تازہ ترین : 1
Mehengai Se Nijat

مہنگائی سے نجات

یہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔۔۔۔۔۔بدترین مہنگائی میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان تو خیر کیوں بولیں گے، اپوزیشن بھی اس شدت اور شدو مد سے نہیں بولتی

فرید پراچہ:
چلئے ایک دروازہ تو ایسا ہے جو دستک دینے پر عوام کیلئے کھلتا اور ان کی مقدور بھرداد رسی کرتا ہے اور وہ ہے عدلیہ کا دروازہ۔بدترین مہنگائی میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان تو خیر کیوں بولیں گے، اپوزیشن بھی اس شدت اور شدو مد سے نہیں بولتی کہ جس کی عوام اس سے توقع رکھتے ہیں۔ میڈیا اگرچہ کبھی کبھار مہنگائی کو بھی عنوان بناتا ہے لیکن اکثر بیشتر اس کے بھی موضوعات دوسرے ہوتے ہیں۔
ادھر غریب آدمی کو مہنگائی کی کند چھری سے مسلسل ذبح کیا جارہا ہے او وہ زنندہ درگور ہورہا ہے۔ غریب غریب تر بن چکا ہے بلکہ اب تو نان شبینہ سے بھی محروم طبقات کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔ غربت کی وجہ سے خود کشیاں، بچوں کو خود ذبح کرنا، نہروں میں کنبے سمیت چھالنگ لگانا، اپنے بچوں کو فروخت کرنا وغیرہ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔
گزشتہ دنوں عدالت عظمیٰ نے بالآخر عوام کے ان سلگتے ہوئے مسئلے کا نوٹس لے لیا ۔
جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے آٹے کی مہنگائی اور نایابی پر ایک خط کے ذریعہ عدالت کو توجہ دلائی تو عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے تمام صوبائی چیف سیکرٹریز سے رپورٹ طلب کرلی۔
20روپے من آٹا ہونے پر ایوبی آمریت کے خلاف تحریک چلانے والی قوم اب 55روپے کلو آٹا خریدنے پر مجبور ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ باسمتی چاول 140روپے کلو، خوردنی تیل 200روپے لیٹر، دالیں 120سے 150روپے کلو، دودھ 70سے 80روپے لیٹر اور کوئی بھ سبزی 70روے سے 120روپے کلو تک فروخت ہورہی ہے۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر ہم نے کیا جرم کیا ہے؟ کیا ہمارے ووٹوں کی یہی سزا ہے کہ ہم سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جارہا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بجا طور پر حکومت سے سوال کیا ہے کہ وہ چار افراد پر مشتمل کنبہ کہ جس کی آمدن 7سے 9ہزار روپے ماہانہ ہے، اس کا بجٹ بنا کر پیش کرے۔ مہنگائی کی اس بڑھتی ہوئی لہر کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈالنا یا اسے ایک عالمی مجبوری قرار دینا کسی صورت بھی قرین انصاف نہیں اس لیے کہ موجودہ مہنگائی کے اسباب بالکل واضح اور اظہر من الشمس ہیں، ان میں سے چند حسب ذیل ہیں۔

جی ایس ٹی میں اضافہ:
موجودہ حکومت نے آتے ہی جی ٹی ایس ٹی کی شرح میں کم از کم ایک فیصد اضافہ کردیا۔ ایک فیصد اضافے سے قیمتوں میں 12فیصد اضافہ ناگزیر ہے چنانچہ قیمتوں میں یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ اسی طرح متعدد اشیاء کہ جن پر پہلے جی ایس ٹی نافذ نہیں تھا، ان پر جی ایس ٹی کا نفاذ کیا گیا اور کئی اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح تبدیل کی گئی۔

آئی ایم ایف سے قرضہ:
کشکول گدائی توڑنے کی دعویدار حکومت نے بڑی کوششوں اور منت ترلوں کے بعد آئی ایم ایف سے 6.7ارب ڈالر کا قرضہ آئی ایم ایف کی بدترین شرائش پر حاصل کیا۔ ایسی شرائط ماضی میں کسی حکومت نے کبھی قبول نہیں کیں۔ ان شرائط میں بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کی قیمت کے تعین میں سٹیٹ بینک کی مداخلت کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں۔
یہ قرضہ بھی معیشت میں کسی استحکام کا ذریعہ قطعاََ نہیں بن سکتا کہ یہ بنیادی طور پر سابقہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے لیا گیا ہے۔
قرضوں کی معیشت:
قرضوں پر انحصار فرد کرے یا ریاست، وہ ہمیشہ اس کی گردن کا ایک طوق ثابت ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح اپنی حکومت کا مدار قرضوں پر رکھا ہوا ہے۔
اس وقت حکومت پاکستان پر کل قرضہ 17356 ارب روپے کا ہے جس کے مطابق ہر پاکستانی شہری ایک لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ یہ قرضے ہمارے جی ڈی پی کے 62.7فیصد کی خطرناک شرح تک پہنچ چکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی 3ماہ میں 1128ارب روپے کے قرضے لئے ہیں۔ قرضوں کی وجہ سے افراط زرپیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار:
دنیا بھر میں امیروں سے ٹیکس لے کر غریبو پر خرچ کیے جاتے ہیں یہاں غریبوں سے ٹیک لے کر امیروں کو پالا جاتا ہے۔
ٹیکسوں کی شرح کا فارمولا یہ ہوتا ہے یا ہونا چاہئے کہ 70فیصد براہ راست اور 30فیصد بالواسطہ ٹیکس ہوں۔ ہمارے ہاں 70فیصد بالواسطہ اور 30فیصد براہ راست ٹیکس ہیں۔ بالواسطہ ٹیکس غریب عوام ادا کرتے ہیں۔ بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل، سی این جی، ایل پی جی، حتیٰ کہ موبائل فون وغیرہ پر غریب عوام ٹیکس ادا کررہے ہیں اور جن کے اربوں روپے کے اثاثے اور وسیع کاروبار ہیں وہ چند ہزار روپے ٹیکس ادا کر کے صاف بچ جاتے ہیں۔
زرعی آمدن پر ٹیکس کی چھوٹ سے ملک و قوم کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ جاگیر درانہ سیاسیت کا بڑا سہارا یہی کالا دھن اور ٹیکسوں کی وجہ سے غریب کیلئے جان اور عزت بچانی بھی مشکل ہوگئی ہے۔
پرائس کنٹرول سے بے اعتنائی:
فری مارکیٹ اکانومی کے اصول کے تحت قیمتوں ، ذخیرہ اندوزی، سٹہ بازی وغیرہ پر کنٹرول کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں۔
کھیت سے صارف کے درمیان 10منافع خور موجود ہوتے ہیں۔ کاشتکار کو بھی محنت کا صلہ نہیں ملتا اور صارفین کی جیبوں پر بھی روزانہ ڈاکے پڑتے ہیں۔ حکومتیں نہ صر فیہ کہ اس منظم ڈاکے سے غافل ہیں، بلکہ وہ اس میں حصہ دار ہیں۔ چند سیاسی خاندانوں کی ملیں ہیں اور وہ اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود عوام کے خلاف اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ اتوار بازاروں پر مقامی ایم این اے، ایم پی اے اور پارٹی عہدوہ داروں کا قبضہ ہے۔ چونکہ یہاں سے منظم بھتہ ملتا ہے اس لئے عوام کو یہاں بھی ریلیف نہیں ملتا۔
وقت اشاعت : 2014-06-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں