تازہ ترین : 1
Petrolium Masnoaat Ki Qeemtoon Main Kami

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی

حریف ممالک کو نقصان پہنچانے کی خسارہ حکمت عملی ! حکومت کی غیر موٴثر پالیسیاں ، پاکستان کا عام آدمی ریلیف سے محروم

اسرار بخاری :
یہ ریلیف تو ہے اس کی وجہ حکومت کی دریا دلی ، عوام دوستی یا بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مجبوری ہے بہر حال تیل کی قیمت 103 سے کم ہو کر74 روپے کچھ پیسے ہو گی ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پرائیوٹ کاروں یا موٹرسائیکل رکھنے والوں کو اور بہت زیادہ فائدہ ٹرکوں اور بسوں کے مالکان کو ہوا ہے۔
انہوں نے جس تناسب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اس تناسب سے کرایوں میں کمی نہیں کی جب پٹرول کی قیمت تقریباََ 98 یا97 روپے فی لٹر تھی سٹاپ سے سٹاپ کا کرایہ 10 روپے تھا جس میں پٹرول کی قیمتوں کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن یہ قیمتیں کم ہوئیں تو اس حساب سے کرایہ میں کمی نہیں کی گی۔ اس لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ب جبکہ پٹرول کی قیمت74 روپے کچھ پیسے کی سطح پر آگی تو اصولی طور پر سٹاپ سے سٹاپ کا کرایہ 10 روپے سے کم ہونا چاہیے تھامگر بسوں اور ویگنوں والے مسلسل پندرہ روپے وصول کر رہے ہیں اب حکومت نے حاتم کی قبر پرلات ماری ہے اور سٹاپ سے سٹاپ کرایہ 12 روپے مقرر کر دیا ہے جو عام آدمی نہیں سرمایہ دار بس ویگن مالکان کے مفاد کا تحفظ ہے اس لئے حکومت کو اس جانب فوری توجہ دینی چاہیے۔
پاکستان وہ ملک ہے جہاں سیلاب تو اتر جاتے ہیں مگر ایک مرتبہ بڑھنے والی قیمتیں نہیں گھٹتیں یہ بھی طرفہ تماشہ ہے کہ ملک میں ہر چیز کی قیمت کو تیل کی قیمت سے منسلک کر دیا گیا اور جب کسی دکاندار سے اس کی وجہ پوچھی جائے تو جواب ملتا ہے کہ کیا پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں ہو گیا ہے۔حتی کہ بھینسوں سے دودھ نکال کر فروخت کرنے والا گوالا بھی دودھ کی قیمت میں اضافہ کے لیے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کا جواز پیش کرتا ہے۔

اگرچہ نواز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو عوام کے لیے نئے سال کی خوشخبری قرار دیا ہے مگر اس کے مثبت اثرات سے عوام کی تادم تحریر محرومی نے اسے ان کے لئے حقیقی خوشی کا باعث نہیں بننے دیا ہے۔پھریہ بھی کیسی ستم ظریفی ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر پانچ فیصد جی ایس ٹی کانفاذ کر دیا گیا ہے ۔ خود ہی عوام کو اس فائدے سے محروم کر کے اس ”خوشخبری“ کے اثرات کو کم کر دیا ہے جس ایس ٹی کے نفاد کی وجہ سے حکومت کو ہونے والے 68 ارب روپے کے خسارہ کی کمی کو پورا کرنا ہے۔
یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ طریقہ اختیار کر کے حکومت اپنا خسارہ کی کمی کو پورا کر ے گی مگر قبل ازیں پٹرولیم مصنوعات پر مختلف مقامی ٹیکس لگا کر عوام کو ”خسارہ“ پہنچایا گیا ہے اس کا ازالہ کیسے ہوگا۔ حالانکہ عالمی منڈیی تیل کی قیمتوں میں 50 فیصدکمی ہوئی ہے لیکن پاکستانی عوام کو15 فیصد سے بھی کم ریلیف ملا ہے ۔ ادھر بہرحال میں عوام کی کھال اتار نے والا گراں فروش مافیا بھی عوام کو سکون کا سانس لینے کی مہلت نہیں دے رہا۔
یہی وجہ ہے کہ سبزیوں،دالوں، اجناس، پھلوں ، انڈوں اور گوشت کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جار ہی اس لیے حکومت کو روز مرہ قیمتوں میں کمی کیلئے موثر اور ٹھوس اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
جہاں تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ ہے تو کیا اچانک تیل کی پیداوار اتنی بڑھ گی ہے کہ عالمی منڈی کے لئے اسے کھپاناممکن نہیں رہا او اس طرح تیل کی مصنوعات کی قیمتیں کم ہوگی ہیں کیونکہ مارکیٹ میں جس چیز کی رسد زیادہ ہو جائے اس کی قیمت ازخود کم ہو جایا کرتی ہے۔
بغور جائزہ لیا جائے تو وجہ یہ نہیں ہے کہ بلکہ اس سلسلے میں دیگر عوامل سامنے آتے ہیں۔
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے گزشتہ ماہ ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ حیران کن ہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی نہیں کی جائے گی اور سعودی عرب کے وزیرتیل علی النعیمی کا یہ بیان مزید حیرت کے درکھولنے والا ہے کہ نقصان برداشت کرلیں گئے تیل کی پیداوار نہیں بڑھائیں گئے۔
موجودہ صورتحال میں سعودی عرب کی یومیہ چارملین ڈالر کا خسارہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے اسے سماجی بہود کے ان منصوبوں پر نظر ثانی کرنی پڑے گی جو عرب بہار کی طوفانی کیفیت کے باعث شروع کئے گئے تھے۔ اس صورتحال کا ایک دلچسپ پہلویہ ہیکہ تیل کی پیداوار میں کمی نہ کرنے سے جہاں سعودی عرب نقصان سے دوچار ہے وہاں امریکی آئل کمپنیاں بھی خطرے میں جارہی ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک زیادہ پیداوار کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرکے کیا دنیا بھر کے عوام کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں اگرایسا ہے تو پھر ان کی انسان دوستی کو سلام کرنا چاہیے مگر برسر زمین حقائق کچھ اور تصویر سامنے لا رہے ہیں ،کیا یہ تعجب خیز صورت نہیں ہے کہ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اپنے اس نقصان کو ٹھنڈے پیٹوں کیوں برداشت کر رہے ہیں کیا اس حکمت عملی کا مقصد روس اور ایران کو سبق سکھانا ہے یہ قابل غورنکتہ ہے کہ تیل کی برآمدات روسی معیشت کا بہت بڑا سہارا ہے ۔
حال ہی میں پیش ہونے والے بجٹ میں خام تیل کی قیمت کا تخمیہ100ڈالر فی بیرل لگایا گیا ہے لیکن تیل کی قیمت گرنے سے اسے 9اعشاریہ 5 ملین ڈالر خسارا برداشت کرنا پڑرہا ہے ادھر وہ روسی کمپنیاں جو اپنی بقا کی جنگ امریکی بینکوں سے قرضے لے کر لڑ رہی ہے ان کے لئے دیوالیہ ایک خطرہ کی طرح منہ پھاڑے کھڑا ہے کیا یہ روس کو یوکرائن پر چڑھ دوڑنے کی سزا دی جا رہی ہے اس حوالے سے حتمی طورپر کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ حالات کچھ ایسی ہی تصویر پیش کر رہے ہیں۔
ادھر جہاں تک ایران کا تعلق ہے شام میں بشار الاسد کی مدد کر رہ ہے شام کے تیل کے کنویں امریکی او مخالف داعش کے قبضے میں چلے جانے پر ایران نے تیل کی پیداوار کے لئے 3.6بلین ڈالر اور نان آئل پیداوار کے لئے ایک ارب ڈالر قرضے کی سہولت فراہم کی اور شام کے سنٹرل بینک میں750 ملین ڈالر جمع کراکے شامی پونڈ کو بھی سہارا دیا اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت چالیس سے پینتالیس ڈالر فی بیرل تک چلی جائے اس سے روس اور ایران بہت زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے منطقی نتیجہ یہی برآمد ہو گاالبتہ اس صورتحال سے ان ممالک کو بہرحال فائدہ ہو رہا ہے جو تیل کے خریدار ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے جون 2014 میں جب عالمی منڈی میں خا م تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تھی تو پاکستان میں پٹرول 107 روپے 97 پیسے فی لٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا تھا اور اب جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت تقریباََ نصف رہ گئی ہے تو ملک میں تیل کی قیمت 54 روپے فی لٹر تک آجانی چاہیے مگر اب 74 روپے فی لٹر فروخت ہو رہا ہے۔
اس طرح لیوی سرچار سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات کی مد میں خاصی رقم عوام کی جیبوں سے نکلوائی جا رہی ہے ادھر ٹرانسپورٹ مالکان اتنے منہ زور ہو گئے ہیں کہ خیبر پی کے حکومت نے فوری طورپر مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں 8 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔سندھ حکومت کا کرایوں میں 7 فیصد کمی کا اعلان مگر ٹرانسپورٹ اتحاد نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔
ادھر ایل پی جی بھی مزید 15 روپے کلوسستی ہوگی ہے۔ گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 195 اور کمرشل سلنڈر کی قیمت میں675 روپے کمی ہو گی۔حکومت نے ٹرانسپورٹ کے نئے کرایوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ۔ انٹرسٹی پٹرول گاڑیوں کے کرایوں میں7 ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے کرایوں میں8 فیصد کمی کی گئی ہے۔ انٹراسٹی کے کرایوں میں7 پیسے فی کلومیٹر کمی کی گی ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے بھی کرایوں میں8 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔ادھر لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے شہر بھر میں اربن ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں7 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔ اربن نان اے سی ڈیزل بسوں کا کم از کم کرایہ 12 روپے ہوگا۔ دوسری جانب حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی عوام کیلئے درد سر بن گئی ۔ لاہور سمیت کئی شہروں میں بیشتر پٹرول پمپس بند رہے جبکہ کھلے پٹرول پمپس پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ پٹرول نایاب ہو گیا جس کے باعث شہریوں کو شیدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی پٹرول پمپس نے بورڈ پر کمی کے بعد نئی قیمتیں تو آویزاں کر دی تھیں تاہم قیمتوں میں کمی نہ کی گئی۔ اس مصنوعی قلت سے عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔
وقت اشاعت : 2015-01-09

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں