تازہ ترین : 1
Naqal Taleemi Nizaam Ki Bari Khami

نقل… تعلیمی نظام کی بڑی خامی

تعلیمی نظام کو کھوکھلا کرنے میں نقل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اور سب سے پہلے کتابوں کی گائیڈز، شیٹ پیپرز، خلاصے وجود میں آئیں۔ اور ان کا استعمال اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے نہیں بلکہ ان پر نقل کا دارومدار، بن چکا ہے

ربیعہ شاہد
کسی بھی قوم کی ترقی کا راز تعلیمی نظام میں پوشیدہ ہے۔ تعلیمی نظام جس قدر پختہ اور عمدہ ہوگا، قوم اس قدر مضبوط اور ترقی یافتہ ہوگی۔ تعلیم کے بغیر کسی قوم نے کبھی ترقی نہیں کی۔ جس قوم کو بھی ترقی کے بلند مدارج پر دیکھا گیا اور اس کی وجوہات پر غور کیا گیا تو اس ترقی کا سبب تعلیم ہی نظر آیا۔ اس کے ساتھ ہی نظام تعلیم کمزور ہو تو اس قوم کے زوال میں کسی کو شک نہیں ہوسکتا۔
پاکستان میں بدقسمتی سے تعلیمی ترقی پر خاص توجہ نہیں دی گئی۔نئے نظام تعلیم اور قومی مقاصد سے ہم آہنگ نظام تعلیم تو دور کی بات اسی فرسودہ نظام میں اتنی خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں کہ نوجوانوں کے پاس بڑی ڈگریاں تو ہیں لیکن شعور نہیں۔ اس کی بے شمار وجوہات میں سے ایک بڑا سبب نقل ہے۔ تعلیمی نظام کو کھوکھلا کرنے میں نقل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
اور سب سے پہلے کتابوں کی گائیڈز، شیٹ پیپرز، خلاصے وجود میں آئیں۔ اور ان کا استعمال اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے نہیں بلکہ ان پر نقل کا دارومدار، بن چکا ہے۔ اور اصل کتب تو طلباء شازو نادر ہی دیکھتے ہیں۔چند سال قبل تک نقل کا رجحان عموماً میٹرک اور اس کے بعد کے امتحانات میں دیکھنے میں آتا ہے۔ مگر اب یہ خطرناک رجحان بڑھتے بڑھتے مڈل لیول اور سکول کے امتحانوں تک آگیاہے۔
سکول میں پڑھنے کے بعد گھر میں پڑھنے کا تصور آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیوشن سنٹرز میں پڑھنے والے طلباء اپنے سنٹرز منتخب کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ ان اساتذہ کی رسائی امتحانی بورڈ تک کتنی ہے۔نقل کی کئی وجوہات ہیں، اساتذہ کی کمی کے باعث کورس پڑھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ لہٰذا آخر میں نقل ہی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ بعض اوقات استاد موجود ہوتا ہے مگر اس صلاحیت کا اہل نہیں ہوتا کہ اچھے طریقے سے طلباء کو پڑھا سکے۔
ایف ایس سی میں حاصل کردہ نمبروں کی بنیادوں پر میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں داخلہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس امتحان میں نقل کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اور اس میں لوگ باقاعدہ منصوبہ بندی سے نقل کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ بھی اس مکروہ کام میں مصروف ہوتے ہیں جن کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور سارا امتحانی نظام مشکوک اور غیر شفاف ہو جاتا ہے۔
انہی پس پردہ محرکات کے باعث ہی اساتذہ میں وہ جوش نہیں رہتا جو کبھی استاد کا خاصہ ہوتا تھا۔پورا سال گھوم پھر کر اور آوارہ گردی کرتے رہنے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ امتحان میں نقل کے باعث کامیابی یقینی ہے۔ اگر انہیں یقین ہوکہ امتحان شفاف ہوں گے۔ تو وہ پڑھنے پر مجبور ہوں گے۔ کورس کا طویل ہونا بھی بعض اوقات نقل کے رجحان کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
تعلیمی اداوں کی طویل تعطیلات کے باعث کورس مکمل نہیں ہوسکتا اس لئے طلباء میں نقل کا رجحان بڑھتا ہے۔ نقل کے ذریعے پاس ہونے والے نوجوان معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ ان کے پاس سند تو ہوتی ہے مگر کسی کام کے اہل نہیں ہوتے اور ملازمت کے حصول میں ناکام رہتے ہیں۔ منفی سرگرمیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں، بعض اوقات جرائم کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس میں قصور کس کا ہے؟۔
حکومت کا؟ اساتذہ کا؟ طلباء کا؟ یا معاشرے کا؟ حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو سارا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہے اور نقل کے لئے بھی سارے طبقات قصور وار ہیں۔نقل کے نقصانات میں زیادہ نقصان ان غریب طلباء کو ہوتا ہے۔ جو سارا سال اپنی محنت اور کوشش سے تیاری کرتے ہیں مگر نقل کے باعث نالائق طلباء زیادہ نمبر لے جاتے ہیں۔ اور محنتی طلباء کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
اس ضمن میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ امتحانی نظام میں انفرادی سطح پر بورڈ، یونیورسٹی میں کئی بار کوشش ہوئی ہیں۔ اگر ان کوششوں کی پذیرائی عوامی سطح پر کی جائے تو مجموعی بہتری کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔حکومت اور خصوصی طور پر محکمہ تعلیم توجہ دے تو تعلیمی بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں، اساتذہ اپنے طلباء میں تعلیم کے ساتھ ساتھ نقل سے نفرت پیدا کریں، جبکہ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نقل کی لعنت سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
نقل کے خاتمے کے لئے ایک عمدہ طریقہ میرٹ پر ملازمتوں کا حصول ممکن بنایا جائے۔ اگر ہر طالبعلم کو یقین ہو کہ مطلوبہ قابلیت و اہمیت کے بغیر ملازمت کا حصول کسی طرح ممکن نہیں تو یقینا وہ محنت کی طرف راغب ہوگا۔ اور نقل سے دور رہے گا۔ میڈیا بھی نقل کے رجحان کے خلاف موثر کام کرسکتا ہے۔
وقت اشاعت : 2015-04-16

(1) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں