بند کریں
جمعہ مارچ

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسلامی بینکاری نظام
خوشحال پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔۔۔۔ اس وقت دنیا میں اسلامی بنکاری نظام کو تیزی سے مقبولیت ملتی جا رہی ہے اس نظم میں سود اور اس جیسی خرافات کا کوئی بھی عمل دخل نہیں ہے۔ اسی لیے اس نظام کو بلا سود یا اسلامی بنکاری نظام کہا جاتا ہے
ایم ذیشان اشرف:
اسلامی بینکنگ اور روایتی بینکنگ کے طریقہ کار میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلامی بینکنگ سود لینے اور دینے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔اور یہ نفع و نقصان کے بنیادی اصولوں پر کام کرتا ہے ۔ اسلامی بینک اپنے فنانسر سے سود سے پاک قرض لیتا ہے اور نفع و نقصان کی بنیاد پر شراکت داری اور قرض مہیا کرتا ہے۔ اسلامی بینکاری نظام کے تحت قرض حاصل کرنے کے حواہشمند افراد کو منافع اور نقصان کی بنیاد پر فنڈز مہیا کیے جاتے ہیں۔

اسلام میں سود کی مخالفت اس لئے کی جاتی ہے کہ اس سے معاشرے میں ترقی کا عمل رک جاتا ہے ۔ سود خور معاشرہ معاشی عدم توازن کا شکا ر ہو جاتا ہے جس کے باعث دولت کی نامنصفانہ تقسیم کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ سودی نظام میں لوگ پیسہ کاروبار میں لگانے کی بجائے بنکوں کودے کر ان سے سود حاصل کرتے ہیں۔
جبکہ بنک دو سرمایہ آگے شہریوں کو دیکر ان سے سوس حاصل کرتے ہیں۔ اسلام میں تجارت کی حوصلہ افزائی اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ کارخانہ اور مل لگانے سے یا کوئی بھی اور کام کرنے سے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
2013 کے وسط میں جب ن لیگ برسر اقتدار آئی تو اسلامک بینکنگ کا بینکنگ سیکٹر مین حصہ 9% فیصد تھا جو حکومت کی دلچسپی اور اچھی پالیسیوں کی وجہ سے تیزی سے بڑھ کر 12% فیصد ہو چکا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلامی بینکنگ سیکٹر کو گلوبل اسلامک فنانس ایوارڈ (GIFA) سے نوازا گیا ہے۔ پاکستان میں الفلاح بینک لیمٹیڈ دو بار گوبل اسلامک فنانس ایوارڈ جیت چکا ہے۔ بینک الفلاح کے ہیڈ رضوان عطاء کے مطابق پاکستان میں دوسرے بنک بھی اسلامک بینکنگ میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ میزان بینک بھی اسلامک بینکنگ کو پرموٹ کررہا ہے ”پاکستان کے تین بینکوں نے گیفا ایوارڈ حاصل کیا جمیں البرقابنک پاکستان لیمیٹڈ بھی شامل ہے۔
اس سال بینکنگ سیکٹر میں اسلامک بینکنگ تیسرے نمبر پر رہی۔
اس وقت دنیا میں اسلامی بنکاری نظام کو تیزی سے مقبولیت ملتی جا رہی ہے اس نظم میں سود اور اس جیسی خرافات کا کوئی بھی عمل دخل نہیں ہے۔ اسی لیے اس نظام کو بلا سود یا اسلامی بنکاری نظام کہا جاتا ہے ۔ستر کی دہائی میں شروع ہونے والا یہ نظام مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے اس کی مقبولیت کایہ عالم ہے کہ اسے نہ صرف مسلم ممالک اختیار کر رہے ہیں بلکہ اب یہ غیر مسلم ممالک میں بھی اسلامی بینکاری اداروں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔
اور اس کے حوالے سے ضروری قوانین وضع کیے جا رہے ہیں۔ ملائیشیا اور دبئی کے بعد برطانیہ اور سعودی عرب میں بھی اس بینکاری نظام کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔
اگر پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس بینکاری نظام پر خصوصی توجہ دیں تو اس نظام کو پاکستان میں بے حد مقبولیت حاصل ہو سکتی ہے او ر وہ بھی گلوبل لیڈر شپ اسلامک فنانس ایوارڈ حاصل کر سکتے ہیں جو اس سال نائیجریا کے وزیراعظم نے حاصل کیا۔
پچھلے سال کا گلوبل لیڈر شپ اسلامک فنانس ایوارڈ قازقستان کے صدر نور سلطان نذر بائیوف نے حاصل کیا تھا۔ انہوں نے بھی اپنی بہتر معاشی پالیسیوں اور لگن کی وجہ سے اسلامک بینکاری نظام کو اپنے معاشرے میں اسلامی بینکاری نظام کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں یہ ایک منفرد اور ممتاز بینکاری نظام ہے جس سے ہم سودی نظام سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں اور ہمارا ملک بھی اسلامک بینکاری نظام کے ذریعہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان