تازہ ترین : 1
2 Child Policy

”ٹو چائلڈ“ پالیسی

قانون سازی کے ذریعے ہی اسے لاگو کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی وباء پر قابو پانے کے لیے چینی قیادت کو ”ون چائلڈ“ پالیسی کا قانون نافذ کرنا پڑا تھا۔ اب بدلتے ہوئے حالات میں س تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ فیصلہ غیر ملکی لیبر کو چین آنے سے روکنے کی بھی ایک کڑی قراردیا جارہاہے

بڑھتی ہوئی آبادی کی وباء پر قابو پانے کے لیے چینی قیادت کو ”ون چائلڈ“ پالیسی کا قانون نافذ کرنا پڑا تھا۔ اب بدلتے ہوئے حالات میں س تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ فیصلہ غیر ملکی لیبر کو چین آنے سے روکنے کی بھی ایک کڑی قراردیا جارہاہے کیونکہ اس سے ملکی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس سے ملکی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پچھلے دنوں چار روزہ میٹنگ کے دوران چینی قیادت ملکی معیشت کے حوالے سے سر جوڑ کر بیٹھی تھی۔ اس میں سب سے اہم خبر بچوں سے متعلق ” ون چائلڈ‘ ‘ پالیسی میں لچک لانے کا فیصلہ ہے۔ ”ون چائلڈ“ پالیسی 1970 ء میں بنائی گی ۔ اب چینی والدین کو دو بچوں کی اجازت دی جا رہی ہے جس کے لیے نے قوانین متعارف کرائے جائیں گے۔
ایک محتاط اعدادوشمار کے تحت چین میں کام کرنے والے بالغوں کی تعداد میں 2012 میں کمی آنا شروع ہوئی تھی اور 2050تک اس میں حیرت انگیز کمی متوقع ہے۔
یہ تعداد کروتھ والے ممالک جاپان اور سنگاپور کے مقابلے میں بھی کہیں کم ہے۔ اب حکومت بچوں کے اضافے کے ذریعے اس کمی پر قابو پانا چاہتی ہے۔ چین میں ٹو چائلڈ پالیسی خاصی تاخیر سے شروع کی جا رہی ہے۔ بڑے شہروں میں چینی جوڑے پہلے ہی دو بچوں کے والدین ہیں۔ البتہ دیہی والدین کو اس سے ضرور فائدہ ملے گا۔
ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2000 سے لیکر 2005ء تک تین چینی صوبوں کے اہم شہروں میں خواندگی کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے۔
میٹرنٹی چھٹیوں کی پالیسیوں کو اپنا کر اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور چائلڈ کیئر میں سبسڈی دینا بہترین فیصلہ ہو گا۔ ایسی پالیسیاں سنگا پور یا جاپان میں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکیں اور چین میں اس پر زیادہ اچھے انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ پہلا قدم آبادی کنٹرول پالیسی میں نرمی ہونا چاہیے۔شرح پیدائش میں کمی دیہی والدین کا حوصلہ بڑھا سکتی ہے کہ وہ زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے راغب ہو سکتے ہیں۔
سردست ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جاپان باہر سے لیبر منگوا کر ضرورت پوری کر رہا ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آبادی والے ملک میں امیگرنٹس کی آمدپر کئی حلقوں کی جانب سے سخت آوازیں اٹھی ہیں۔ چین پہلے ہی امیگرنٹس کمیونٹیز کا بڑا ملک ہے۔ کئی لاکھ افریقی (زیادہ تر تاجر) گنگ زوجبکہ 30,000 سے 40,000 عرب تاجر وائی یو اور ہزاروں امریکن ، جاپانی اور یورپین پروفیشنل اور تخلیقی ہنر ملک بھر میں غیر قانونی طور پر آباد ہیں۔

شمال مشرقی ایشیاء کے مزدور کی بڑی تعداد شمالی چین کے کارخانوں میں کام کررہی ہے کیونکہ دیہات علاقوں سے لیبر نہ ہونے کے برابرہے۔ یہاں ان کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ اگست میں منظر عام پر آنیوالی ایک تحقیق رپورٹ کے مطابق ڈانگ گیو میں لگ بھگ 30,000 غیر قانونی امیگرنٹس آباد ہیں جو کہ چین کا سب سے بڑا مینو فیکچرنگ قصبہ ہے۔

حالیہ برسوں میں چین نے اپنے دروازے ہنر مند امیگرنٹس پر کھول دیئے ہیں لیکن مشرق ایشیاء کے ممالک کی طرح چین مختلف قسم کے لوگوں کا ملک نہیں ہے۔ اس کے عوام اور رہنماء غیر ملکی افراد کے حوالے سے شہبات کا شکار ہیں۔
چین میں نئے قوانین بہت جلد متعارف کرائے جائیں گے۔ اس کا آغاز عارضی گیسٹ ورکر پروگرام سے ہونا چاہیے جس کے لیے کارخانوں کے ملازموں کو فوکس بنانا چاہے۔
2020 کے اولمپکس سے قبل جاپان بھی اسی قسم کے اقدامات کر رہا ہے، وہ تعمیراتی ہنرمندوں کو ملک میں عارضی بنیادوں پر آنے کی اجازت دے چکا ہے۔اسی طرز پر چین بھی کم آمدنی والی لیبر کو اپنا ہدف بنا سکتا ہے۔
اس سوچ کو مد نظر رکھ کر حکومت تنخواہوں اور شرائط کو طے کرنے کے لیے ایک بیس لائن قائم کر سکتی ہے ۔ عام ورکر ویزا پروگرام کے تحت چین شمال مشرقی ایشیاء کی امیگرنٹس لیبر کو اپنا انتخاب قرار دے سکتا ہے۔
ان میں زیادہ تر غیر قانونی طور پر ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں کام کر رہے ہیں۔ یہ لیبر چین کیلئے ایک بڑا ایڈوانٹیج ہو گئی اورچین کو اپنی لیبر کی کمی کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگئی۔ ٹو چائلڈ پالیسی طویل المدت دورا نے کے تحت بنائی گی ہے مگر موجودہ صورتحال میں امیگرنٹس لیبر ہی مسائل کا حل ہے۔
وقت اشاعت : 2015-11-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں