بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
منی بجٹ کا اعلان، عوام پر چالیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑیگا
وفاقی حکومت نے منی بجٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ عوام پر چالیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑیگا۔ اس ضمن میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 351 درآمدی اشیاء پر نئی ریگولیٹری ڈیوٹیاں لگانے اور پہلے سے موجود ڈیوٹی بڑھانے کی منظوری دیدی ہے۔

وفاقی حکومت نے منی بجٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ عوام پر چالیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑیگا۔ اس ضمن میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 351 درآمدی اشیاء پر نئی ریگولیٹری ڈیوٹیاں لگانے اور پہلے سے موجود ڈیوٹی بڑھانے کی منظوری دیدی ہے۔ 61 درآمدی اشیاء ایسی ہیں جن پر پہلے ریگولیٹری ڈیوٹی نہیں تھی ان اشیاء پر پانچ فیصد ڈیوٹی لگا دی گئی ہے جبکہ 289 ایسی اشیاء جن پر پہلے سے موجود ریگولیٹری ڈیوٹی میں پانچ فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی ڈیوٹیاں لگانے اور ڈیوٹیاں بڑھانے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کا فوری اطلاق ہوگا۔ حکومت کے اس فیصلہ کے بعد ملک بھر میں سگریٹ ، الیکٹرانک اشیاء ، پرانی درآمدی گاڑیاں ، کاسمیٹکس اشیاء ، چاکلیٹ جام اینڈ جیلی ، دہی اور درآمدی مکھن مہنگے ہو جائینگے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت پیر کو یہاں ای سی سی کا اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس خسارہ چالیس ارب روپے تھا جسے پورا کرنے کیلئے نئے ٹیکس اقدامات کئے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 351 درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھائی گئی ہے۔ درآمدکردہ جن 61 اشیاء پر پانچ فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ ان میں زندہ مرغی،فروزن مچھلی ،کوکونٹس، بادام پائن ایپلز ، سٹرس فروٹس ایپری کاٹ جام اینڈ جیلی ،واٹر پروف فٹ ویئر ، ویڈیو گیم ، ڈائپرز سینٹری ٹاولز اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔
289 اشیاء پر پانچ فیصد ڈیوٹی بڑھائی گئی ہے۔ ان میں درآمدہ دہی ، مکھن ، چیز ، میگو پلپ ، کنوں (فریش) ، وائٹ چاکلیٹ ،درآمدی انڈے ،پاستا ، کارن فلیکس ، ٹومیٹو کیچ اپ ، آئس کریم ، نیل پالش ، ڈاگ اینڈ کیٹ فوڈ ، ٹانکس ، فیس پاوڈر ،ٹیلکم پاوڈر ڈائیز فار ہیئرز ، شیمپو ، ٹوتھ پیسٹ ،کاسمیٹکس اشیاء ، الیکٹرک ایون ، توسٹرز ، الیکٹرک لیمپس اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ٹیکس خسارہ پورا کرنے کیلئے ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی بھی بڑھا نے کا فیصلہ کیا ہے۔ مصنوعی لیدر اشیاء ، زرعی اشیاء ، پلانٹ مشینری ، شوگر ملز ، خام مال کی جزئیات اور 25 شعبوں کو اضافی ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ ٹیلیکام سیکٹر پر کسٹمز ڈیوٹی لاگو نہیں ہوگی 1300 سی سی سے 1800 سی سی کی پرانی درآمدہ گاڑیوں پر ڈیوٹی میں دس فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔
1300 سی سی گاڑی پر ڈیوٹی 1320 ڈالر ، 1600 سی سی تک 22550 ڈالر جبکہ 1800 سی سی کی گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھا کر 27409 ڈالر کر دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ سگریٹس پر فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ لوئیر کیٹگری کے سگریٹس پر 100 روپے جبکہ ہائیر کیٹگری کے سگریٹس پر 125 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سگریٹس پر ڈیوٹی بڑھانے سے پہلے ہی مارکیٹ میں دس روپے فی ڈبی سگریٹ مہنگا فروخت ہو رہا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جن ممالک کے ساتھ حکومت پاکستان کے آزاد تجارت اور ترجیحی تجارت کے معاہدے ہیں۔ ان ممالک سے آنیوالی اشیاء پر اضافی ڈیوٹی کا نفاذ ہوگا 430 ارب روپے سرمایہ بیرون ملک جانے کے سوال پر وزیر خزانہ نے بتایا ہے کہ پاکستان معلومات کے تبادلے کیلئے گلوبل فورم کا رکن بن گیا ہے اور جون 2015 ء میں پہلا ریونیو کلیئر ہو گیا ہے۔
سوئس حکومت کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرینگے۔ لندن کے ساتھ بھی معلومات کا تبادلہ کیا جائیگا۔ جب تک حکومت کے پاس بیرون ملک بھجوائے جانیوالے اربوں روپے کی ٹھوس اطلاعات نہیں ہونگی اس پر کارروائی نہیں کو سکتے۔ ابھی تک یہ اطلاعات محض اخباری خبروں تک ہے انہوں نے بتایا کہ ای سی سی نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں 31 دسمبر تک کی توسیع کی منظوری دیدی ہے جبکہ بنکوں کے ساتھ لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.3 فیصد برقرار رکھنے کی مدت بھی 31 دسمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ ای سی سی نے درآمدہ مکئی پر 30 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے جبکہ سال 2015.16 ء کیلئے گندم کی امدادی قیمت 1300 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے۔

تاریخ اشاعت: 2015-12-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان