تازہ ترین : 1
Dollar Ki Qeemat Main Naqabal e Fehem Izafa

ڈالر کی قیمت میں ناقابل فہم اضافہ

سال بھر کے مختلف ا وقات میں سہ ماہی یا ششماہی دورانئے کے بعد روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کو بڑھادیا جاتا ہے اور سٹے بازی کو بھرپور انداز میں فروغ دیا جاتا ہے

احمد جمال نظامی:
روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہونا کوئی نئی بات نہیں رہی اور نہ ہی حکومت، متعلقہ ذمہ داران کو اس بارے میں اب کوئی فکر رہی ہے۔ سال بھر کے مختلف ا وقات میں سہ ماہی یا ششماہی دورانئے کے بعد روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کو بڑھادیا جاتا ہے اور سٹے بازی کو بھرپور انداز میں فروغ دیا جاتا ہے۔ جس پر تمام تر آہ و فغاں اور واویلے کے بعد حکمران اور وزیرخزانہ محض اتنا کہہ دینے پر اکتفا کر لیتے ہیں کہ سٹے بازوں اور ڈالر کو ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکومت کی مانیٹری پالیسی کو کنٹرول کرنے کے ذمہ دار ادارے قبل ازوقت یا بادی النظر میں ڈالر اور روپے کی قیمتوں میں عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں اور عناصر کے خلاف کارروائی کیوں عمل میں نہیں لاتے۔ کیا ایسا تو نہیں کہ ماضی کی طرح آج بھی کچھ ذمہ دار یا بااثر حلقے روپے اور ڈالر کی قدر سے کھیل کر خود سٹے بازی میں مصروف تو نہیں؟ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں صرف ایک روپیہ اضافہ ہو جائے تو ہماری معیشت ہر انداز اور زاویے سے منتشر ہو کر رہ جاتی ہے جس کا اندازہ اس مرتبہ بھی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ادھر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت عدم استحکام کا شکار ہوئی اور دوسری طرف ایسی رپورٹس سامنے آنے لگ گئیں کہ شعبہ ٹیکسٹائل بری طرح سے بحران میں دھنس گیا ہے اور اس کا مستقبل داوٴ پر لگا پڑا ہے۔
وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر گو حکومت آئندہ تین سالوں میں برآمدات کو 24ارب ڈالر سے 35ارب ڈالر تک پہنچانے کے لئے نئی برآمدی پالیسی تیار کر رہی ہے اور یہ بھی عندیے دیئے جا رہے ہیں کہ اس پالیسی میں برآمد کنندگان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہوئے انہیں ضروری نوعیت کی مراعات بھی فراہم کی جائیں گی۔ لیکن ڈالر کی قیمت میں روپے کے مقابلے میں اضافے سے خود حکومتی پالیسی جو تیار کی جا رہی ہے اس کے اعداد وشمار کیسے مطابقت رکھیں گے۔
نئی پالیسی کیلئے پانچ وفاقی وزراء پر مشتمل جو کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اس ضمن میں اسے حکومت کی ساکھ کا خیال رکھنا ہو گا۔ اس سے قبل جب 2013ء میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا تھا اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اسے سٹے بازوں کی کارستانی قرار دے دیا تھا،روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں استحکام لانے کے بعد انہوں نے یہ نوید بھی سنائی تھی کہ 90ء کی دہائی میں ڈالر کے جو نرخ تھے اس پر ڈالر کی قیمت کو واپس لایا جائے گا۔

