بند کریں
منگل مارچ

مزید تٰعلیمی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کا عشائیہ
1864ء کی صبح کو طلوع ہونے والا سورج ایک ادارہ کے قیام کا پیغام لے کر آیا جسے ہم گورنمنٹ کالج لاہور کہتے ہیں۔ اس ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والا طلباء کو راوینز کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ راوینز کی ایک بہت بڑی تنظیم اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے نام
عنبرین فاطمہ
1864ء کی صبح کو طلوع ہونے والا سورج ایک ادارہ کے قیام کا پیغام لے کر آیا جسے ہم گورنمنٹ کالج لاہور کہتے ہیں۔ اس ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والا طلباء کو راوینز کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ راوینز کی ایک بہت بڑی تنظیم اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے نام سے شہر لاہور سے لیکر پورے ملک میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے ادارہ نوائے وقت کے جناب مجید نظامی 1997ء سے لیکر 2014 ء تک اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کی طرف سے غریب اور نادار طلباء کے لئے مجید نظامی وظائف کا اجراء بہت بڑا کارنامہ تھا۔
جناب مجید نظامی ایسوسی ایشن کی ہر میٹنگ اور پروگراموں میں بڑی تیاری کے ساتھ شرکت فرمایا کرتے تھے۔ اس سال کا عشائیہ 24 اپریل کو لاہور کے ایک پانچ ستاروں والے ہوٹل میں منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن پاک حافظ علی ابراہیم جو کہ ہر سال تلاوت فرمایا کرتے ہیں اور یہ بچہ ہمیشہ نظامی صاحب کی محبت کا مرکز رہا ہے اس بار وہ نظامی صاحب کے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی محبت اور شفقت سے محروم رہا۔
ایسوسی ایشن کے سٹیج سے شہباز احمد شیخ جو آج کی یادوں بھری تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے یوں گویا تھے کہ آج ہمیں اپنے محترم مجید نظامی صاحب کی یاد شدت سے ستا رہی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نظامی صاحب سے راوینز کا لگاؤ اور پیار و محبت کا ذکر کرتے ہوئے کہا آج ہال میں بیٹھے گورنمنٹ کالج سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ ان کی کمی محسوس کرتے ہوئے اللہ تعالی سے ان کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔

یہ تقریب اس لحاظ سے بھی منفرد تھی کہ گورنمنٹ کالج لاہور سے نسبت رکھنے والے متوالوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس ہوٹل کے خوبصورت ہال میں جمع تھی۔ اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے صدر ایس ایم ظفر چیف آرگنائزر ذوالفقار چیمہ ممتاز سفارتکار شمشاد احمد خان بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر علقحہ، خالد عباس ڈار، لاہور کالج یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر بشری متین، ممتاز ماہر تعمیرات سرفراز احمد، سٹیج پر رونق افروز تھے۔

گورنمنٹ کالج لاہور کو معرض وجود میں آئے 151 سال گزر گئے مگر ان راہداریوں میں کیسے کیسے عظیم افراد کے قدموں کے نشان موجود ہیں۔ اگر آپ ان برآمدوں سے گزریں تو علامہ اقبال کے قدموں کی چاپ بھی آپ کو محسوس ہو گی۔ فیض احمد فیض کا بچپن بھی کالج کے سبزہ زاروں میں کہیں مل جائے گا۔ صوفی غلام مصطفی تبسم کے لیکچروں کی بازگشت بھی سنائی دے گی۔
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو گی جہاں گورنمنٹ کالج لاہور کے یہ پھول کھلے دکھائی نہ دیں۔ پاکستان کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اس کالج کے سابق طالبعلم اپنے کالج کی عظیم روایات کے امین ہیں۔ بیورو کریسی کے ایوانوں سے لے کر ایٹمی لیبارٹریز، سیاست سے اقتدار کے ایوانوں تک پھیلے ہوئے ہیں جہاں وہ اپنے گورنمنٹ کالج لاہور کا نام روشن کر رہے ہیں۔

ہر سال سینکڑوں طلباء یہاں سے فیضیاب ہو کر نکلتے ہیں اور پھر اولڈ راوینز بن کر اپنے کالج کے گزرے ہوئے لمحات اولڈ راوینز بن کر غموں اور تفکرات کو دور رکھ کر یاد کرتے ہیں۔ سیکرٹری جنرل اولڈ راوینز شہباز احمد شیخ کہہ رہے تھے کہ گورنمنٹ کالج سے تعلق رکھنے والے سابقہ طالب علم ملک خدا داد پاکستان کے ہر ادارے میں اپنی خوشبو بکھیر رہے ہیں پاکستان کے کئی سابقہ اور موجودہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا تعلق بھی گورنمنٹ کالج لاہور سے ہے۔

ایسوسی ایشن کے چیف آرگنائزر سابق آئی جی پولیس ذوالفقار چیمہ نے اپنے منفرد انداز میں محفل کو کشت زعفران بنا دیا اس بار چیمہ صاحب نے اپنے مخصوص شگفتہ اور مسکراہٹیں پھیلانے کے انداز کے ساتھ سنجیدہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو احساس کمتری کا خطرناک مرض لاحق ہے اور یہ بیچاری سب سے زیادہ پنجابیوں میں ہے جو اپنے بچوں سے اپنی زبان میں بات نہیں کر سکتے اگلی نسل نہ اردو بول سکتی ہے نہ پڑھ سکتی ہے یہ بات باعث شرم ہے اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ثقافتی سطح پر ہم بھارتی ثقافت کے نیچے لگ گئے ہیں باہر نکلنا چاہیے۔ آئندہ تقریبات میں اگر موسیقی چلے تو صرف پاکستانی موسیقی چلنی چاہیے۔ ذوالفقار چیمہ نے اپنے خوبصورت انداز میں حضرت علامہ اقبال کا پیغام حاضرین تک پہنچایا۔ سٹیج متحدہ پاکستان کے نامور مسلم لیگی رہنما خواجہ خیر الدین کے بیٹے ڈاکٹر علقحہ وائس چانسلر بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہ تھا کہ آج اس تقریب میں اتنے بڑے راوینز کی تعداد موجود ہو گی میں اپنے پرانے دوستوں سے ملکر ماضی میں کھو سا گیا ہوں۔

خالد عباس ڈار نے اپنے دلکش اور مزاحیہ انداز میں حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے محفل کو مسکراہٹوں اور قہقہوں میں تبدیل کر دیا ممتاز سفارتکار شمشاد احمد خان نے پاکستانی قوم کے جذبہ حب الوطنی کی تعریف کی سپریم کورٹ کے جسٹس ثاقب نثار نے گورنمنٹ کالج میں گزرے ہوئے دنوں کی یادوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم اس دور کی اپنی یادوں کے سہارے اور گورنمنٹ کالج سے حاصل ہونے والی خود اعتمادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
تقریب کے آخر میں صدر اولڈ راوینز ایسوسی ایشن نے تمام مقررین کو تقاریر اور ان کے جذبات کو سراہتے ہوئے تمام معزز مہمانان گرامی اور حاضرین کی آمد کو اپنے لئے بہت بڑا اعزاز کہتے ہوئے تقریب کے اختتام کا اعلان کیا مزیدار کھانے اور موسیقی کی خوبصورت یادوں کو لئے تمام اولڈ راوینز اس خوبصورت ہوٹل سے باہر نکل رہے تھے تقریب میں مختلف ممالک کے سفیروں، وفاقی اور صوبائی، سیکرٹریز اور اعلیٰ پولیس افسران مشتاق سکھیرا، آئی جی پنجاب جنرل مصطفے، جنرل جاوید، بریگیڈئیر نوازش، آئی جی ظفر عباس ملک، ڈی جی انٹی کرپشن چودھری انور رشید، آئی جی کے ایڈیشنل آئی جی، سردار احمد، سابق سی سی بی اور لاہور چودھری فیض گجر، ڈی آئی جی، آئی جی عظیم ارشد، سابق ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رانا عبدالجبار ، ممتاز سفارتکار شاہد ملک، معروف بینکار قاسم فیروز خاں، اے آئی جی موٹروے، پولیس اشفاق خاں، مصروف فنکار خاور رفیق شیخ، سعودی عرب کے معروف تاجر طارق جہانگیر شیخ، جسٹس شیخ احمد فاروق، جسٹس رؤف احمد شیخ، جسٹس فرخ عرفان، جسٹس نجم کے علاوہ جسٹس اسد منیر، سیکرٹری انفارمیشن منور سہیل صاحب اور دیگر معروف شخصیات نے شرکت کی۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان