تازہ ترین : 1
Aalmi Isteemariyat Ki Nayi Jang Ki Ibtedaa

عالمی استعماریت کی نئی جنگ کی ابتداء مشرق وسطیٰ سے ہوگی

” گلوبل نیٹو“ کیا مغرب کی نئی صف بندی ہے؟ مشرق وسطیٰ میں روس اور چین کا مقابلہ کرنے کیلئے اسرائیل کو نیٹو کا غیر اعلانیہ ممبر بنایا گیا

محمد انیس الرحمٰن :
گذشتہ برس روس نے اپنے جنوب کی جانب امریکہ اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لئے آب غازیہ میں پیر جما کر جارجبا کو ایک زبردست جھٹکے سے دوچار کر دیا تھا جس کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی عسکری ماہرین کو بادل نخوستہ علاقے سے نکلنا پڑا تھا۔ اس اہم واقعے کے بعد ہی ان دونوں بڑی قوتوں کے درمیان ایک نئی سرد جنگ کی کیفیت پیدا ہوچکی تھی۔
اس برس یہی تاریخ امریکہ اور برطانیہ نے روس کے شمال مغرب کی جانب یوکرائن میں دہرانے کی کوشش کی تو یوکرائن کو شمال مشرق کی جانب سے کریمیا سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ افغانستان سے اپنا بوریا بستر لپیٹنے کی تیاری میں ہے اور افغانستان کے صدراتی انتخابات کا یاک بڑا اور اہم مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کی ابتدائی تیاریوں کے طور پر 2010ء میں لندن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا اس کانفرنس کا انعقاد اس وقت کانفرنس میں اٹھائے جانے والے نکات اس بات کی کھلی غمازی کرتے تھے کہ جس وقت امریکہ اور برطانیہ کو اس بات اندازہ ہوا کہ پہلے افغانستان اور اس کے بعد عراق پر امریکہ اور برطانیہ کی قیادت میں مغرب کی لشکر کشی سے فائدہ اٹھاکر روس اور چین نے یمن کی بندرگاہ خلیج عدن سے لے کر سوڈان کی پورٹ سوڈان تک اور دوسری طرف ایران تک اپنے عسکری ‘ معاشی اور سیاسی اثرورسوخ کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ وہ کسی وقت بھی مقامی قوتوں کے ساتھ مل کر امریکہ اور سے کے دم چھلے برطانیہ کو علاقے میں بے اثر کر سکتے ہیں، تو احساس ہوا کہ افغانستان کے جال میں پھنس کر وہ مشرق وسطیٰ سے لے کہ وسطی افریقہ تک کی بازی چین اور روس کے ہاتھوں ہارتے جا رہے ہیں۔
غالباََ انہی حالات کا نتیجہ ہے کہ لندن کانفرنس میں کسی مہذب ایشو کی بجائے دھونس‘ دھمکی اور رشوت جیسے معاملات پر بات ہوتی رہی۔ اس صورتحال کا پہلے ہی اندازہ لگاتے ہوئے افغانستان طالبان نے اس کانفرنس کو مسترد کر دیا تھا۔ ان کے نزدیک اس کانفرنس کا انعقاد وہ ملک امریکہ اور برطانیہ کر رہے تھے جو دنیا بھر کو جنگ و جدل میں جھونکنے کا اصل سبب ہیں۔
عالمی تجزیہ نگاربھی اس بات سے اتفاق کر تے ہیں کہ ساٹھ کی دہائی سے امریکہ کی سول اقتصادیات ملٹری اقتصادیات میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی تھی جبکہ اس اقتصادی تغیر کے پیچھے وال سٹریٹ کے صہیونی سرمایہ کار بینکوں کا ہاتھ تھا جنہوں نے باقاعدہ بھاری سرمائے اور فنڈز کی بنیاد پر امریکہ کی ” وار انڈسٹری“ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔
غالباََ روس اور چین کے ٹھنڈے دماغوں کے حامل پالیسی سازوں کی یہ بات سمجھ آچکی تھی کہ امریکہ کی اقتصادیات کا جنازہ نکالنے کے لئے اسے طویل جنگ میں دھکیلنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکہ نے نائن الیون کے ڈرامے کے بعد افغانستان پر چڑھائی کی تو عالمی سطح پر اسے کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ تھا۔ اس یلغار کے دوران امریکی اثرورسوخ ان علاقوں سے بھی ٹکرایا جو ماضی میں روس اور چین کے زیادہ قریب تصور کئے جاتے تھے لیکن اس کے باوجود ” خاموشی“ امریکیوں کا استقبال کرتی رہی۔
بیجنگ اور ماسکو اس بات سے آگاہ تھے کہ امریکہ کی ” وارنڈسٹری“ کی بدولت صہیونی بینکروں کا ایک مختصر ساطبقہ بے پناہ دولت کمالے گا، لیکن اس کے نتیجے میں امریکی اور پھر یورپ کے عام عوام کی کمر ٹوٹ جائے گئی اور جب عوام کی کمر ٹوٹ جاتی ہے تو وہ خود اپنے ہاں رائج سیاسی اور اقتصادی نطام کا دھڑن تختہ کر دیتے ہیں۔روس اورچین کو تاریخ میں اس عوامی ضرب کا سب سے زیادہ تجربہ رہا ہے۔

اس بات کو سمجھنے کیلئے ہمیں قریبی تاریخ کی جانب پلٹنا پڑے گا۔ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد جب دنیا قدرے پر سکون حالت میں تھی امریکی صدر ٹرومین نے 30 ستمبر 1950ء کو Basic US Policy Doctrineکے نام پر ایک دستاویز پر دستخط کر دیئے۔ اسے ٹرومین کا نیشنل سیکورٹی کونسل پیپر” NSC-68“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں کہا جاتاتھا کہ امریکہ عسکری امور کو حکومتی تحویل میں لے کر سیکورٹی کے نام پر اپنی اقتصادیات کو تقویت دے سکتا ہے۔
اس کے بعد ہی میں امریکی عسکری بجٹ میں 350فیصد اضافہ کر دیا گیا جس نے بعد امریکی ” اقتصادیات“ میں بنیاد کردار ادا کیا اور وال سٹریٹ کے صہیونی بینکروں نے سرمایہ کاری کے نام پر اس سے پھر پور فائدہ اٹھایا۔ اس دوران روس کے ساتھ سرد جنگ کو جاری رکھنے کیلئے ” دفاعی ٹھیکیداروں “ کو عسکری ٹھیکے ملنا شروع ہوئے اور اس کے ساتھ ہی امریکی صنعتی منصوبوں میں زوال اور کمزوری کی کیفیت پیدا ہونا شروع ہو گئی۔
اس وقت اسے امریکیوں نے کاریں‘ ٹی وی اور دیگر اشیا غیر ممالک سے خریدنا شروع کر دیں، ایک نئے ڈھنک کا آغاز ہو چکا تھا یعنی غیر ملکی اشیا پر ” امریکی لیبل“ لگائے جانے لگے۔ امریکی مارکیٹوں میں بہت سی ایسی اشیا بھی تھیں جو ایشیائی ممالک سے درآمد کی گئیں مگر ان پر لیبل امریکی ہوتے تھے۔
وال سٹریٹ امریکی معیشت میں ایک ایساطوطا ہے جس میں امریکی اقتصادیات کی جان کہی جا سکتی ہے۔
اس طوطے پر حکومت کرنے والے صہیونی بینکروں نے امریکہ میں دیگر پیداواری منصوبوں کو نظر انداز کر کے ملک میں عسکری پیداوار پرتمام تر توجہ مرکوز کر دی جس کا بعد میں یہ نتیجہ نکلا کہ ہنر مند افرادی قوت اور عسکریت سے ہٹ کر جدید تکنیک پر جاپان غالب آنے لگا۔امریکہ کے صہیونی سرمایہ کاروں نے سویلین نوعیت کے پیداواری منصوبوں کو چھوڑ کر امریکی حکومت کو اپنی مارکیٹ بنا لیا کیونکہ یہاں پر ان کی عسکری سرمایہ کاری کا ”ثمر“ اس امریکی ” فیڈرل ریزروبینک“ سے براہ راست حاصل ہو تا تھا جو خود صہیونی بینک مافیا کے قبضہ قدرت میں تھا اس لئے سویلین نوعیت کے پیداواری منصوبوں یعنی ٹی وی‘ واشنگ مشینیں یاادویات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کیا ضرورت تھی جبکہ بمبار طیارے اور ڈرون طیارے بنانے کے میدان میں منافع بخش منصوبوں میں سرمایہ کاری کی گنجائش موجود تھی!! اور ان میں منافع کئی گناہ زیادہ تھا اور رسک نہ ہونے کے برابر۔
۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ نائن الیون کے ڈرامے کے بعد امریکہ میں ” نیشنل سکیورٹی اسٹیٹ“ کا جو نظریہ پروان چڑھایا گیا وہ انہی صہیونی سرمایہ کار بینکروں کے دماغ کی اختراع تھی جو وال سٹریٹ میں براجمان تھے۔ یہ تمام وحشت اسی ایک صہیونی شیطانی منصوبے کے تحت پروان چڑھائی گئی تھی جسے ” نیشنل سکیورٹی ڈاکٹرائن“ NSC-68کا نام دے کر اس وقت کے امریکی صدرہیری ٹرومین نے 1950میں د ستخط کر کے ” عالمی عسکری صہیونی وحشت “ کو جنم دیا تھا۔
اس حوالے سے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہونے والی سرد جنگ کو ایک بہت بڑاعالمی فراڈ قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ نصف صدی تک نیویارک کی وال سٹریٹ اور لندن اکنامک زون کے صہیونی سیسہ گرامریکی اوریورپی عوام کوکمیونزم سے خوفزدہ کر کے عسکری پیداوا رکے نام پر بھاری ٹیکسوں کی وصولی کے ذریعے لوٹتے رہے۔
موجودہ صورتحال میں جبکہ افغان طالبان نے امریکہ کے صہیونی عسکری سرمایہ کاروں کی کمردہری کر دی اور صہیونی سرمایہ کار بینکروں نے امریکی عوام کی کمر توڑ دی، امریکی وار مشین پر اجارہ داری رکھنے والی کمپنیوں نے اوباما انتظامیہ کو نئے ہلاکت خیز اسلحے کی نوید سنانی شروع کر دی تھی تاکہ نئے برس کے امریکی بجٹ کا بڑا حصہ اڑایا جاسکے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکی صہونی بینکروں اور اسلحے کے ٹھیکیداروں کے کاندھوں پر سوار ہو کر وائٹ ہاوس میں پہنچنے والے باراک اوباما نے امریکہ کی جانب سے جاری کردی جنگوں، دفاعی ٹھیکیداروں کیلئے 2010ء میں ریکارڈ 708 بلین ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا۔ وال سٹریٹ کے اونچے برجوں میں پوشیدہ صہیونی سرمایہ کار بینکر براہ راست ان عسکری ٹھیکیداروں ، پینٹا گون اور وائٹ ہاوس کو ڈکٹیٹ کرنے کی قوت رکھتے ہیں انہی کی ہدایت کے تحت امریکہ کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں مخصوص قسم کے ” تجزیہ نگار“ امریکی وار مشین کیافادیت پر گفتگو کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ 5جون 2009ء کو گولڈ مین سچس کی رپورٹ میں اس بات کی پیش گوئی کر دی گئی تھی کہ جلد عسکری سرمایہ کاری میں زوال کے آثار نمایاں ہونے والے ہیں۔مگرامریکی ہلاکت خیز طیارے بنانے والی کمپنی” جنرل ڈائنا مکس“ نے ایک اور جدید اور ہلاکت خیز ڈرون طیارے کی تیاری کا اعلان کر دیا تھا تاکہ صہیونی سرمایہ کاروں کاس جانب راغب کیا جا سکے۔
اس کی ایک اور مثال اس طرح لی جا سکتی ہے کہ گولڈ مین سچس کی ر پورٹ میں سرمایہ کاروں کو وارننگ دی گئی تھی کہ ایک اور اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے حصص فروخت کر دیں اس کے باوجود صہیونی بینکروں نے اس کے حصص کا بڑا حصہ اپنے ہاتھ میں رکھا حالانکہ 6 جنون 2010ء کو اس کے حصص کی شرح 103فیصد پر گر گئی تھی۔یہ صرف ایک چھوٹی سی مثال ہے امریکہ کی مجموعی عسکری صنعت کے نوے فیصد حصص اوپن سٹاک مارکیٹ میں رکھے جاتے ہیں۔
لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ اور نارتھ روپ گرومین نامی عسکری پیداواری کمپنیوں کے پیچھے وال سٹریٹ کے صہیونی بینکر ہیں ۔ وال سٹریٹ کا بڑا بینک ” اسٹیٹ اسٹریٹ کارپوریشن“ ان تین دفاعی ٹھیکدار کمپنیوں کا سب سے بڑا سٹاک ہولڈر (حصے دار) ہے اس کے بورڈ آف ڈائر یکٹرز میں گولڈ مین سچس کمپنی کا سابقہ سینئر ڈائر یکٹر رابرٹ ایس کیپلن اور Lahman Brothersبینک کا سابقہ چیئرمین پیٹر کوئم اور رابرٹ وائز مین شامل ہیں۔

” اسٹیٹ اسٹریٹ بینک “ کے پاس لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کے 18.99فیصد حصص ، بوئنگ کمپنی کے 11.09 فیصد اور نارتھ روپ گرومن کے 9.48فیصد حصص ہیں جبکہ اس کے شریک حصے دار وال اسٹریٹ کے دوسرے صہیونی بینکر Hallil Burtonاور Raytheonکے علاوہ گولڈمین ، اوپن ہمیرفنڈ اور کیپٹل ریسرچ نام سرمایہ کار ادارے شامل ہیں۔ اس تام صورتحال کو سامنے رکھ کر ایک بات ذہن نشین کر لی جائے کہ عالمی عسکری معاملات میں کوئی امریکی جنرل فیصلہ کن مئوقف اختیارنہیں کر سکتا تا آنکہ وال اسٹریٹ کے عسکری سرمایہ کار اس کا حکم نہ دیں ۔
اس لئے افغان معاملات میں امریکی فوج کے سربراہ، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کی اوقات کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ان حالات میں جبکہ امریکہ افغانستان کے بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے تو دوسری جانب ” نیواسٹریجٹک کانسپٹ“ ”New Strategic Concpt“ کے نام پر نیٹو کی نئی صف بندی کی جا رہی ہے۔ اس نئی جنگ کی صف بندی میں اسرائیل کو عالمی کر دار تفویض کیا جانا ہے یعنی اب وہ نیٹو کے نام پر پہلے مشرق وسطیٰ اور اس کے بعد دنیا میں کہیں بھی تباہی مچا سکے گا۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو یقین ہو چلا ہے ک بحیرہ قزوین کے تیل اور گیس کے خزانوں تک روس اور چین انہیں رسای حاصل نہیں ہونے دیں گے بلکہ ان کی خاموش عسکری پیش قدمی مشرق وسطیٰ کی جانب جاری رہے گئی، اسلئے نیٹو کی نئی صف بندی میں اسرائیل کا عالی کردار تفویض کئے جانے کا صاف یہی مقصد نظر آرہا ہے کہ اب امریکیوں کو مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر پر اپنی بقا غیر یقینی کی صورتحال سے دو چار ہوتی نظر آرہی ہے۔
13جنوری 2010ء کی اشاعت میں اسرائیلی اخبار ” یوردشلم پوسٹ“ نے رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق نیٹوکی” نئی اسٹرٹیجک پالیسی“ میں اسرائیل نے جگہ بنانے کیلئے اپنی سفارتی سرگرمیوں کو کئی گنا تیز کر دیا تھا، عرب صحافتی ذرائع کے مطابق گذشتہ سالوں میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں Mediterranean Dialogueکے نام سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈلین اولبرائٹ نے نیٹو کی نئی حکمت عملی کے ماہر کے طور پر شرکت کی تھی۔
ذرائع کے مطابق عالمی سطح پربڑے خون خرابے کیلئے مغرب میں نئی صف بندی کی جار ہی ہے ۔ چیک نژاد صہیونی میڈلین اولبرائٹ نے سیمینار کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” مستقبل میں شراکت داری کا عنصر نیٹو کا مرکزو محور ہے۔ گذشتہ گزرے ہوئے برسوں میں ہونے والے واقعات سے ثابت ہواہے۔ ہم نے ماضی سے یہ سبق سیکھا ہے کہ شراکت داری قوت کوکئی گنا بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔
“ میڈیلین اولبرائٹ کے اس خطر ناک بیان سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ مغرب امریکہ کی سرکردگی میں نیٹو کے نام پر ایک طرف روس اور چین سے دو دو ہاتھ کرنے کی تیاری کر دہا ہے تو دوسری جانب عالم اسلام پر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کے نام پر مزید استعماریت مسلط کرنا چاہ رہا ہے۔
عرب دفاعی مرہرین کے خیال میں اسرائیل 2004ء سے امریکہ کیاس عالمی عسکری پالیسی کا باقاعدہ حصہ بنا ہوا ہے جو وہ نیٹو کی معیت میں انجام دے رہا ہے۔
اس سلسلے میں امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر ریٹائرڈ جنرل جیمس جونز نے اسرائیل کو نیٹو میں جگہ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ” گلوبل نیٹو“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اب نیوورلڈ آرڈر میں ”گلوبل نیٹو“ اس نظام کا دست وبازو قرار پا رہا ہے اور اسرائیل اس کا ایک ایسا اہم رکن بن چکا ہے جس کی رکنیت کاباقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا!!۔
اسی تناظر میں 23جنوری 2010ء کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یا ہونے اور اسرائیلی کابینہ کے دیگر وزرا کے ساتھ برلن میں اہم منصب عہدیداروں سے ملاقات میں خلیج فارس میں ایران کے سامنے بند باندھنے کے حوالے سے بھی مذاکرات کئے تھے۔ یقینی باتت تھی کہ جرمنی کی مشہور زمانہ ڈولفن آب دوزوں کی اسرائیل کے لیے مزید خریداری کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی تھی۔

ان تمام حالات کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہو گاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اب افغانستان نے نکلنے کی کیوں جلدی ہے؟ طالبان کو تقسیم کرنے کی سازش ماضی میں بھی ناکام ہوتی رہی اور لنڈن کا نفرنس کے بعد تاس سازش کے تاروپود بھکر چکے تھے۔ ” گلوبل نیٹو“ کے نام پر دنیا مغربی عسکری استعماری اتحاد وجود میں لایا جاچکا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں ” سر کش“ حکومتوں کو زیر کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ انتہاپسندی کے نام پر عالم اسلام کی مزاحمتی قوت کو ڈالروں کے عوض انہی کے ممالک میں سکیورٹی اداروں کے ذریعے کچل دیا جائے۔
مشرق وسطیٰ میں مصر اور اردن اس حوالے سے پیش پیش ہیں۔ ان دونوں ممالک نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امریکی اوریورپی جارجیت کو سہولیات فراہم کیں بلکہ افغانستان تک میں یہ دونوں ملک اور ان کے حکمران عالمی صہیونیت کا حق نمک ادا کرتے رہے ہیں۔ خوست میں سی آئی اے سنٹر میں دھماکہ اور اس میں اردنی شاہی خاندان کے اہم فرد ہلاک ہونا اس بات کا واضح ثبوت تھا۔

امریکی وار مشین کو وال سٹریٹ کے سیسہ گروں نے افغانستان سے ہر قیمت پرجان چھڑانے کا عندیہ دے دیا ہے کیونکہ افغانستان کی جنگ امریکہ میں ایک طرف امریکی طاقت کا پول کھول چکی ہے تو دوسری جانب وہاں بڑھتی ہوئی کساد بازاری سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ لوگ سڑکوں پر آکر وائٹ ہاوس کا وہ حال نہ کر دیں جو 1917ء میں روسی عوام نے زارر روس کے محل کا کیا تھا۔
اسلئے ” گلوبل نیٹو“ کی مزید عسکری سرگرمیوں کیلئے وسائل حاصل کرنے کیلئے اب ایک طرف روس اور چین کی معاشی اور عسکری پالیسیوں سے تمام دنیا کو بالعموم اور امریکی و مغربی عوام کو بالخصوص خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جائے گئی تو دوسری جانب ” اسلامی انتہا پسندی“ کا مزید ہوا کھڑا کر کے عالم عرب کو ایک طرف دبانے کی کوشش کی جائے گی علاوہ ازیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان فتنے پیدا کر نے کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا۔
اس نازک ترین دور میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہو گا۔ وال سٹریٹ کے صہیونی بینکر اپنی ” پونجی“ کا بڑا حصہ طالبان کو تقسیم کرنے کیلئے استعمال میں لانے کا فیصلہ تو کر چکے ہیں لیکن کیا ہو ان ڈالروں کو صحیح جگہ استعمال ہوتے دیکھ سکیں گئے؟ شاید کبھی نہیں ۔ گلوبل نیٹو کے نام پر ایک نئی صف بندی مغرب میں ہو چکی ہے۔ اور دوسری صف بندی مشرق میں ہے۔ بڑا میدان جنگ مشرق و سطیٰ کی طرف سمٹ رہا ہے۔ پاکستان کی ذمہ داریاں بڑھنے والی ہیں۔
وقت اشاعت : 2014-04-21

(2) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں