تازہ ترین : 1
Pakistan DRone IMF Or Muzakrat K Darmyan Mualaq

پاکستان ڈرون ‘ آئی ایم ایف اور مذاکرات کے درمیان معلق

حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر آچکی ہے امریکہ نے ایک طرف مالیاتی اور دوسری جانب عسکری دباو کی کیفیت رکھی ہوئی ہے

محمد انیس الرحمن :
دنیا کی معلوم تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قدرت نے جب کبھی کسی قوم پر احتساب کی تلوار لٹکائی تو اس کی معیشت کو تباہ کر دیا گیا۔قرآن کریم نے بھی چند مثالوں کے ذریعے عالم انسانسیت کو اس طریقہ احتساب سے خبر دار کیا ہے جس میں سب سے واضح مثال یمن کے ” سدمارب“ کی تباہی ہے۔ جزیرہ العرب کے جنوب میں یمن کے مقام پر قائم قوم سبا کی تہذیب معلوم تاریخ میں دنیا کی چار بڑی اور طاقتور تہذیبوں میں شمار ہوتی تھی ان کی مضبوط معیشت کا دارومدار قوم سبا کے قدیم دارالحکومت مارب میں قائم پانی کا ڈیم تھا جس میں سے قوم سبا نے بہت سی نہریں نکال کر اس تمام خطے کو آبپاشی کے ذریعے جنت کے باغات میں تبدیل کیا ہوا تھا۔
مضبوط معیشت کا انحصار اسی آبپاشی کے نظام سے منسلک تھا۔ اس قوم کے تجارتی قافلے بحیرہ احمر کے ساتھ ساتھ جزیرہ العرب میں شمال کی جانب سفر کر کے فلسطین اور شام تک جایا کرتے تھے۔ بے پناہ خوشحالی نے اس قوم میں نافرمانی اور اللہ سے بغاوت کی روش پیدا کر دی۔ انہوں نے اللہ کی رحمت کی بجائے اپنے معاشی وسائل پر انحصار شروع کر دیا جس کی پاداش میں ان کوسزا دینے کے لئے قدرت نے ان کی معاشیات پر اس طرح ضرب لگائی کہ مارب میں موجود عجوبہ روز گار پانی کا ڈیم منہدم ہو گیا ۔
ڈیم کی تباہی نے اس خطے کو آہستہ آہستہ سر سبز خطے سے ایک آبے وگیا صحرا میں تبدیل کر دیا۔دوسری مشکل یہ پیش آئی کہ یورپی منڈیوں کا وہ مال جسے بحیرہ روم میں بحری جہازوں کے ذریعے مصراور پھر یہاں سے اسکندریہ کی بندرگاہ سے براستہ بحیرہ احمر یمن کی بندر گاہ اور یہاں بھاری ٹیکس ادا کر کے اس سے آگے پہنچایا جاتا تھا یہ سلسلہ انتہائی کم ہو گیا کیو نکہ یورپی مال کی دور تک رسائی کے لئے متبادل راستے تلاش کر لئے گئے تھے تجارتی مال کے لیے متبادل راستوں کے دریافت ہونے نے قوم سبا کی رہی سہی معیشت کو بھی دیوالیہ کر دیا اور یوں معاشی وسائل پر نازاں قوم سبا تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی۔

جدید تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ یور پ میں جب صنعتی ترقی نے معاشیات کو عروج پر پہنچایا تو اسی ترقی کے بطن سے جنگی صنعت نے بھی جنم لے لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب آہستہ آہستہ Godless Sociatyیعنی بے خدائی معاشرے میں تبدیل ہونے لگاجس کی ابتدا اس طرح کی گئی کہ رومن کیتھولک عیسائیت کی ناکامی کو جواز بنا کر پہلے مذہب کو انسان زندگی کے ہر معاملے سے خارج کر کے ایک خالصتا مادی اور لادینی معاشرے کا قیام عمل میں لایا گیا۔
مغرب کی معاشی، معاشرتی اور سیاسی شہہ رگ پر یورو صہیونی گروہ نے اپنی گرفت مضبوط کرلی جس کا خمیازہ مغرب کے کروڑوں عوام کو پہلے جنگ عظیم اول اور اس کے بعد جنگ عظیم دوم کی شکل میں بھگتنا پڑا جس نے نہ صرف مغرب کو معاشی زوال کے دھانے پر پہنچا دیا بلکہ عالمی سیادت کا رکھ لندن سے واشنگٹن کی جانب موڑ دیا گیا جس کے بعد نصف صدر مغرب کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں لگ گئی لیکن وہ برطانیہ جس کی سلطنت میں سورج غروب ہوتا تھا سکڑ کر ایک جزیرہ تک محدود ہو گیا۔

سوویت یونین کی تحلیل کے سیاسی اور عسکری عوامل کچھ بھی ہوں لیکن یہ ایک حقیقت کہ افغانستان کے میدان جنگ میں اسے گھسیٹنے کا بڑا مقصد اسے معاشی دیوالیہ سے دوچار کرنا تھا اور چشم عالم نے یہ نظارہ دیکھا کہ دنیا کے سب سے بڑے رقبے اور سب سے بڑی جوہری قوت کا حامل ملک سوویت یونین خود اپنے وزن تلے کچلا گیا اور وہ ماسکو جو کسی کی لمبی لمبی قطاریں محض ایک ڈبل روٹی کے حصول کے لئے لگنے لگیں اور وہ سوویت فوج جس کے احساس سے ایک دنیا کانپتی تھی اس کے بڑے بڑے کمانڈر روسی شہروں میں جوتے فروخت کرتے پائے گئے۔

اس ساری تمہید کا مقصد اس بات کو جاننے کی کوشش کرنا ہے جس میں وقت وطن عزیز کی معاشی اور سیاسی صورتحال گھری ہوئی نظر آرہی ہے ۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس وقت مذاکراتی کمیٹی کے ارکان مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کے لئے وزیرستان میں تھے تو اس وقت امریکہ کے ڈرون طیاروں نے علاقے میں پروازیں شروع کر دیں جس کی وجہ سے مذاکرات میں شامل افراد کو متعد د بار اپنی جگہ تبدیل کرنا پڑی ۔
امریکہ نے اپنے اس رویے سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ان مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کو کہاں کھڑا دیکھنا چاہتا ہے ۔ دوسری جانب ملک کی لبرل سیاسی جماعتوں نے شروع دن سے ان امن مذاکرات کے حوالے سے ایک تماشے کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے ۔ ان کی جانب سے کبھی کہاجاتا ہے کہ وہ حکومت کی ان امن کوششوں میں اس کے ساتھ ہیں اورکبھی مذاکراتی ٹیم کے ارکان پر اعتراضات شروع کر دیئے جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان کو اس کیفیت سے دوچار کرنے کا منصوبہ اسی وقت تشکیل دیا گیاتھا جس وقت امریکہ اور اس کے نیٹو اتحاد نے افغانستان پر چڑھائی کی منصوبہ بندی کی تھی۔ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے دوران پاکستان کا کردار ان کے تجربے میں شامل تھا۔ امریکہ اور برطانیہ اس بات سے بھی اچھی طرح واقف تھے کہ افغانستان میں طالبان حکومت در حقیقت خطے میں پختون حکومت تصور کی جاتی ہے اور پختون آبادی کا بڑا حصہ پاک افغان سرحدوں کا خاتمہ یقینا اس آبادی کو منظور نہ ہو اس کے علاوہ مزاحمت کی جس تحریک نے امریکہ اور نیٹو کے قبضے کے خلاف سر اٹھایا تھا اس میں پاکستان کے قبائلی علاقوں کے پختونوں کا بھی کلیدی کردار ہوتا اس لئے ایک طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود پختون آبادی کو اور دوسری جانب پا ک فوج کے بڑے حصے کو مشرقی سرحد سے ہٹا کر مغربی سرحدوں پر مشغول رکھنا امریکہ اور برطانیہ کے ایجنڈے میں شامل تھا۔
رہی سہی کسر پرویز مشرف کی ہوس اقتدار نے پوری کر دی جس نے امریکہ کو خوشنودی کی خاطر ہر قدم اٹھایا جس نے پاکستان کی سلامتی کے دامن کا رد عمل کی آگ میں جھلسا دیا ۔یہ وہ صورتحال تھی جس کے بعد ملک کی معاشی صورتحال نے نیچے کی جانب جانا شروع کیا اور دوسری جانب آئی ایم ایف نے قرضوں کی فراہمی کے لئے کڑی سے کڑی شرائط عائد کرنا شروع کیں جس نے پاکستانی قوم کا تیل نکال دیا۔
مشرف کے بعد پیپلز پارٹی کے نام پر زرداری گروپ کا دور اقتدار اس قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ اس دور میں لوٹ مار کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے قومی معیشت کا ڈھڑن تختہ کر دیا۔ اربوں روپے کی رشوت کے عوض کرایے کے بجلی گھروں کی تنصیب دے کر قوم کو ناقبل یقین نرخوں پر بجلی فروخت کر جانے لگی۔ پیٹرول کی مہنگائی نے ہر چھوٹی بڑے چیز کی قیمت آسمان پر پہنچا دی ، لوڈشیڈنگ کے طویل دوراینے نے صنعتوں کا پہیہ جام کر دیا۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ بدنام زمانہ این آر او کے نفاذ کے بعد عالمی قوتوں کی جانب سے زرداری گروپ کو اقتدار میں لانے کا بڑا مقصد یہی تھا کہ ایک طرف دہشت گردی کے نام پر فوج کو اس کے ہم وطنوں سے لڑایا جائے تو دوسری جانب اس گروپ نے جس انداز کی لوٹ مار کرنا تھی اس سے پاکستان کو چار سال میں اس مقام پر پہنچا دیا جائے جہاں مشرف بھی آٹھ برسوں کے دوران نہیں پہنچا سکے تھے۔
زرداری گروپ کے لگائے ہوئے زخموں کے ازالے کے نام پر قوم نے نون لیگ کو اقتداد میں آنے کا موقع فراہم کیا لیکن یہ خواب بھی صحرا میں سراب ثابت ہوا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف حکومت اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں پر مبنی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب کراچی اور بلوچستان میں قتل وغارت گری کا سلسلہ بند ہونے کو نہیں آرہا۔
اس کے علاوہ ایسے عسکریت پسند گروپ بھی فعال ہیں جن کی ڈوریں ملک کے باہر کی وطن دشمن قوتیں ہلا رہی ہیں۔ جو اس بات پر یقین نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ وہ برطانیہ کے اخبار سنڈے ٹائمز کی گذشتہ دنوں شائع ہونے والی اس رپورٹ کا ہی مطالعہ کرلیں جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لیبیا میں قذافی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے کس طرح امریکی سی آئی اے نے لیبیا کے ” انتہا پسند“ گروپوں کے تیار کیا اور کیسے ان گروپوں کے لیبیا میں قذافی کی حمایتی فوج کا مقابلہ کیا اور کس کس طرح نیٹو کے جنگی طیاروں اور زمینی کمک نے ان باغی قوتوں کا ساتھ دیا۔
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشات کیا گیا تھا کہ لیبیا کے دارالحکومت بن غازی میں قائم امریکی سفار تخانہ زیادہ تر امریکی سی آئی اے کے ایجنٹوں سے بھرا پڑا تھا جو قذافی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے حکومت کی باغی قوتوں کو تیار کر رہے تھے اور بعد میں ان ہی مقامی باغیوں کی سرکردہ قیادت نے اس امریکی سفارتخانے پر ایک باغی گروپ کے افراد نے حملہ بھی کر دیا تھا جس میں امریکی سفیر کرسٹو فراسٹونس اور ان کا ایک ساتھ مارے گے تھے۔
اوباما حکومت کے اس حملے کی وجہ سے خاصی خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے کہا جا رہا تھا کہ اگر حقائق کھل کر امریکی عوام کے سامنے آگئے تو اوباما کے لئے اگلے انتخابات میں کامیاب ہونا مشکل ہو جائے گا اسی وجہ سے بن غازی میں امریکی سفار تخانے پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کو جان بوجھ کر موخر کیا جاتا رہا جبکہ ایبٹ آباد کمپاوٴنڈ پر ” پراسرار حملے“ اور اسامہ کی مبینہ موت کے بعد امریکہ سمیت تمام دنیا کی توجہ ہی دوسری جانب مبذول ہو گئی تھی جس نے اوباما کو ایک مرتبہ پھر وائٹ ہاوس میں براجمان ہونے کا موقع فراہم کر دیا ۔
سنڈے ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق بن غازی کے امریکی سفار تخانے میں موجود سی آئی اے کے ان ہی ارکان نے بعد من شام حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے جنگجو بھرتی کئے تھے۔۔۔۔ اب اگر بن غازی میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی تحقیقات سامنے آتی ہیں تو جنگجووں سے امریکی روابط بھی دنیا کے سامنے آئیں گے اور یہ بات بھی سامنے آئے گئی کہ دنیا کے سامنے آئے گئی کہ اس سفارتخانے کو سی آئے اے اپنے عسکری اڈے کے طور پر استعمال کر تی رہی ۔
اگر ایسا ہوتا تو امریکی سفیر کیوں ایک حملے میں مارا جاتا اور دوسرے یہ کہ دیگر عرب خطوں میں انتشار پیدا کرنے کے لئے امریکہ نے یہاں سے جنگجوں بھی بھرتی گئے۔۔۔۔۔ یہ تمام باتیں امریکی حکومت کے حق میں نہیں جاتیں اس لئے بار بار کے مطالبات کے باوجود امریکی حکومت کھل کر تحقیقات کرانے سے گریزاں ہیں برطانیوں سنڈے ٹائمز نے بڑی حد تک بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

گذشتہ چودہ برسوں کے دوران کیا وطن عزیز میں بھی ایسا نہیں ہوتا رہا؟ ایک طرف ملک بھر میں دہشت گردی کی وار داتیں اور دوسری جانب آئی ایم ایف کی نئی نئی شرائط نے پاکستانی قوم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے موجودہ حکومت کا حال یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر آچکی ہے۔ ملک کا وزیز خزانہ کسی طور پر بھی عالیمی ادارے کو ناں کرنے کے موڈ میں نہیں۔
امریکہ ایک طرف مالیاتی ادارے کے ذریعے پاکستان کا معاشی ناطقہ بند کرنے پر تلا ہوا ہے دوسری جانب مذاکرات کو سبو تاژ کرانے کے لئے وہ ملک کی لبرل سیاسی جماعتوں کابھر پور استعمال کر رہا ہے۔ یہ صورتحال اسی طرح بر قرار رہی توامن مذاکرات کا مستقبل مخدوش ہو سکتا اور معاشی سرگرمیاں امن کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ حکومت اورپاکستان کے دفاع کے ضامن اداروں کو اچھی طرح سمجھ لینا چایئے کہ وطن عزیز کے روشن مستقبل کا انحصار امن کی فضا قائم رہنے میں ہے، یہ وقت دوراندیشی براداشت اور تحمل کا دامن تھامنے کا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-02-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں