بند کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”عام آدمی“
جس نے دہلی پر اپنا راج قائم کیا جب تاج اچھالے جائیں گے‘ جب تخت گرائے جائیں گے
ابن ظفر:
کچری وال بھارت کا ایک عام آدمی تھا، جسے اب بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کا میڈیا خصوصی اہمیت دے رہا ہے۔ اس نے دہلی میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری عام آدمیوں کی مدد سے ختم کردی ہے۔ یہ ایک بڑی سیاسی ہلچل ہے جو دنیا بھر کے سیاست دانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر ان کے ہاں بھی عام آدمی اٹھ کھڑا ہوا تو کیا ہوگا۔
عام آدمی کی کہانی دوسال سے زیادہ طویل نہیں ہے لیکن عزم ، ہمت اور جہد مسلسل سے اس نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کچری وال نے لگ بھگ ایک سال پہلے ”عام آدمی پارٹی“ رجسٹر کروائی تھی۔ اب وہ دہلی کا وزیز اعلیٰ ہے۔ بھارتی ریاست میں اٹھنے وال طوفان ہمارے حکمرانوں کو بھی دعوت فکر دے رہا ہے کہ اگر عوام کو حقوق نہ ملیں تو پھر عام آدمی اپنے جیسے عام آدمیوں کی مدد سے بڑے سیاسی برج گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ کہانی زیادہ پرانی نہیں ہے ۔ بھارت میں کرپشن کے خلاف انا ہزارے نامی ایک شخص نے بھوک ہڑتال کی تو اسے بڑی شہرت ملی۔ یہ شخص غیر سیاسی تھا اور آج بھی خودکو غیر سیاسی ہی کہتا ہے ۔ یہ محض کرپشن کے خلاف کھڑا ہوا تھا۔ اس نے اپنی سطح پر رہتے ہوئے کرپشن کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ ابتدا میں کچھ لوگ اس کے ساتھ ملے، پھر اسے غیر ملکی میڈیا نے کوریج دینا شروع کردی۔
انا ہزارے کے ساتھ ایک اور شخص بھی مل گیا۔ یہ چھوٹے قد کا شخص دیکھنے میں ہیڈ کلرک لگتا تھا۔ اس میں نہ روایتی تیز طراری تھی اور نہ ہی اس کا لہجہ جوش خطابت سے بھر پور تھا۔ اس کا نام اندرو کچری وال تھا۔ اس نے انا ہزارے کے ترجمان کے طور پر کام کرنا شروع کردیا۔ میڈیا نے اسے اسی حیثیت سے کوریج دی کہ یہ انا کا ترجمان ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے انا ہزارے کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے بیانات بھی جاری کرنے شروع کردئیے۔
اس کے خیالات انا سے کچھ مختلف تھے لیکن اس کے مقاصد وہی تھے۔ ایک سال قبل اس نے ”عام آدمی پارٹی“ کے نام سے ایک جماعت منظم کی۔ اس پارٹی کی سب سے زیادہ مخالفت انا ہزرے نے ہی کی۔ اس کا خیال تھا کہ انہیں غیر سیاسی رہتے ہوئے اپنے حقوق کی آواز اٹھانی چاہئے۔ یہاں سے کچری وال اور انا ہزارے کے راستے جدا ہوگئے۔ کچری وال اپنی دھن میں مگن رہا ۔
وہ بڑے سیاسی ناموں اور جاگیرداروں کی بجائے گلی محلوں اور تھڑوں پر بیٹھے عام آدمیوں سے ملا۔ اس نے انہیں کہا کہ دہلی کی حکومت چلانے والی دنوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی بی جے پی اورکانگریس چور ہیں اور ایک دوسرے کی کرپشن کو سہارا دیتی ہیں۔ یہ اپنی اپنی باریاں لیتی ہیں جبکہ عوام پستے چلے جارہے ہیں۔ انہیں عام آدمی کے مسائل سے کوئی غرض نہیں۔
اپنے حالات بہتر بنانے ہیں تو دہلی کی حکومت خود چلانا ہوگی۔
وہ اس سے پوچھتے کہ وہ ان کے حالات بہتر کیسے کرسکتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں کسیے کرسکتا ہوں؟ آپ کو اپنے حالات خود بہت کرنے ہوں گے۔ اپنے فیصلے خود کرنے کیلئے آپ کو دہلی کی پارلیمان میں بیٹھنا ہوگا۔ اس نے ان کے سامنے چھوٹے چھوٹے مسائل رکھے۔ یہ مسائل یوں تو چھوٹے تھے مگر عام آدمی انہی مسائل میں جکڑے ہوئے تھے۔
اس نے پانی ، بجلی اور آٹے کا ذخر کیا کہ اگر ان کے بل آدھے ہوجائیں تو عام آدمی کو کتنا سکون مل سکتا ہے۔ لوگوں نے حساب لگایا تو انہیں لگا کہ واقعی ایسا ہوجائے تو ان کی زندگی کے آدھے مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔
دہلی کے سیاسی منظر نامے میں اسے اہمیت حاصل نہ ہوسکی۔ بنیادی طور پر دہلی کا الیکشن دو بڑی جماعتوں کے درمیان لڑا جارہا تھا۔ بی جے پی اور کانگریس کو ہی ہر جگہ موضوع بحث بنایا گیا۔
میڈیا نے بھی کچری وال اور ”عام آدمی پارٹی“ کو منہ نہ لگایا اسے کے پاس تو اتنے وسائل بھی نہ تھے کہ وہ دہلی کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں اپنے نمائندے کھڑے کرسکتا ۔ عام آدمی پارٹی صرف دہلی میں الیکشن لڑ رہی تھی اور اسے ”چنی منی“ سی جماعت سمجھا جارہا تھا۔ سیاسی حلقوں میں اول تو کچری وال کو زیادہ لفٹ ہی نہیں کرائی گئی۔ اگر کہیں اس کا ذکر ہوا بھی تو پرانے سیاست دانون اور میڈیا کے سینئر تجزیہ نگاروں نے اس کا مزاق ہی اڑایا۔

جب دہلی کے انتخابی نتائج آئے تو اس نے سب کو چونکنے پر مجبور کردیا۔ عام آدمی نے خاندانی سیاست دانوں کو شکست دے دی تھی۔ کانگریس کا صفایا ہوگیا جبکہ بی جے پی بھی اکثریت حاصل نہ کرسکی۔ یہ کچری والی کی ایک بڑی فتح تھی۔
اصولی طور پر کچری وال حکومت بنانے کا اہل ہوگای لیکن اس نے پرانے سیاسی مداریوں کو ایک اور جھٹکا دے دیا۔ ان نے اعلان کردیا کہ کانگریس بھی چور ہے۔
وہ اپنی حمایت کرنے اور حکومت سازی کرنے والی جماعت کے خلاف بھی بیان دینے لگ گیا۔ ان نے کہا چاہے حکومت ملے یا نہ ملے لیکن وہ چور کو چور ہی کہے گا۔ اس نے حکومت سازی کا فیصلہ عام آدمی پر چھوڑ دیا۔ دہلی کے مزدور، سبزی فروش، جمعدار سبھی تین چار دن بحث کرتے نظر آئے کہ ہمیں دہلی میں حکومت بنانی چاہئے یا کرسی کو لات ماردیں۔ کچری وال نے ان سے باقاعدہ رائے مانگ لی، لوگوں نے ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے اپنی رائے دی۔
مرکزی دفتر نے جو نتائج ترتیب دئیے ان کے مطابق 70 فیصد لوگوں نے انہیں حکومت بنانے کا مشور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر روایتی بیورو کریسی یا سیاستدانوں نے ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی تو وہ حکومت کو دوبارہ الیکشن پر مجبور کردیں گے اور پھر مزید اکثریت کے ساتھ آئیں گے اور پھر عام آدمی پارٹی نے دہلی میں حکومت شروع کردی۔
کچری وال ابھی تک لوگوں کو حیران کرتا چلا جارہا ہے۔
میڈیا سے اس نے کہا: میں دونوں طرف کے چوروں کو جیل میں ڈالوں گا۔ اس نے وزیر اعلیٰ کا حلف اپنے وزیروں کے ساتھ رام لیلا گراؤنڈ میں اٹھایا اور پروٹوکول لینے سے انکار کردیا۔ حلف اٹھاتے ہی پانی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے اعلیٰ افسروں سے ملاقاتیں کیں اور بالآخر اپنی بات منوانے میں کامیاب ہوگیا۔ کمپنیوں نے اسی کے بتائے فارمولے کے تحت پانی دینے پر اتفاق کرلیا۔

اس کے بعد وہ بجلی کے بل بھی آدھے کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اپنے حسابات کا آڈٹ کرانے اور حکومت کو آگاہ کرنے کا حکم دیا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ عام کو آدھے نرخوں پر بجلی دی جائے۔ اس کا یہ دورا اعلان عوام کو پاگل کردینے کیلئے کافی تھا۔ یہ عام آدمی کے دو بڑے مسائل تھے۔ جنہیں اس نے چند دن میں ہی حل کردیا۔
اس کا تیسرا بڑ ااعلان عام آدمی کو اپنی چھت فراہم کرنا ہے۔ دہلی کے عام شہری اب اس کے گن گارہے ہیں لیکن پرانے سیاستدان تاؤ کھائے بیٹھے ہیں۔
”عام آدمی پارٹی“ کی جانب سے دہلی کی سیاست میں ہل چل مچادینے کی آواز دنیا بھر میں گونج رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان میں بھی ایک ” عام آدمی پارٹی“ کے نام سے ایک سیاسی جماعت رجسٹر کروادی گئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی کچری وال موجود ہے؟
تاریخ اشاعت: 2014-01-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان