تازہ ترین : 1
Saal Bhar K Liye Jaama Tafriq Ka Din

سال بھر کیلئے جمع تفریق کا دن

حالیہ بجٹ میں بھی یہی ہوا ہے حکومتی دعوؤں کے برعکس تاجروں اور دوکانداروں نے ہر چیز کی قیمت میں کم از کم دس فیصد کے حساب سے راتوں رات اضافہ کر دیا ہے حالانکہ حکومت کا اعلان کردہ بجٹ یکم جولائی سے نافذالعمل ہوگا

خالد یزدانی:
پاکستان میں مالی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے اور حکومتی آمدن اور اخراجات کے ایک سال کا تخمینہ بجٹ کی شکل میں ہر سال جون میں جاری کیا جاتا ہے۔ لیکن عوامی سطح پر جون کا مہینہ قوم کے لئے پچھلے کئی سالوں سے تلخ ثابت ہوتا آ رہا ہے اس سال مئی میں عوام بجٹ کی حکومتی تیاریوں کو شک اور خوف کی نظر سے دیکھ رہے تھے قومی بجٹ میں ایک عام آدمی اعدادو شمار کے گورکھ دھندے کو نہیں سمجھ سکتا وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ نئے بجٹ میں عوام کے لئے ریلیف کی کوئی صورت نظر آتی ہے یا نہیں اور بدقسمتی سے ہر سال اسے مایوسی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ اشیائے خوردونوش اور روز مرہ ضروریات کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

حالیہ بجٹ میں بھی یہی ہوا ہے حکومتی دعوؤں کے برعکس تاجروں اور دوکانداروں نے ہر چیز کی قیمت میں کم از کم دس فیصد کے حساب سے راتوں رات اضافہ کر دیا ہے حالانکہ حکومت کا اعلان کردہ بجٹ یکم جولائی سے نافذ العمل ہو گا مگر ملک میں پرائس کنٹرول کا مربوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے کسی تاجر دوکاندار یا ریڑھی والے کو کسی طرح کے محاسبے کا کوئی خوف نہیں۔
اس کی معمولی سے مثال آلو کی قیمتوں میں 219 فیصد اضافہ ہے جو کہ پاکستان کی 68 سالہ تاریخ کا ریکارڈ ہے مگر مجال ہے کہ کسی حکومتی اعلی کار کے کان پر کوئی جوں بھی رینگتی ہو کہ آلو جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت کو کنٹرول کیا جائے۔
بہ حیثیت مجموعی وزیر خزانہ کی سالانہ بجٹ تقریر الفاظ کا ہیرپھیر ہے۔ جس میں ہر طرف ہریالی دکھائی جاتی ہے لیکن زمینی صورتحال یہ ہے کہ بجٹ تقریر پر ایک معمول کی Exercise ہے جس میں کئے گئے تمام دعوے دھرے رہ جاتے ہیں۔

سالانہ بجٹ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ملک کے معاشی نظام میں حکومتی اعلان کردہ اشیاء و خدمات کی قیمتیں ایک سال کے لئے ایک ایسی سطح پر برقرار رہیں گی مگر درحقیقت ایسا نہیں ہوتا ہر حکومت بجٹ کے بعد منی بجٹ کے ذریعے قیمتوں میں ایسی ردو بدل کرتی ہے جو عوام کی سمجھ میں نہیں آتی انہیں اس وقت پتہ چلتا ہے جب مہنگائی اور افراط زر کے ذریعے ان کی جیبیں کٹ جاتی ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں چلتا۔

ڈالر کی قیمت گرنے سے اوورسیز پاکستانیوں کی رقومات اور برآمد کنندگان کے زرمبادلہ کو خاصا دھچکہ لگا ہے یہی دو ذرائع سے پاکستان میں قیمتی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے دوسری طرف پٹرول درآمدی قیمت میں کمی آئی ہے لیکن اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ سکا ورنہ پٹرول فی لٹر قیمت 100 روپے سے نیچے آ چکی ہوتی۔ ان حکومتی فیصلوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت عوام کے ساتھ کس حد تک ریلیف دینے کی طرف مائل ہے۔

حالیہ بجٹ میں سی این جی پر اضافی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ساتھ یہ بھی یقین دھانی کرائی جا رہی ہے کہ قیمتیں نہیں بڑھیں گی حقیقت یہ ہے کہ سی این جی میں اضافے کے ساتھ ہی ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آ جائے گا جسے کنٹرول کرنا حکومت کے لئے ناممکن ہو گا۔
حالیہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس فیصلے سے صرف ملک کی 2 فیصد آبادی کو ریلیف ملے گا پرائیویٹ سیکٹر ملازمین کی تنخواہیں جو پہلے ہی کم ہیں ان میں اضافے کا کوئی امکان نہیں ایک سرکاری سکول ٹیچر 30 ہزار روپے تنخواہ دے رہا ہے لیکن تعلیم اور تجربے میں اس سے زیادہ استعداد کا ٹیچر پرائیویٹ سکول میں 10 ہزار روپے لیتا ہے اس استحصال کا کسی کے پاس کوئی حل نہیں۔
بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے اس بجٹ میں کسی طرح کی کوئی سکیم متعارف نہیں کی گئی۔
البتہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ماہانہ ایک ہزار کی بجائے 1500 روپے کر دیئے گئے ہیں۔ یہ سیاسی مقاصد کے لئے شروع کی گئی سکیم ہے جس میں ہر دور میں حکمران جماعت کے منظور نظر افراد کو نوازا جاتا ہے۔ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ یہ سکیم غربت میں خاتمے کی بجائے ملک میں بیکاریوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

بجٹ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ سال کے اہداف حاصل نہیں ہو سکے حکومت کا ٹیکس وصولی کا ہدف بھی پورا نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے بالواسطہ یا Indirect ٹیکس لگا کر کام چلایا جا رہا ہے پاکستان میں ڈائریکٹ ٹیکس 20 فیصد اور ان ڈائریکٹر ٹیکس 80 فیصد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امیر طبقہ ٹیکس چوری کے ذریعے ٹیکس نیٹ سے نکل جاتا ہے اور ان کے حصے کا ٹیکس غریبوں کو دینا پڑتا ہے۔

حالیہ بجٹ میں 30ارب روپے موٹروے پراجیکٹ کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں موجودہ حکومت کے نزدیک سڑکیں اور شاہراہیں کی ملکی مسائل کا حل ہیں یہ کثیر رقم اگر تباہ شدہ ریلوے کو بحال کرنے پر خرچ کی جاتی تو شاید اس کے بہتر نتائج برآمد ہوتے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ملک میں پرائس کنٹرول اور ٹیکسوں کی وصولی کا جامع نظام متعارف کرایا جائے تو ملک میں بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
لیکن اس کے لئے ایک دیانتدار حکومتی مشینری کی ضرورت ہے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں اگر ملک میں احتساب کا نظام رائج ہو جائے تو ملک میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے 60 فیصد طبقے کو ریلیف مل سکتا ہے۔
مجموعی طور پر حالیہ بجٹ میں غریب عوام کے لئے دلچسپی کی کوئی خبر نہیں ہے حکومت نے خود افراط زر کو 8 فیصد رکھنے کا ہدف دیا ہے جب کہ اس کی اصل شرح 20 فیصد ہے۔
دوسری طرف غیر ملکی قرضوں کے بوجھ نے معیشت کی کمر توڑ دی ہے جب کہ توانائی کا بحران گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ان سلگتے مسائل کے بارے میں بجٹ میں کوئی حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ لہٰذا نئے مالی سال کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بقول فیض
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہو گا
وقت اشاعت : 2014-06-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں