Taleem Waqt Ki Zaroorat

تعلیم وقت کی ضرورت

تعلیم انسان کی شعور فراہم کرتی ہے۔ تعلیم جو زمین کی پستیوں سے نکال کر آسمان کی بلندیوں پر لیکر جاتی ہے۔ تعلیم کی بدولت ہی ایک معاشرہ ترقی کی راہ میں دوسری اقوام سے مقابلہ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

ثمرہ انعم
تعلیم انسان کی شعور فراہم کرتی ہے۔ تعلیم جو زمین کی پستیوں سے نکال کر آسمان کی بلندیوں پر لیکر جاتی ہے۔ تعلیم کی بدولت ہی ایک معاشرہ ترقی کی راہ میں دوسری اقوام سے مقابلہ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب حکومت پنجاب کا تعلیم کو فروغ دینے کیلئے ایک مثبت قدم ہے۔ لیکن کیا صرف ساٹھ ہزار بچو کو سالانہ بنیادوں پر سکولوں میں داخل کرنے سے بچے تعلیم سے ہمکنار ہوسکتے ہیں؟ کیا صرف سکول جانے سے تعلیم حاصل ہو جاتی ہے۔
نہیں بالکل نہیں یہ بات قطعً غلط ہے۔ جب تک ہم نظام تعلیم، سکولوں کی حالت زار اور اپنے نصاب میں تبدیلی نہیں کریں گے جب تک تعلیم ہمیں کامیابی سے ہمکنار نہیں کر پائے گی۔ کیونکہ جب ہم سرسری سی بھی نظر اپنے گورنمنٹ سکولوں پر ڈالیں تو گورنمنٹ سکولوں میں مسائل کا انبار ہے۔ کہیں سکولوں کی عمارت لمبے عرصے سے اپنی حالت زار بدلنے کا انتظار کر رہیں ہیں۔
کہیں سکول کی عمارت ہے تو ان پر ڈویروں اور قبضہ مافیا نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ وہاں پربچوں کے بجائے جانور دیکھائی دیتے ہیں۔ ان سکولوں کو سکول کئے بجائے اسطبل کہیں تو زیادہ بہتر ہے۔ کہیں سکول کی بلڈنگ ہے تو اساتذہ اور دیگر سکول کا عملہ غائب ہے۔ اور جہاں اساتذہ ہیں وہاں پر ایک جماعت میں اتنے طالب علم ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے بچے نہیں بلکہ بھیڑ بکریاں ہیں۔
طالب علموں کے اس اڑدھام کو سنبھالنا ایک استاد کے بس کے باہر کی بات ہے۔ جہاں ایک کلاس میں 150 سے 200 طالب علم ہوں گے۔ وہاں استاد کے جو صلے کی داد دینی ہوگی۔ ایک استاد بچوں کا رہنماء ہوتا ہے۔ طالب علم اپنے استاد بچوں کا رہنماء ہوتا ہے۔ طالب علم اپنے استاد کے نقش قدم پر چلتا ہے۔ استاد طالب علم کے ذہنوں پر اپنے نقش ثبت کرتا ہے۔ لیکن وہ استاد کیاکرے جہاں طالب علم کا انبار ہو۔
وہ صرف بچوں کو سبق دے سکتا ہے پڑھانا تو دور کی بات ہے۔ گورنمنٹ سکولوں میں طالب علم خود رو پودے ہوتے ہیں۔ جوکہ اساتذہ کے نظر کرام کو ترستے رہ جاتے ہیں۔ وزیر تعلیم سے التماس ہے کہ گورنمنٹ سکولوں میں نئے اساتذہ کی تقرریاں ہے وہ گورنمنٹ سکولوں میں نئے اساتذہ کی تقریاں کریں۔ نئے اور کوالیفائیڈ اسٹاف بھرتی کریں۔ اس طرح نا صرف تعلیم کی راہ میں ایک رکاوٹ دور ہوگی بلکہ بے روزگاری کی شرح میں کمی آئے گی۔
یہ ان نوجوانوں کیلئے بھی اچھا اقدام ہوگاجو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نوکری کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ کلاس میں طالب علموں کی تعداد 35 یا 40 سے زائد نہیں ہونی چاہئے۔ اسطرح ایک استاد بہتر طور پر طالب علموں کی رہنمائی کرسکے گا۔ سکولوں میں تعلیم کی فراہمی کیلئے نئے اور جدید طریقے متعارف کروائیں جاہئے۔ جب تک ہم اپنے نظام تعلیم میں جدت نہیں لائیں گے ہم تعلیم سے ترقی نہیں کرسکتے۔
ہمیں اپنے نظام تعلیم میں سے ان کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا جوکہ ہمارے معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ تعلیم کے حصول میں امیر اورغریب کے فرق کو مٹایا جائے۔ یہ سب تب ہی ممکن ہوگا جب ہمارے بجٹ میں تعلیم کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ تاکہ ہم جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے ہونہار، جوکہ قوم کے سرمایہ اور بہت قیمتی دولت ہیں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں گے۔ اس لئے میری وزیراعلیٰ سے التماس ہے کہ پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب تعلیمی پروگرام کے ساتھ تعلیم نظام میں بہتری کیلئے بھی پروگرام شروع کئے جائیں۔
وقت اشاعت : 2015-04-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں