بند کریں
جمعرات مارچ

مزید تٰعلیمی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
یو نیو رسٹی آف ایجو کیشن :تعلیم و تحقیق کی ایک نادر درسگاہ
2002 ء میں ایجو کیشن کا لجز کو یکجا کر کے یو نیو رسٹی آف ایجو کیشن کا درجہ دے دیا گیا۔۔۔۔ طلباء کو جد ید اعلیٰ تعلیم کی فراہمی یو نیو رسٹی آف ایجو کیشن کا طر ئہ امتیا ز ہے،وائس چا نسلر ڈاکٹر رؤف اعظم
مصنف : ثنا اللہ ناگرہ
انسانی فلاح و بہبو د ،اعلی تہذیبی اقدار و تمدن اور معاشرتی ترقی کی خشت اول علم ہے معاشر ے کی تعمیر و تنظیم اور ترقی کا دارومدار صرف معیاری تعلیم کی بنیاد پر ہی ممکن ہے تعلیم و تدریس کا بہتر نظام جہاں ایک بنیا دی اکا ئی کا درجہ رکھتا ہے وہا ں اس نظام کو احسن طر یقے سے چلانے کے لیے تر بیت یا فتہ اسا تذہ کی بھی ضر ورت ہوتی ہے۔ ویسے تو انسان اپنی پیدا ئش کے بعد ہی سیکھنے کا عمل شر وع کر دیتاہے لیکن معاشر تی بنیا دوں پر ہر چیز کو با ر یک بینی سے سمجھنے اور اس کو بہتر سے بہتر بنا نے کیلئے اصلاح و تجا و یز ہما رے معلمین ہی بتلاتے ہیں۔
یو ں اس سارے تعلیمی ڈھانچے میں اساتذہ جو ایک قوم ونسل کی بہتر خطو ط پہ آبیا ری کر نے کے ذمہ دار ہو تے ہیں، کا کر دار ریڑ ھ کی ہڈی کی ما نند ہو تا ہے۔ اس با ت کو مد نظر رکھتے ہو ئے حکو مت نے ما ضی میں تر بیت ِاسا تذہ کے کئی ایک کا لج قا ئم کیے جن کا مقصد تعلیمی سر گر میو ں کا فروغ اور اس شعبے میں نئی اصلاحات کا متعارف کر وانا تھا لیکن مجمو عی اعداد و گر اف کچھ خاص حوصلہ افزاء اور ہما ری قومی ضروریات کے مطابق نہ تھے لہذا 2002ء میں گورنر پنجا ب کے ایک آرڈیننس کے تحت ان تما م ایجو کیشن کا لجو ں کو یکجا کر کے یو نیو رسٹی آف ایجو کیشن کا درجہ دے دیا گیا جو آج ایک خود مختا ر یو نیو رسٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔

اپنی تیرہ سالہ مختصر سی تاریخ میں یو نیو رسٹی آف ایجو کیشن نے مدبر و دانشور وائس چا نسلر پروفیسر ڈاکٹر رؤف اعظم کی فقید المثال قیا دت اور دوررس ویژن کے ساتھ تعلیم و تحقیق کے میدان میں جو شاندار سفر شروع کیا ہے وہ ملک بھر میں اس کو دوسر ی یو نیور سٹیو ں و اداروں سے ممتا ز کر تا ہے۔ ملک کے مایہ ناز ماہر تعلیم،مینجمنٹ امور، تعلیمی حلقوں میں معتبر شخصیت اور اپنے پیشہ میں اتھارٹی مانے جانیوالے وائس چا نسلر پروفیسر ڈاکٹر رؤف اعظم یونیورسٹی کے پانچویں وائس چانسلر ہیں جنھوں نے اپنی قابلیت،لیاقت اور وسیع تر تجربہ کی بدولت جامعہ کو صحیح معنوں میں علم ودانش کا گہوارہ بنا دیا ہے۔
ان کی انتھک کاوشوں و محنت کے سبب یونیورسٹی آف ایجوکیشن متلاشیان علم کیلئے تعلیمی جنت سے کسی طور کم نہیں جہاں قابل اساتذہ،محققین تعلیم و تدریس کی ترویج،طلباء کی کردار سازی اور ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے ہمہ وقت مصروف عمل ہیں۔
یو نیو رسٹی آف ایجوکیشن کوتین ڈویژ نو ں میں تقسیم کیا گیاہے ڈویژن اول کے تحت ایجوکیشن ٹیچر ز ٹر یننگ پر وگرامز تر تیب دینے کے علاوہ یونیورسٹی کی نصابی وتعلیمی سر گر میوں میں ایک نما یا ں حیثیت رکھتاہے۔
اس ڈویژن میں ایم اے ایجو کیشن، ما سٹر ان ِ لیڈر شپ اینڈ مینجمنٹ، ایم فل ایجو کیشن اور پی ایچ ڈی ایجو کیشن جیسے اہم ڈگر ی پر وگرام چل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں یو نیو سٹی کے اساتذہ کے لیے ایجو کیشن میں سرٹیفیکیٹ اور ڈپلو مہ پر وگر ام بھی کر وائے جا تے ہیں اور یہ اس یو نیو رسٹی کا خاص طر ئہ امتیا ز ہے کہ اس کے ہر استاد کو 15سے 30کر یڈٹ گھنٹو ں کے دورانِ ملازمت تربیت سے گزرنا پڑ تا ہے تا کہ وہ جد ید اور صحیح طر یقے سے تدریس کے کا م انجا م دے سکیں۔
اس ڈویژن کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کی 80فیصد سے زائد فیکلٹی ایجو کیشن میں ڈاکٹر یٹ کی ڈگر ی رکھتی ہے۔ڈویژن دوئم کے مطابق آرٹس اینڈ سوشل سائنسز کے تحت ایم اے انگلش، ٹیچنگ آف انگلش ، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی اردو جیسے پر وگرامز متعارف کر وائے گئے ہیں جبکہ ڈویثرن سوئم ڈویثرن آف سائنس اینڈ ٹیکنا لو جی سیکنڈر ی سکو ل کے سائنسی نصا ب میں نت نئے طر یقے متعارف کر واتا ہے۔
اس ڈویژن کے تحت ایم ایس سی،ایم فل میتھ، کیمسٹر ی،باٹنی،زوالوجی،فزکس اور ٹیچنگ آف میتھ، کیمسٹری، فزکس، ایم ایس سی آٹی پر وگرام کر وائے جا رہے ہیں۔
لاہو ر شہر میں یو نیو رسٹی آف ایجو کیشن تین کیمپسز میں تقسیم ہے۔لو ئر ما ل کیمپس، ٹاؤ ن شپ کیمپس جو ہیڈ آفس کا درجہ رکھتا ہے اور بینک روڈ کیمپس جو ایک تا ریخی حیثیت کا حامل ہو نے کے ساتھ ساتھ پا کستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کا واحد ادارہ بھی ہے۔
1933ء میں لیڈی میکلیگن ٹر یننگ کالج کے نا م سے قائم ہو نے والا یہ ادارہ ایجو کیشن یو نیو رسٹی سے منسلک ہو تے ہی آج نہ صر ف پا کستان بھر میں بلکہ جنو بی ایشیاء میں خواتین کے تعلیم و تحقیق کے میدان میں منفر د شہر ت رکھتا ہے۔کسی بھی قو م و معاشر ے کی تعمیر و تر قی میں خواتین کا ایک اہم کر دار رہا ہے۔ نپو لین بو نا پا رٹ کا وہ مشہور مقو لہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا، ”آپ مجھے بہتر ین ما ئیں دو میں تم کو بہتر ین قو م دوں گا“ اسی حقیقت کو مدِنظر رکھتے ہو ئے یو نیو رسٹی آف ایجو کیشن جہاں درس و تد ریس کے شعبے کو جدیدو سائنسی خطوط پہ استوار کر تا ہے وہا ں یہ ادارہ مثا لی قوم کی تعمیر میں بھی اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔
یو نیو رسٹی آف ایجو کیشن کی ایک منفر د خصو صیت جو اس کو دوسر ے اداروں سے نما یاں ٹھہراتی ہے وہ اس کے مختلف شہر وں میں پھیلے ہو ئے کیمپسز ہیں۔ مو جو دہ صدی تعلیمی انقلاب کے نا م سے مو سو م کی جا تی ہے اور یہ انقلاب تب ہی ممکن ہے جب دور دراز شہر وں و قصبو ں میں بسنے والے لو گو ں تک اعلی معیاری تعلیم کی عام رسائی ہو۔ پا کستان چونکہ ایک تر قی پذیر ملک ہے اور آبا دی کا ایک بڑاحصہ دیہا تو ں میں رہتا ہے جس کی بناء پر انھیں اعلیٰ تعلیم کے حصو ل کے لیے کا فی مشکلا ت کا سا منا کر نا پڑتا ہے اسی لیے ایجو کیشن یو نیو رسٹی نے تعلیم کے آسان حصول اور اساتذہ کی بہتر ٹر یننگ کے لیے اٹک، فیصل آباد، جو ہر آبا د، اوکا ڑا، وہا ڑی، ملتان اور ڈی جی خان میں کیمپس قائم کر کے اس تعلیمی انقلاب کی منزل کو قریب تر کر دیا ہے جس کا سہر ا بلاشبہ یو نیو رسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر کے سر ہے۔

وائس چا نسلر پروفیسر ڈاکٹر رؤف اعظم کا کہنا ہے کہ ” مقابلے کی اس فضا ء میں خصو صاًجب ایجو کیشن سیکٹر بزنس کا روپ بن چکا ہے، طلباء کوسائنسی خطوط پرجدید اعلیٰ تعلیم کی فراہمی یو نیو رسٹی آف ایجو کیشن کا طر ئہ امتیا ز ہے۔ تعلیم کی بنیا دی اکا ئی تحقیق ہے اور اس تحقیقی ماحول کو پروان چڑ ھا نے کے لیے جامعہ نے اعلیٰ درجہ کے لائق، قابل اور محنتی اساتذہ کی خدما ت حاصل کی ہیں جو مختلف شعبہ ہا ئے تعلیم میں تحقیق کے معیا ر کو بین الاقوامی معیا رکے قر یب لا نے میں کو شا ں ہیں۔
کو الٹی ایجو کیشن کا خواب اساتذہ کی بہتر تر بیت کے لیے بغیر شرمند ئہ تعبیر نہیں ہو سکتاہے۔ نئے ٹیلنٹ کو ابھا رنے اور نکھارنے کے لیے گورنمنٹ فنڈز کی ضر ورت ہے جس سے سکالر شپ سکیم کا اجراء کر کے تعلیم وتحقیق کے میدان میں نما یا ں کا میا بی حاصل کی جا سکے گی“۔
پا کستان میں ایجو کیشن سیکٹر کی نا کامی کے ویسے تو کئی اسبا ب ہیں لیکن حکو متی عدم تو جہی اور فنڈز کی کمیا بی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
حکو متو ں کی تبدیلی کے ساتھ عمو ماتعلیمی پا لیسی بھی غائب ہو جا یا کر تی ہے جس سے تعلیم کو نا قابلِ تلافی حد تک نقصان پہنچتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مر بو ط و جا مع تعلیمی پا لیسی اپنا ئی جا ئے جس میں ایجو کیشن ریسر چ کو خصو صی اہمیت دی جا ئے اور تعلیم وتحقیق کے حوالے سے گرانقدر خدما ت سر انجا م دینے والی یو نیو رسٹی آف ایجو کیشن کو مزید اپ گر یڈ کر کے بین الاقومی معیا ر کی یو نیو رسٹیو ں کی صف میں لا کھڑا کیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ثنا اللہ ناگرہ

ثناء اللہ ناگرہ 2006 سے پیشہ ورانہ صحافت سے منسلک ہیں۔ جنوری 2015 سے اُردو پوائنٹ میں بطور ایڈیٹر نیوز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ثنا اللہ ناگرہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان