بند کریں
منگل مارچ

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان کی معیشت میں بہتری
اس کے ثمرات عوام کو کب نصیب ہونگے؟۔ مجموعی طورپر اگلے چند سالوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔ فی الحال عام شہری کے لئے معیشت کی بہتری اعداد و شمار کا گورکھ کا دھندہ ہے
مصنف : سید بدر سعید
مسلم لیگ(ن) کی حکومت پاکستان کو درپیش بڑے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کرتی نظر آرہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملکی معیشت پہلے سے بہتر ہورہی ہے اور روپے کی قدر بہتر ہورہی ہے۔ مجموعی طورپر اگلے چند سالوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔ فی الحال عام شہری کے لئے معیشت کی بہتری اعداد و شمار کا گورکھ کا دھندہ ہے۔ یہ بہتری اس وقت تک کار آمد نہیں جب تک اس کے براہ راست ثمرات عوام تک نہ پہنچ سکیں۔
اس سلسلے میں حکومت کو ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔
مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئے گیارہ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرچکا ہے۔ یہ مدت کسی بھی حکومت کے لئے بنیادی ”روڈ میپ“ بنانے اور آئندہ منصوبوں کی بنیاد رکھنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔ اس عرصہ میں کوئی بھی حکومتی اقدامات اور رجحانات یہ بتانے کیلئے کافی ہوتے ہیں کہ حکومت ملکی مسائل کے خاتمے کیلئے کس قدر سنجیدہ ہے اور وہ اپنی مدت حکومت کے اختتام تک کسی حد تک کامیاب ہوسکے گی۔
حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ حکومت بناتے وقت ملک کو کن بڑے مسائل کا سامنا تھا اور حکومت نے ان کی جانب کتنی توجہ دی۔ یہ درست ہے کہ پیچیدہ اور بڑے مسائل ایسے ہیں جو محض گیارہ ماہ میں حل نہیں ہوسکتے تھے۔ ان کیلئے طویل مدتی منصوبوں کی ضرورت ہوتی ہے اور مسلسل محنت کے بعد ہی ان سب مسائل سے نجات مل پاتی ہے یہ درست ہے کہ ان کے خاتمے کیلئے کوششیں آغاز ہی میں کی جاتی ہیں اور ایسے ہی اقدامات کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ حکومت کس حد تک سنجیدہ ہے۔

مسندِ اقتدار پر بیٹھتے وقت مسلم لیگ ن کو جن مسائل کا سامنا تھا، ان میں دہشت گردی، توانائی کا بحران، معیشت کی تباہی اور پڑوسی ممالک سے خصوصاََ افغانستان سے تعلقات میں خرابی وغیرہ سرفہرست تھے۔ وطن عزیز میں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں عروج پر تھیں اور طالبان ااعلانیہ دھماکے کررہے تھے۔ لوڈ شیڈنگ بھی عروج پر تھی جس کی وجہ سے عام شہری تو اذیت کا شکار تھا ہی لیکن فیکٹریاں بھی بند ہورہی تھیں، سرمایہ کار ملک سے جارہے تھے اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا تھا۔
دوری جانب ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر تھی۔ روپے کی قدر مسلسل گرتی چلی جارہی تھی اور قرجوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسلسل نوٹ چھاپ کر ملکی نظام چلانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اسی لئے مہنگائی بھی تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ پاکستان کی متعدد پالیسیوں کی وجہ سے پڑوسی ملک کے نزدیک پاکستان ناقابل اعتبار ہوتا جارہا تھا۔ افغان حکومت مسلسل پاکستان پر الزامات لگارہی تھی یہاں تک کہ چین بھی بعض معاملات میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔

دیکھنا یہ ہے کہ نئی جمہوری حکومت نے ان موائل کے خاتمے کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں اور کس حد تک سنجیدہ نظر آتی ہے۔ حکومت نے آتے ہی ڈروں حملوں کی مذمت کر کے نئی سمت کی نشاندہی کردی تھی۔ اس کے بعد طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کر کے شدت پسندی پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔ حکومت مذاکرات کے ساتھ ساتھ آپریشن بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ حکومت کیلئے بڑا ٹاسک ہے جسے پورا کئے بغیر عام شہری کو معیشت کی بہتری پر یقین نہیں آسکے گا۔
اس کے برعکس اگر حکومت معیشت کی بہتری کے دعوؤں کے ساتھ ساتھ گھریلو استعمال کی اشیاء اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کر دے تو اس کا فائدہ عام شہری کو ہوگا۔ معیشت کی تباہ حالی کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کی نظر میں مشکوک ہوچکا تھا۔ خصوصاََ جنرل مشرف کی پالیسیوں نے ہمیں اپنے ہی پڑوسیوں کی نظر میں غیر معتبر بنا دیا تھا۔ اب پاکستان نے ایسے پالیسی بیانات دئیے ہیں جن کے مطابق پاکستان پڑوسی ممالک میں معتبر ہورہا ہے۔
افغانستان کے صدارتی امیدوار عبداللہ کو بھارت نواز سمجھا جاتا ہے لیکن گزشتہ دنوں انہو ں نے بھی بیان دیا کہ وہ نریندر مودی کی بجائے پاکستانی وزیر اعظم سے ملنا پسند کریں گے۔
مجموعی طورپر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلم لیگ ن کے ابتدائی دور حکومت میں عوام کے مسائل حل نہیں ہوپائے۔ عوام کو آج بھی انہی مسائل کا سامنا ہے جو ایک سال قبل تھے لیکن اس کے باوجود ملک بہتری کی طرف گامزن نظر آتا ہے۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی رپورٹوں میں پاکستان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکیا گیا ہے اور پاکستانی روپے کی قدر بہتر ہوتی جارہی ہے۔ خصوصاََ پاکستان کی معیشت کا گراف اوپر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔گزشتہ سال پاکستانی معیشت کا گراف 2.8فیصد تھا جو بڑھ کر 3.1فیصد تک چلا گیا ہے۔ ملکی جی ڈی پی بھی بہتر ہوا ہے ۔ ورلڈ بنک کے مینجنگ ڈائریکٹر نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا اوپر جانا ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔
صورتحال کے مجموعی جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان دھیرے دھیرے ترکی جانب گامزن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی کا یہ سفر جاری رکھا جائے اور ایسی کسی بھی مہم جوئی سے گریز کیا جائے جو ملکی ترقی کیلئے نقصان دہ ہو۔ ملکی ترقی میں بڑھوتری کا دارومدار بھی حکومت ہی پر ہے۔ ترقی اور معیشت کی بہتری کے ثمرات عوام تک بھی پہنچنے چاہییں۔ عام شہری کے ذریعہ آمدن میں اضافہ ہو اور اسے بہتر سہولیات میسر ہوں۔ اب یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس خواب کو حقیقت کا روپ دے اور ٹھوس منصوبہ بندی کرے۔ اگر عام شہری کے حالات بہتر نہ ہوئے تو ترقی اور معیشت کی بہتری کے دعوؤں کی کوئی حقیقت نہیں رہے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان