بند کریں
جمعرات مارچ

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیاسی عدم استحکام پر بیرون ممالک میں تشویش کی لہر
دنیا کے اہم دارلحکومتوں میں پاکستان کے سیاسی عدم استحکام کو تشویش اور اضطراب کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ سری لنکا اور مالدیپ کے صدر کے دورے منسوخ ہو چکے ہیں، دارلحکومت افواہوں کی زد میں ہے
سجاد حیدر:
ماہ اگست 2014 کا آخری پندرہ روز اور اب ستمبر کا مہینہ ، اسلام آباد میں پاکستان کی قومی تاریخ کاالمناک باب لکھا جا رہاہے ۔ جمہوری طور پر منتحب حکومت کو اس حد تک بے بس کر دیا گیا ہے کہ وہ ازخود پارلیمینٹ ہاوس ، وزیراعظم ہاوس اور پاکستان ٹیلیویژن تک کا تحفظ نہیں کر سکتا۔ جس شاہراہ کو دستور سے منسوب کیا گیا وہاں بلوایئوں کا قبضہ ہے جوڈنڈوں ، غلیلوں اور ہتھوڑوں سے لیس ہیں ، ان کے بیگ پتھروں سے بھر ے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد کی آب پارہ مارکیٹ سے وزیراعظم ہاوس کے گیٹ تک انہوں نے مربوط حکمت عملی کے تحت نقل وحرکت کی۔ حالات و واقعات اور آنکھوں دیکھے احوال کے بعد عقل کا اندھا بھی سمجھ سکتا ہے کہ دونوں دھرنوں کی تاریں کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی کے انکشاف کے بعد یہ سوال تازندگی عمران خان کا پیچھا کرے گا کہ شیخ رشید کے ذریعہ کس کا پیغام انہیں ملا جس جس کے بعد اگلے روز کے مذکرات کا انتظار کئے بغیر وہ طاہر القادری کے ساتھ وزیر اعظم ہاوس کی جانب چل پڑے۔
یہ وہی لمحہ ہے جب سترہ روز کے دوران پہلی بار مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم وہوا جو تارد تحریر جاری ہے۔ اس دوران پارلیمینٹ کا حفاظتی جنگلا توڑ کر مظاہرین پارلیمینٹ ہاوس کے سبزہ زار پر قبضہ جما چکے ہیں۔ یکم ستمبر کی صبح پاکستان ٹیلی ویژن اسلام آباد پر قبضہ کر کے دنیا بھر میں دیکھی جانے والی اس کی نشریات روک دی گئیں ۔ عالمی میڈیا اب یہ بحث کر رہاہے چند ہزار مظاہرین اسلام آباد کو مفلوج بنا سکتے ہیں تو چند سو مسلح اور تربیت یافتہ شدت پسند پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔

مستقبل کا مورخ پاکستان کے وفاقی دارلحکومت کے ان ایام کا احوال یوں لکھے گا کہ اسلام آباد میں لگ بھگ ایک ماہ کاروبار حکومت مفلوج ہے ۔ مظاہرین کی موجودگی کے باعث قومی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد میں مشکل پیش آرہی ہے۔ وفاقی محکموں کے دفاتر بند، اور عملہ محصور ہے۔ تعلیمی ادارے بند اور طلبہ گھروں میں بیٹھے ہیں۔ سڑکیں سنسان ہیں۔ دنیا کے اہم دارلحکومتوں میں پاکستان کے سیاسی عدم استحکام کو تشویش اور اضطراب کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
سری لنکا اور مالدیپ کے صدر کے دورے منسوخ ہو چکے ہیں۔ چین کے صدر حالات کی بہتری پر دورہ پاکستان کے منتظر بیٹھے ہیں۔ دارلحکومت افواہوں کی زد میں ہے اور اکثرافواہیں ان ٹیلیویژن چینلز سے پھیلائی جا رہی ہیں جن کا فرض ناظرین کو مصدقہ خبریں فراہم کرنا ہے۔اتنا گنداچھال دیا گیا ہے کہ متوازن رائے دینے اور درست اطلاع فراہم کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی گئی۔
معقولیت کی بات کرنے والے صحافیوں پر کروڑوں روپے وصول کرنے کے الزامات کی کی بوچھاڑ کر دی گئی ہے ۔ پاکستان کا میڈیا خصوصا ٹیلیویژن چینل بری طرح تقسیم ہو چکے ہیں۔ دھڑ لے سے ایسی جھوٹی خبریں چلائی جا رہی ہیں جن کی اگلے ہی لمحہ تروید بھی کر دی جاتی ہے۔مناسب ریگولیش نہ ہونے کے باعث الیکڑانک میڈیا پہلے ہی مادر پدر آزاد تھا لیکن دھرنوں کی سیاست کے دوران ترقی معکوس کرتے ہوئے میڈیا واضح دھڑوں میں بٹ گیا ہے۔
ایک دھڑوں نے پورے طور پر خود کو دھڑوں حکومت کی حمائت کر رہا ہے تو کچھ دھڑوں نے پورے طور پر خود کو دھڑنوں کی حمائت کیلئے وقف کیا ہوا ۔ اور سب ہی اس کشمکش میں فریق بن بیٹھے ہیں ۔ پولیس دھرنوں کو حمائت کرنے والوں چینلز کے کارکنوں کی ٹھکائی کر ہی ہے تو مظاہریں نے حکومتی مئوقف اجاگر کرنے والے چینل کا ناطقہ بند کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔
دونوں طرف کے کارکن لہو لہان ہو رہے ہیں لیکن فساد کا باعث بننے والے اینکرز بد ستور خنک کمروں میں بیٹھے تبصرے فرما رہے ہیں۔ ترقی پذیر معاشروں کی تاریخ میں اس خطر ناک رجحان کی کہیں مثال نہیں ملتی جس کا مظاہرہ پاکستانی میڈیا کر رہے ہیں۔ میڈیا کی تقسیم دراصل قوم تقسیم ہے کیونکہ پوری قوم کیمرے سے دکھائے جانے والے مناظر ، مائیک سے ابھرنے والے اعلانات اور اخبارات وجرائد میں چھپے ہوئے الفاظ پر بھروسہ کرتی ہے لیکن والے بد قسمتی کہ قوم سے سراسر جھوٹ بولا جا رہا ہے ، اس گمراہ کیا جار ہا ہے۔

فوج کے جنرل ہیڈ کوراٹرز نے اس صورتحال میں دانشمندانہ کردار نبھایا۔ جی ایچ کیو کا پس پردہ کردار چل رہا تھا لیکن یہ کردار منظر عام پر اس وقت آیا جب شاہراہ دستور پہنچنے والے مظاہریں کوا یک تحریری بیان کے ذریعہ بتایا گیا کہ اس شاہراہ واقع عمارتیں ریاست کی علامت ہیں اور فوج ان عمارتوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ جی ایچ کیو کا کردار دوسری بار اس وقت سامنے آیا جب آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور عوامی تحریک کے طاہر القادری کو ملاقات کیلئے راولپنڈی مدعو کیا ۔
جی ایچ کیو تیسری بار اس وقت منظر عام پر آیا جب اکتیس اگست کو آئی ایس پی آر کے ایک مختصر بیان میں بتایا گیا کہ یک ستمبر کو کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی افواہوں نے زور پکڑا کہ مارشل لا ء لگنے والا ہے۔یہ افواہیں اس وقت نکتہ عروج پر پہنچ گئیں جب دوبارہ بیان آیا کہ کو ر کمانڈرز کونفرنس پیر کی صبح کے بجائے اتوار کی شام منعقد کی جاری ہے ۔
خیر کانفرنس منعقد ہوئی۔ جب اعلامیہ آیا تو اس میں ض لکھا تھا کہ کو ر کمانڈرز نے جمہوریت کیلئے اپنی حمائت کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی دارلحکومت میں جاری سیاسی بحران میں پرتشدد رجحانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ طاقت کا مزید استعمال مسلہ کو اور زیادہ بگاڑ دے گا۔ دوپیرا گراف کے مختصربیان کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کور کمانڈروں کے اس اجلاس کی صدارت کی ۔
شرکاء نے اسلام آباد میں جاری سیاسی بحران سے پیدا شدہ صورتحال پر تشویش کے ساتھ غور کیا کیونکہ اس بحران نے پرتشدد رنگ اختیار کر لیا ہے ۔ جس کے باعث بڑے پیمانے پر لوگ زخمی ہوئے ہیں اور جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ اس بات کا پھر اعادہ کیا گیا کہ کوئی وقت ضائع کئے اور پرتشدد ذرائع اختیار گئے بغیر صورتحال کا سیاسی انداز میں حل نکالا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج سیاست کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے پر عزم ہے او اس سلسلہ میں قومی امنگوں پر پورا اترا جائے گا۔

اکتیس اگست کی شام جی ایچ کیو میں منعقد ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس اعتبار سے یاد رکھی جائے گی کہ کانفرنس کے اختتام پر جاری کئے گئے اعلامیہ نے ملک میں مارشل لاء گلنے کے خدشات کا نہ صرف تدارک کر دی بلکہ فوجی مداخلت کے متمنی سیاسی کرداروں کی امیدواروں پر بھی اوس پڑ گئی۔ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرنے والے فوجی بوٹوں کی چاپ سننے کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔
اس کو رکمانڈورز کانفرنس کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں کمانڈروں کے درمیان اختلاف رائے کے باوجود جمہوریت کیلئے فوج کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ یا اعادہ دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی بطور آرمی چیف کی بطور آرمی چیف پالیسی اور فیصلہ سازی پر گرفت مضبوط ہے ۔ اس کانفرنس ک نتیجہ میں عسکری قیادت کی سوچ کا توپتہ چل گیا ہے لیکن یہ شائد سربستہ راز ہی رہے گا کہ ہفتہ کی شب حکومتی نمائندوں اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں قابل ذکر پیشرفت کے بعد پکایک کیا ہوا کہ مظاہرین نے ایوان وزیراعظم کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ۔
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بات چیت کرانے کی کوششوں میں شریک ایک شخصیت اب بھی مصر ہیں کہ مذاکرات کے کامیاب اور نتیجہ خیز ہونے میں کچھ ہی کسر باقی تھی۔ سیاسی حل کی ضرورت پر زور دینے والوں نے تحریک انصاف کی تسلی کیلئے یہ تک تجویز کر دیا تھا کہ معتبر شخصیات پر مشتمل ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس بات کو یقینی بنائے گئی کہ نواز شریف وزیزاعظم کی حیثیت سے الیکشن دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے مجوزہ عدالتی کمیشن پر کسی بھی اعتبار سے اثر انداز نہ ہو سکیں۔
افواہوں کا زور اس قدر زیادہ ہے کہ اصلاح احوال کی کوششیں اوجھل ہی ہو گئی ہیں۔ یکم ستمبر کو آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات کے دوران ہی بعض ٹیلیویژن چینلز پر یہ خبر چلا دی گئی کہ آرمی چیف نے نواز شریف کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ فوری طورپر وزیراعظم آفس سے اس خبر کی تردید کر دی لیکن کچھ ہی دیر میں فوج کے شعبہ تعلقات عامیہ نے بھی اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا ۔ بحران کو اس قدر گھمبیر بنا دیا گیا کہ یکم ستمبر کی صبح سپریم کورٹ کو بحران کے حل میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کرنا پڑگئی۔ یہ سطور سپرد قلم کرنے تک اصلاح کی کوششیں جاری ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان