تازہ ترین : 1
My Karachi Numaish

مائی کراچی نمائش … تجارتی سرگرمیوں کا مرکز و محور بحالی کی جانب گامزن

اہلیان کراچی کی توقعات سے زیادہ شرکت نے نمائش کو چارچاندلگادیئے اور نمائش میں خریداری کا 12سالہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔ کراچی چیمبر کی جانب سے نمائش میں پہلی بار خواتین کیلئے لان فیبرک پویلین قائم کیا گیا

خورشید انجم
ملک کا معاشی حب کراچی کئی سالوں سے جاری شدید بدامنی ‘قتل وغارت گری اور بدترین دہشت گردی کے باعث صنعت وتجارت کیلئے مقتل گاہ بنا تو بیشتر تاجر اورصنعتکار شہرقائد سے رخت سفر باندھ کرپنجاب اور بیرون ملک منتقل ہوگئے۔ گزشتہ عشرے میں بڑے پیمانے پر بھتہ وصولی ‘ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں اورٹارگٹ کلنگ کے پے درپے واقعات نے کراچی میں تجارتی وصنعتی سرگرمیوں کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔
تاریخ کی بدترین بدامنی نے جہاں تاجروں وصنعتکاروں کو بحران سے دوچار کیا وہاں محصولا ت وٹیکسوں کی مد میں حکومت کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ امن وامان کی صورتحال کی ابتری کے باعث جہاں ایک طرف مقامی سرمایہ شہر قائد سے اندرون وبیرون ملک منتقل ہونے لگا تو دوسری جانب بیرونی سرمایہ کا ری میں بھی نمایاں کمی آئی۔ امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اورآئے روز کی ہڑتالوں اوردھرنوں نے معاشی حب کراچی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
موجودہ وفاقی اورسندھ حکومت نے حال ہی میں شہر قائد کی روشنیاں واپس لوٹانے ا ور تجارتی وصنعتی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے پولیس ورینجرز کے ذریعے ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا تو اہلیان کراچی اور تاجروں وصنعتکاروں کی جا ن میں جان آئی۔ پولیس ورینجرز کے آپریشن کے تحت کراچی میں امن وامان کی صورتحال قدرے بہتر ہوئی تو تجارت وصنعت کی سرگرمیاں بھی بحال ہونے لگیں تاہم تجارتی وصنعتی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات کی شدید ضرورت ہے تاہم امن وامان کی صورتحال میں بہتری کے بعد عوام الناس ‘ تاجر اور صنعتکار برادری نے سکھ کا سانس لیا۔

شہر قائد میں طویل بدامنی کے بعد کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت سندھ اورٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے کراچی ایکسپوسینٹر میں تین روز 12ویں مائی کراچی نما ئش کا انعقاد کیا۔ کئی برسوں سے جاری قتل وغارتگری ‘ اغواء کی وارداتوں اوربھتہ مافیا کی سرگرمیوں کے بعد مائی کراچی نمائش کا انعقاد خوف کے مارے تاجروں ‘ صنعتکاروں اور شہریوں کیلئے ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوا ۔
اہلیان کراچی کی توقعات سے زیادہ شرکت نے نمائش کو چارچاندلگادیئے اور نمائش میں خریداری کا 12سالہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔ کراچی چیمبر کی جانب سے نمائش میں پہلی بار خواتین کیلئے لان فیبرک پویلین قائم کیا گیا‘ جہاں سے خواتین نے ریکارڈ خریداری کی تاجر اور صنعتکاربرادری نے طویل بدامنی کے بعد مائی کراچی نما ئش کے کامیاب انعقاد کو تجارتی وصنعتی سرگرمیوں کی بحالی کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے۔
مائی کراچی نمائش کیلئے ایکسپوسینٹر کے تمام 6ہالز میں 300اسٹالز لگائے گئے جبکہ بین الاقوامی پویلین میں 19ممالک کے اسٹالز قائم کئے گئے۔ عالمی پویلین میں سب سے بڑا اسٹال انڈونیشیا کی جانب سے لگایا گیا‘ انڈونیشیا واحد ملک ہے جو مسلسل 12سالوں سے مائی کراچی نمائش میں شرکت کرتاچلاآرہا ہے۔ نمائش میں ترکی‘ سوئٹزر لینڈ‘ویتنام‘یوکرائن ‘سری لنکا ‘ رومانیہ اوردیگر ممالک نے اپنی مصنوعات کی تشہیر کی۔
لاکھوں شہریوں کی نمائش میں شرکت نے تاجروں وصنعتکاروں کے حوصلے بلند کردیئے۔ شہریوں کی کثیر تعداد میں نمائش میں شرکت اوربڑے پیمانے پر خریداری پر اسٹال ہولڈرز تاجروں نے کراچی چیمبر سے سال میں دومرتبہ مائی کراچی نمائش کے انعقاد کی اپیل کی ہے جس پرکراچی چیمبر کے عہدیداروں اورتاجروصنعتکار رہنماؤں نے تاجروں کی اس اپیل پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

10تا 12اپریل 2015ء تک جاری رہنے والی مائی کراچی نمائش کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کیا۔ اس موقع پر کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی کے سی سی آئی کے صدر افتخار احمد وہرہ‘ بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی‘ چیئرمین ٹی ڈیپ ایس ایم منیر‘ زبیر موتی والا‘ نمائش کمیٹی کے چیئرمین محمد ادریس میمن‘ ابراہیم کا سمبی‘ آغا شہاب احمد‘ انجم نثار‘ عبداللہ ذکی ‘ اے کیو خلیل‘ شمیم فرپو‘ تنویر باری ‘ انڈونیشیا کے قونصل جنرل ہادی سانتو سو اوردیگرملکی وغیرملکی مندوبین بھی موجود تھے۔
نمائش کی افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ کراچی چیمبر کے تحت مائی کراچی نمائش کراچی‘ سندھ اور ملک کیلئے انتہائی اہم ہے۔ تجارتی وصنعتی سرگرمیوں سے ہمیں جرائم پر کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی یہ نمائش نہ صرف کاروبار کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے بلکہ اس نمائش کی مدد سے ملکی ثقافت کو اجاگر کرنے اور عالمی سطح پر ملک کا امیج بہتر بنانے میں مدد ملے گی‘ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی چیمبر ملکی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کررہا ہے‘ کراچی کی تیزی سے پھیلنے والی آبادی کے باعث ہمیں انفرااسٹرکچر ‘فراہمی ونکاسی آب‘ صحت وصفائی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے لیکن حکومت سندھ تاجروں اور صنعتکاروں کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
انفرااسٹرکچر کی بحالی کیلئے میگاپروجیکٹ تشکیل دیئے جارہے ہیں اور قلت آب کا مسئلہ حل کرنے کیلئے وفاقی حکومت کے تعاون سے فور پروجیکٹ شروع کردیا گیا ہے جس کے 50فیصد اخراجات حکومت سندھ اور نصف وفاقی حکومت دے گی۔ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ملکی آئین کی شق نمبر158 کے تحت صوبوں کے وسائل پر پہلا حق صوبوں کا ہوتا ہے لیکن سندھ میں 70فیصد گیس پیدا ہونے کے باوجود صوبے کے عوام کو30فیصد گیس میسر ہے۔
سندھ سے پیدا ہونے والی قدرتی گیس دیگر صوبوں میں تقسیم کی جارہی ہے اوروفاق کی جانب سے مہنگے داموں ایل این جی سندھ کے عوام کو دینے کا منصوبہ بنایاجارہا ہے جس پر حکومت سندھ نے متعدد بار وفاق سے احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے پیدا ہونے والی گیس صوبے کے عوام کیلئے کافی ہے‘ ایل این جی کی جہاں ضرورت ہو وہاں استعمال کی جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ گیس کے مسئلہ پر وفاق نے ناانصافی کی تو ہم مفادات کونسل سے رجوع کریں گے۔
نمائش کے افتتاح کے موقع پر انڈونیشیا کے قونصل جنرل ہادی سانتو سو نے اعلان کیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین باہمی تجارت 2.2ارب ڈالر کو بڑھا کر 2.5ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔چیئرمین ٹی ڈیپ ایس ایم منیر نے قلت آب پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اپنی ہی فیکٹری کا چوری شدہ پانی یومیہ 60ہزار روپے میں خریدنے پر مجبور ہوں‘ پانی کا بحران ملکی برآمدات کوبری طرح متاثر کررہا ہے۔
مائی کراچی نمائش مقامی مصنوعات کی زبردست تشہیر کے ساتھ 12اپریل 2015کو اختتام پذیرہوگئی۔ نمائش کی اختتامی تقریب میں انڈونیشیا کے قونصل جنرل ہادی سانتو سو‘ سوئٹزرلینڈ کے قونصل جنرل روجرکل اور مقامی تاجر وصنعتکار رہنما کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی نے مائی کراچی نمائش کے ذریعے کراچی کا مثبت امیج اجاگر کرنے پر کے سی سی آئی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آئندہ سال 8تا10اپریل 2016کو ایکسپو سینٹر میں مائی کراچی نمائش کے انعقاد کا اعلان کیا۔
سراج قاسم تیلی نے کہا کہ قومی خزانے میں 68فیصد سے زائد ریونیو دینے والے شہر کراچی میں امن وامان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے‘ گیس کے مسئلہ پر وفاق سندھ سے ناانصافی بند کرے۔ 70فیصد گیس پیدا کرنے والے صوبے کو اس کا حق دیاجائے۔
وقت اشاعت : 2015-04-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں