بند کریں
پیر مارچ

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قرضے معیشت کو کہاں لے جائیں گئے؟
جون 2007 میں پاکستان کے قرضوں و ذمہ داریوں کا مجموعی حجم 5249 ارب روپے تھا جو جون 2014 میں بڑھ کر 10241 ارب روپے ہو گیا ۔ یہ سات برسوں میں 12992 ارب روپے کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ملکی معیشت کے مجموعی قرضوں میں تیزی سے اضافہ تشویشناک ہے ۔ معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے مرکز اور صوبوں کو معیشت کے شعبے میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات نافذ کرنا ہونگی۔ قومی المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت بشمول پاکستان تحریک انصاف ان اصلاحات کے نافذ العمل ہونے کے حق میں نہیں۔ پاکستان کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ اور تجارتی خسارے میں تیزی سے کمی نہ ہوئی تو ان قرضوں کو معہ سود ادا کرنے کیلئے پاکستان کو زبرست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گزشتہ سات برسوں سے پاکستان کے مجموعی قرضوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا رہا ہے۔جون 2007 میں پاکستان کے قرضوں و ذمہ داریوں کا مجموعی حجم 5249 ارب روپے تھا جو جون 2014 میں بڑھ کر 10241 ارب روپے ہو گیا ۔ یہ سات برسوں میں 12992 ارب روپے کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اس اضافے میں بیرونی قرضوں میں ہونے والا 25 ارب ڈالر کا اضافہ بھی شامل ہے۔ قرضوں کے حجم میں اس زبردست اضافے میں درجہ ذیل عوامل کا بھی دخل ہے
# مجموعی ملکی پیدوار کے تناسب سے ٹیکسوں کی وصولی بچت اور سرمایہ کاری کی گرتی ہوئی اور کم شرحیں۔

# برآمدات کے مقابلے میں درآمدات میں تیزی سے اضافہ۔
# کرپشن ، حکومت اور حکومتی اداروں کی ناقص کارکردگی۔
# اسٹیسٹ بنک اور تجارتی بنکوں کا ستحصالی کردار
# توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنے میں ناکامی۔
# امریکہ کاکیری لوگر ایکٹ اور امدادی فنڈ کی مدمیں پاکستان کو تقریباََ 6 ارب ڈالر رقم کی ادائیگی۔
یہ رقم اب ملنے کا امکان نہیں۔
حکومت پاکستان اتحادی امدادی فنڈ کی مد میں 3.4 ارب ڈالر کی رقم سے دستبردار ہو گئی ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔
اب اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ تعلیم ،صحت اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں خطے کے دورے ممالک اور افریقہ کے کچھ غریب ملکوں کے مقابلے میں مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب کے کم رقوم خرچ کرنے کے باوجود اگر حکومت ہر سال اپنی آمدنی سے 700 ارب زیادہ خرچ کرتی ہے تو برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کا حجم 20 ارب ڈالر سالانہ زیادہ رہتا ہے اور ملکک کے قرضوں کے حجم میں 2000 روپے سالانہ کا اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان کی حیثیت کبھی بھی مشکلات سے نہیں نکل سکے گئی۔

موجودہ حکومت کرپشن اور ناقص پالیسیوں کے نقصانات کو پورا کرنے کیلئے حکومتی شعبے کے سب سے منافع بخش ادارے او جی ڈی سی ایل کے حصص غیر ملکیوں کو فروخت کر رہی ہے جبکہ اپنے منشور سے انحراف کرتے ہوئے پی آئی اے کی نجکاری کی جارہی ہے ۔ یہی نہیں پاکستان اسٹیل ملز کی بھی نجکاری کی جارہی ہے ۔ یہ سب معاشی تباہی کے منصوبے ہیں اور ان سے نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل میں واپسی کی راہ ہموار کی جارہی ہے لیکن عملاََ یہ صرف نورا کشتی ہی ہے ۔
کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں بھی غلط بیانیوں کے ذریعے کی جانے والی نجکاری کے خلاف قانونی اقدامات اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان کے بیرونی قرضوں و ذمہ داریوں اور برآمدات کا تناسب 261 فیصد ہے جو خطر ناک حد سے زیادہ ہے۔
پاکستان میں بنک نفع و نقصان کی بنیاد پر کھولے گئے کھاتوں کے کھاتے داروں کی اپنے منافع میں شریک نہ کرکے بچتوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔

اس استحصالی پالیسی کے نتیجے میں قوم بچتوں کے بجائے اسراف کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال میں 250 ارب روپے کی مالیت کے سگریت پھونک کر اپنی صحت تباہ کی اور ماحول کو آلودہ کیا۔
ٍحکومت پاکستان اور چین نے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے پر دستخط کئے ہیں۔ ضروری ہے کہ اس رقم کا بڑا حصہ سودی قرضوں کی ادائیگی میں جانے سے بچایا جائے۔

اگر پاکستان کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ اور تجارتی خسارے میں تیزی سے کمی نہ ہوئی تو ان قرضوں کو معہ سودادا کرنے کیلئے پاکستان کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٍپاکستان کی برآمدات میں گزشتہ 4 برسوں میں عملاََ کوئی اضافہ نہیں ہوا لیکن وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ 2017 ء 2018ء تک برآمدات 25 ارب ڈالر سے بڑھ کر 32 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گئے۔

معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے مرکز اور صوبوں کو معیشت کے شعبے میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ جن میں سے کچھ مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور سے بھی مطابقت رکھتی ہیں۔ یہ یقینا ایک قومی اَلمیہ ہے کہ طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات کے تحفظ کیلئے ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی ان اصلاحات کیلئے تیار نہیں ہیں۔
مجموعی ملکی پیداوار اور پاکستان کے مجموعی قرضوں کا تناسب 64 فیصد ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش کاتناسب 32 فیصد ہے۔
حکومت نے کہا ہے اگلے گیارہ برسوں میں پاکستان کی برآمدات 50 ارب ڈالر سے بڑھ کر 32 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ اس ہدف کے حصول کیلئے کوئی موثر حکمت عملی نظر نہیں آرہی ۔یہ بات بھی واضح ہے کہ اس ہدف کے حصول کیلئے 2017-18 کا برآمدات کا ہدف 32 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہونا چاہیے تھا۔
اس حقیقت کو بہر حال تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کے پاس جو مادی اور انسانی وسائل موجود ہیں اگر ان کو دیانتدارنہ طریقے سے استعمال کیا جائے اور مسلم لیگ (ن) کے منشور پر عمل کیا جائے تو اس برآمدی ہدف کا حصول یقینا ممکن ہے۔
پاکستان کو قرضوں سے نکالنے، قرضوں کی بمعہ سود بروقت ادائیگی کیلئے صرف روایتی اقدامات اٹھانا قطعی ناکافی ہوگا۔
اب ایسی قانون سازی کرنا ہوگی جس کے تحت ممبران وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین ، سیاستدانوں ،اعلیٰ عدلیہ کے سینئر جج صاحبان اور معاشی منتظمین کو پابند کیا جائے کہ وہ چند ہفتوں کے اندر اپنے ااور اپنے متعلقین کے بنکوں کے کھاتے بیرونی ملکوں سے پاکستان منتقل کروالیں۔ ایک اندازے کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی باہر کے بنکوں میں 200 ارب ڈالر رقوم جمع ہیں۔ اگر اس رقم کا ایک حصہ بھی ملک میں آجائے تو اس سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گئے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-09

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان