامیے میں بہت سے نکات پر اتفاق ظاہر کیا گیا تھا ۔ لیکن ایک طرف مذکرات کی منیر پر آنے کا اظہار تو دوسری جانب لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھمبر کے علاے میں جاسوسی کے لئے ڈرون طیارہ بھیج دی جسے پاک فوج نے گرا لیا ۔
یہ بھارت کی چانکیہ سیاست کا ایک اشارہ ہے یعنی بغل میں کہیں زیادہ ہوچکے ہیں ۔ جب نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی اس موقع سے فائدہ اٹھاکر بھارت نے ایک جانب افغانستان اور دوسری جانب اپنی حدود سے پاکستان کے خلاف ایک خاموش اعلان نگ کیا ہوا ہے ۔ جس میں اسے بڑی قوتوں کی حمایت حاصل ہے ۔ اس وقت جبکہ پاکستان امریکہ اور چین کو اون بورڈ لیکر افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے تو یہ صورتحال بھی بھارت کو سخت ناگوار گزررہی ہے اور اس کی بھر پور کوشش ہے کہ افغانستان میں کوئی بھی ایسا نظام نہ آسکے جو پاکستان کے لئے باعث اطمینان ہو ۔
یہ وجہ ہے ذارئع کے مطابق افغان پارلیمنٹ پر حملے کا کھرا بھارت کی طرف نکلتا ہے ۔ دوسری جانب بھارتی اور امریکی کٹھ پتلی کرزئی ایک مرتبہ پھر بھارتی اشارے پر متحرک ہوچکے ہیں اور وہ اپنے ساتھیوں کو باور کرارہے ہیں کہ اشرف غنی کی حکومت افغانستان میں قیام امن کے لئے ناکام ہوچکی ہے اور وہ خود جلد ایک عبوری حکومت کی سربراہی کریں گے ۔ کرزئی کے منہ میں یہ بات بھارت نے ڈالی ہے جبکہ پاکستانی قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ موصوف اپنے تمام دور صدارت میں بھارت کی زبان بولتے رہے ہیں ۔

اس حوالے سے یہ کہنا بعید ازقیاس نہیں ہے کہ امریکہ بھی افغانستان میں اپنی شکست کا ایک بڑا سبب پاکستان کو سمجھتا ہے اس لئے وہ اس وقت اون بورڈ تو ہے لیکن اس کی کوشش ہوگی کہ کاہل میں مستقبل قریب میں کوئی ایسا سیٹ اپ بن سکے جو پاکستان کے کردار کو خطے میں مزید طاقتور کردے اور بھارت کو اس کے سامنے جھکنا پڑے ۔ قوم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وطن عزیز کے دیگر حصوں کی طرح کراچی ، بلوچستان میں کون فساد برپا کرارہا ہے ۔
دوسری جانب خارجی اور سفارتی سطح پر معاملات کا جو حال ہے اس نے نواز حکومت کی ذہنی وسعت کا پول کھول دیا ہے کہ یہ گوادر سے آگے تک کا ویژن ہی نہیں رکھتے انہیں اس بات کا کردار اک ہی نہیں کہ اس کے پرے جو حالات پیدا ہوچکے ہیں اسی بڑے کھیل کا ایک بڑا حصہ وطن عزیز میں کھیلا جارہا ہے ۔
ٓٓآج وطن عزیز کے جو حالات ہیں اس حوالے سے ہم پہلے بھی مختلف زاویوں سے یہ بات کہنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ مشرق وسطی کے موجودہ حالات اور پاکستان اور افغانستان کی صورتحال وہ الگ چیزیں نہیں ہیں ہمیں ان تمام عوامل کو ایک ہی زاویہ سے دیکھنا ہوگا ۔
اس وقت شمالی افریقہ سے لے کر پاکستان تک مغرب مسلم دنیا پر باقاعدہ حملہ آور ہے یہ ایک طرح سے ایسی تیسری عالمی جنگ ہے جو بے قاعدگی سے لڑی جارہی ہے ۔ اس وقت پاکستان میں اگردور اندیش قیادت موجود ہوتی تو مشرق وسطی کے حالات کی آڑ میں اپنے آپ کو امریکہ اور مغرب کے دباؤ سے آسانی کے ساتھ نکال سکتی تھی لیکن ایسا اس لئے نہیں ہوسکا کہ امریکہ اور مغرب کے ساتھ نادیدہ معاہدوں میں جکڑے ہوئے ہمارے حکمران اس وقت مغرب میں اپنے اثاثوں کے تحفظ میں پوری قوم اور ملک کا مستقبل داؤ پر لگائے ہوئے ہیں ۔
مشرق وسطی سے لیکر پاکستان تک حالات کا اگر بغورجائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوگا کہ اس وقت اسرائیل کی دنیا پر عالمی سیادت قائم کرنے کے لئے یہ جنگ لڑی جارہی ہے اور اسرائیل کے راستے کی رکاوٹ بننے والے عناصر کو دہشت گرد قراردے کر نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ عالمی صہیونیت کی یہ چاکری امریکہ اور برطانیہ بہ حسن وخوبی انجام دے رہے ہیں ۔ مشرق وسطی میں امریکہ نواز حکمرانوں کا زوال اور اس پر امریکہ کی دوغلی پالیسی سے صاف عیاں ہے کہ سب کچھ انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے ۔
اس میں سب سے پہلے چین کے خلاف بندپاندھنے کا مسئلہ ہے ، اگر یہ کہا جائے کہ سوڈان اور لیبیا میں جنگی صورتحال دراصل چین کی اقتصادی اور سفارتی پیش قدمی روکنے کے لئے تھی تو بھی بے جانہ ہوگا ۔ لیبیا میں فرانس اور برطانیہ کے جنگی دستے خفیہ طور پر باقاعدہ زمینی جنگ لڑتے رہے ہیں ۔ انہوں نے عملا لیبیا کو دوحصوں میں تقسیم کرکے شمالی لیبیا میں جہاں جہاں چینی مفادات تھے ان پر بمباری کی اور ملک کودو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔
سوڈان میں جنوبی سوڈان کو اسی پالیسی کے تحت دولخت کیا گیا تھا ۔ کیونکہ وہاں دار فور سے لیکر جنوبی سوڈان کی تیل کی تنصیبات تک چینی ماہرین سوڈان کی توقی میں اپنا حصہ ڈال رہے تھے ۔ یہ وہ کیفیت ہے جو امریکہ اور اس کے صلیبی اتحادیوں کو ہضم نہیں ہورہی تھی
مصر چونکہ اسرائیل کا ہمسایہ ملک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی صحرائے سینا کے ساتھ متصل ہے اس لئے بڑے کھیل کے لئے یہاں پر پرانے امریکہ نواز آمر حسنی مبارک کا تختہ الٹنا ضروری تھا ۔
حسنی مبارک انتظامیہ نے امریکہ اور اسرائیل کے دباؤپر فاہ پاس کو فلسطینیوں کے لئے بند کردیا تھا ۔ کیونکہ اسرائیل کا الزام تھا کہ فلسطینی مجاہدین اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران اس راستے سے ہتھیاروں اور خوراک کی کمک حاصل کرتے ہیں ۔ اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ آنے والے دنوں میں اسرائیل ایک مرتبہ پھر فلسطینیوں اور مصریوں پر یہ الزام عائد کرے گا کہ یہاں سے اسرائیل کے خلاف ہتھیار سمگل ہوتے ہیں ۔

دوسری جانب یمن کی صورتحال اپنے عروج پہنچ چکی ہے ۔ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی فضائی قوت نے یمنی حوثی باغیوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ان حالات نے عربوں اور ایران کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا جو اسرائیل کی دیرینہ خواہش کے مطابق ہے اب امریکہ ایران جوہری معاہدہ خطے میں اپنا رنگ دکھائے گا امریکہ اور اسرائیل کسی طور بھی ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے لیکن عربوں کو ڈرانے کے لئے یہی کہا جاتا رہے گا کہ ایران معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جو ہری ہتھیار بنانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے ۔
اس سارے معاملے میں جب یہ معاہدہ ہورہا تھا اسرائیل کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی امریکہ کی یہودی لابی شور مچایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سارے معاملے میں اسرائیل کی خاموش رضا مندی شامل تھی ․․․تاکہ مستقبل میں اسی ایران کے خلاف پراپیگنڈہ کرکے خطے میں امن کو تشویش ناک صورتحال ست دوچار کردیا جائے ۔
شام میں حکومت اور باغی دونوں کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں ۔
گذشتہ چار دبائیوں سے بعث پارٹی کے نام پر یہاں ایک اقلیتی فرقہ شامی مسلمانوں کے خلاف ظلم وستم کی کہانیاں رقم کرتا رہا ہے ۔ حافظ الاسد کے زمانے میں یہاں حماہ شہر پر باقاعدہ فضائیہ کے ذریعے بمباری کر کے ہزاروں مسلمان مظاہرین کو شہید کر دیا گیا تھا ۔ لاکھوں مسلمان زخمی ہوئے تھے تمام شہر کھنڈربنا دیا گیا تھا لیکن اس وقت یہ ان کے مفاد میں تھا اور ابھی وقت نہیں آیا تھا کہ یہاں کے مسلمانوں کے حق زبان کھولی جاتی ۔
گذشتہ برس واشنگٹن میں موجود فلسطینیوں کے ایک تھنک ٹینک کی جانب سے ایک رپورٹ امریکی چنیل پر پیش کی جارہی تھی کہ عالم عرب میں عوامی مظاہروں کے دوران اسلامی تحریکوں کا عنصر کم نظر آیا ہے جبکہ لبرل طبقے کی جانب سے عوامی قیادت کے لئے بھر پور کردار ادا مقصد ہونا ہے یہ سب کے علم میں ہے ۔خود امریکہ مغرب اور اسرائیل اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ اگر مغرب نواز آمروں کو اقتدار سے چلتا کیا جائے تو ان کے خلاکو صرف اور صرف اسلامی نظریات کے لوگ ہی پر کر سکیں گے ۔
یہ وجہ ہے کہ بڑے منصوبہ کے تحت مغرب نواز حکمرانوں کو چلتا کیا گیا تا کہ عوامی تائید سے یہاں اسلام پسند افراد کو اقتدار میں آنے کا موقع میسر آسکے اور اس کے بعد تمام دنیا میں یہ پراپیگنڈ کیا جائے کہ اسلام پسند حکومتیں اقتدار پر قابض ہو کر اسرائیل کے وجود کے درپے ہوچکی ہیں اور اب اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق ہے ۔
ایسا سب کچھ کس منصوبہ بندی کے لئے ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ عالمی اقتصادی بحران کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ اس بحران کی دھول تلے عالمی سپر طاقت کا اسٹیٹس امریکہ سے اسرائیل منتقل کر دیا جائے کیونکہ پہلے بھی ایک اتنا بڑا انتقال اقتدار وقوع پذیر ہوچکا تھا جس کے لئے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی دھول اڑائی گئی تھی تمام دنیا کو عسکری اور معاشی مجاذپر تباہ حالی سے دوچار کیا گیا تھا اس کے بعد لندن جو کبھی عالمی حکومت کا ہیڈ کواٹر تھا اور بینک آف انگلینڈ عالمی بینک تھا اور برطانوی پونڈ عالمی کرنسی تھی اس کی یہ حیثیت واشنگٹن منتقل کر دی گئی تھی ۔
یورپ میں قائم لیگ آف نیشنز کو تحلیل کر دیا گیا جو اس بات کی دلیل تھی کہ عالمی حکمرانی اب یہاں سے منتقل ہوچکی کیونکہ اس قسم کی تنظیم اسی جگہ ہوتی ہے جہاں عالمی حکومت کامرکز ہو۔ خاموشی کے ساتھ اس اسٹیٹس کولندن سے واشنگٹن منتقل کیا گیا ۔ اب ڈالر عالمی کرنسی تھی ، سنیٹرل ریزروبینک اور آئی ایم ایف عالمی بینک تھے ۔ واشنگٹن عالمی حکومت کا دارالحکومت تھا اور پھر یہاں پر لیگ آف نیشنز کی جگہ اقوام متحدہ کاڈرامہ گھڑا گیا۔
بعین یہی صورتحال اب اسرائیل کے لئے وضع کی جارہی ہے ۔ پروشلم کو عالمی حکومت کو دار الحکومت بنایا جارہا ہے اور شیکل ڈالر کی جگہ لے گا ۔ اسی لئے پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک دور چلایا گیا ہے تاکہ جہاں کہیں بھی اسلامی مزاحمتی تحریکیں طاقت میں ہوں تو انہیں انہی مسلم ممالک کی گوجوں کے ساتھ مل کر کچلا جاسکے یہ کام اسی وقت شروع ہوگیا تھا جس وقت سودیت یونین کو افغانستان میں شکست کے بعد تحلیل ہونا پڑا تھا ۔
نوے کی دہائی سے لیکر اب تک دودہائیوں کا عرصہ اسی کام کے لئے صرف کیا گیا ہے ۔ یعنی راسخ العقیدہ مسلمانوں کا کچلنا اور مسلم ملکوں میں لبرل عناصر اور دیگر اسلام دشمن باطنی فرقوں کو ساتھ ملا کر طاقت حاصل کرنا ۔ تاکہ مطلوبہ وقت اور ہدف کے دوران کسی قسم کی سخت مزاحمت نہ ہوسکے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو بعض عرب درائع بھی اس قسم کی اطلاعات دے رہے ہیں کہ اسرائیل میں ایک بڑی جنگ کی تیاریاں زورشور سے جاری ہیں ۔
خود اسرائیل کے بعض اندر کے حلقے اس بات پر حیرت کا اظہار کررہے ہیں کہ کسی بڑے واقعے کی تیاری عروج پر ہے ۔اس لئے ہمارے خیال میں جس وقت عوامی مظاہرے شام سے نکل کر اردن تک پہنچیں گے اور ان کا شاہ عبداللہ اپنا سوٹ کیس لے کر عازم واشنگٹن ہوگا اس وقت اردن میں بھی عوامی حکومت کی راہ ہموار ہوجائے گی لیکن ہم پھرکہیں گے کہ وہاں بھی اس خلاکو اسلامی فکر کے افراد پورا کریں گے اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے علاقے دوحہ میں قائم الجزیرہ نیوز چینل جسے مسلمان اپنا چینل سمجھتے ہیں اس بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے گا ۔
یہی معاملہ اسرائیل کو دنیا کے سامنے یہ کہنے پر مجبور کرے گا کہ اس میں موجود صہیونی لانی کی جانب سے اپنے دفاع کے لئے پیشگی حملوں کا مطالبہ زور پکڑے گا ۔یقینی بات ہے کہ گذشتہ دودہائیوں کے دوران کسی عرب ملک کی یہ حالت نہیں رہی ہے کہ وہ دفاعی لحاظ سے منصوبہ ہوتا ۔صادم حسین کا عراق کچھ سکت رکھتا تھا سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا باقی عرب ریاستوں کی رہی سہی کسر عوامی انقلاب کے دوران نکل چکی ۔
اس پر طرہ یہ ہے کہ اسرائیل قسم کی ترقی یافتہ جدید ترین ہتھیار بناچکا ہے جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہم پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ بہت سی چیزیں امریکیوں کے بھی علم میں نہیں ہیں ۔
ان حالات میں جس وقت اسرائیل اپنے دفاع کے نام پر پٹروسی عرب ریاستوں پر یلغار کرے گا تو غالباََ حکومتی سطح پر کوئی عرب فوج اس کا راستہ روکنے کی صلاحیت کی حامل نہیں ہوگی ۔
اسرائیل کا سب سے پہلا ہدف عالم عرب کے تیل کے ذخائز ہوں گے جن پر قبضہ جما کر وہ برطانیہ کو نکال کرباقی یورپ اور دوسری جانب چین ، جاپان ، روس کی اقتصادیات کے گلے پر ہاتھ ڈال دے گا۔امریکہ کے پاس اپنا تیل وافرمقدار میں ہے جبکہ برطانیہ نادرن سی کے تیل پر آسانی کے ساتھ گزراہ کر سکتا ہے ۔لیکن باقی دنیا جس وقت اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کو حکم دے گی کہ اب وہ یہاں سے اپنا بوریابستر گول کرے ۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوگی کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے تو عالمی حکومتوں کے دارلحکومت میں ہوتے ہیں اور اب یہ اسٹیٹس واشنگٹن سے پروشلم منتقل ہوچکا ہوگا تو پھر اس ادارے کی ویسے بھی وہاں ضرورت نہیں رہے گی ۔
یہ ہے وہ بنیادی ہدف جس کے لئے عالمی صہیونی صلیبی اتحاد نے شمالی افریقہ سے لیکر پاکستان اور افغانستان تک ایک بڑی آگ بھڑ کائی ہے ۔
اس آگ کو کہیں عوامی ردعمل کا نام دیا جارہا ہے تو کہیں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کہا جارہا ہے ۔پاکستان کا اس سارے منظر نامے میں تاحال ایک بڑا اہم کردار ہے ۔عالمی صلیبی اور صہیونی اتحاد سمجھتا ہے کہ جب تک پاکستان کے جوہری اثاثے پاکستانیوں کے قبضے میں ہیں وہ اپنے اس مقصد کو پوری طرح حاصل نہیں کر سکیں گے ۔جنرل مشرف کا آٹھ سالہ دور حکومت ان مقاصد کی بار آوری کے لئے عالمی صہیونی وصلیبی اتحاد کے لئے بہت اہم تھا ۔
کیونکہ اسی دور میں پاکستان کو خانہ جنگی کے دہانے پر دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔مشرف سے لال مسجد آپریشن اسی لئے کروایا گیا تھا کہ فوج اور قبائلیوں کو آپس میں دست وگربیاں کردیا جائے ۔ہگتی کو اسی لئے قتل کروایا گیا کہ بلوچستان میں شورش برپا ہوجائے ۔ مشرف دور کے صرف ان وہ واقعات کو ہی لے لیاجائے تو صاف محسوس ہوگا کہ قوم ابھی تک ان ہی واقعات کے نتائج بھگت رہی ہے ۔
جبکہ قسمتی سے پہلے این آراوزدہ نام نہاد جمہوری سیٹ اپ قائم کیا گیا اس کے اصل عزائم سے بھی قوم اب پوری طرح آگاہ ہے اس کے بعد بھارت نواز نون لیگ آگئی اور معاملات سب کے سامنے ہیں ۔
پاکستان میں جان لیواجمہوریت کو ڈی اریل ہونے سے بچانے کا نعرہ بلند کرکے حکمران قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے ہیں کیونکہ اس وبال جان جمہوریت کو بچاتے بچاتے قوم کا بھر کس نکل چکا ہے ۔
اگر امریکہ کا ساتھ نہ دینے کی پالیسی اختیار کرتے اور قوم پر پابندیاں لگتیں تو شاید قوم کا اتنا براحال نہ ہوتا جتنا زرداری گروپ نے جمہوریت کی آڑ میں کردیا تھا اور اب رہی سہی کسرنون لیگ نے نکال دی ہے ۔ہم ہہلے بھی بار بار لکھ چکے ہیں کہ پاکستان کے منصوبہ سازاداروں کو سکی طور بھی مشرق وسطی کی صورتحال سے صرف نظر نہیں کرنا چاہئے وہ بھارت کی حرکات کا جائزہ بھی اسی صورتحال کے تناظر میں لیں کیونکہ خطے کے حالات کی جو تصویر ظاہری طور پر دکھائی جارہی ہے حالات اس کے برعکس کہیں اور جارہے ہیں ۔
وقت اشاعت : 2015-07-24

(3) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

اپنی رائے کا اظہار کریں