اس مرتبہ ڈالر کی قیمت میں ہونے والااضافہ سمجھ سے بالاتر ہی نہیں افسوسناک بھی ہے۔ دسمبر 2013ء میں روپے کی قدر گرنے سے ایگری فورم پاکستان کے مطابق وطن عزیز کو 770ارب روپے کا نقصان ہوا تھا جس کو پورا کرنے کے لئے 600ارب روپے کے نوٹ چھاپے گئے تھے۔ جس سے افراط زر بڑھا اور روپے کی قدر میں مزید کمی ہونے سے مزید نقصانات ہوئے تھے۔ مہنگائی بھی 15 سے 20فیصد بڑھ گئی تھی۔
میکرو لیول پر پیداوار 20 سے 30فیصد بڑھانے سے آج بھی مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بیروزگاری اور خوراک کی کمی کے مسائل کا حل ہو سکتا ہے مگر ڈالر کی قیمت میں ایک دم اضافے نے مسائل کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں 2013ء میں اضافہ ہونے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں 10.9فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں حد سے زیادہ کمی آ گئی تھی اور ایک موقع پر زرمبادلہ کے ذخائر 12سال کی کم ترین سطح پر آ گئے تھے اور حکومت کے پاس ایک ماہ کی درآمد کے لئے بھی زرمبادلہ کے ذخائر ناکافی ہو گئے تھے۔
اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت ایک ماہ کی درآمد کے لئے بھی ناکافی تھی۔ یہ ذخائر تین ہفتے کے درآمدی بل کے برابر رہ جانے سے توازن ادائیگی کے لئے خطرہ بن چکے تھے۔ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 6دسمبر 2013ء کو 2.9ارب ڈالر کی سطح پر آ گئی تھی۔ 29نومبر سے 6دسمبر 2013ء یعنی ایک ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 8کروڑ 35لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی تھی۔
2013ء کے مالی سال کے دوران بھی جولائی سے دسمبر تک زرمبادلہ کے ذخائر 2.9ارب ڈالر تک کم ہوئے تھے۔ ماہرین کا اس وقت خیال تھا کہ آئی ایم ایف کو 1.9ارب ڈالر کی ادائیگیوں سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سخت دباوٴ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دسمبر 2013ء میں سٹیٹ بینک کے مطابق 6دسمبر 2013ء کو زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 8ارب 6کروڑ 4لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔
یہ وہ دورانیہ تھا جب سٹیٹ بینک کے ذخائر 2ارب 96کروڑ 31لاکھ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5ارب 9کروڑ 73لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے تھے۔ جس کے بعد حکومت نے مرحلہ وار اقدامات کرتے ہوئے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو بڑھانا شروع کیا اور آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض کی دوسری قسط موصول ہونے کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح 8ارب 92کروڑ 14لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
2جنوری 2014ء تک سٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں 43کروڑ 12لاکھ ڈالر کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر کی سطح 46کروڑ 44لاکھ ڈالر اضافے کے بعد 3ارب 19کروڑ 29لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 3ارب 65کروڑ 73لاکھ ڈالر ہو گئی تھی جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 3کروڑ 32لاکھ ڈالر کمی کے بعد 4ارب 89کروڑ 73لاکھ ڈالر کی سطح سے گر کر 4ارب 86کروڑ 41لاکھ ڈالر کی سطح پر ریکارڈ کئے گئے تھے۔
حکومت کو اس وقت آئی ایم ایف کی جانب سے دوسری قسط کی مد میں 55 کروڑ ڈالر سے زائد رقم موصول ہوئی تھی تاہم حکومت نے اسی عرصے میں 16کروڑ 90لاکھ ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کئے تھے جن میں 14کروڑ 70لاکھ ڈالر کی آئی ایم ایف کو ادا کی جانے والی ہنگامی اقدامات کے تحت قرضوں کی 25ویں قسط کی ادئیگی بھی شامل تھی۔ آئی ایم ایف کو قرض کی اس طرح ادائیگی سے بھی ہماری معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
یہی نہیں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی افراط زر میں اضافہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے جیسے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں غیرمستحکم اضافے پر حکومت کو فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت تھی اور ضرورت ہے اور اس ضمن میں حکومت کو 2013ء کے مالی سال سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے مگر حکومت کی طرف سے کوئی بھی موثر اور ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے جس کی وجہ سے برآمدات اور درآمدات دونوں طرح کی تجارت میں کیش فلو کے ان بیلنس جیسے مسائل سرفہرست ہیں جبکہ توانائی بحران رہی سہی کسر نکال رہا ہے۔
وزیراعظم نوازشریف کو چاہیے کہ وہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو اس ضمن میں فوری طور پر متحرک کریں۔ و ہ لوگ جو حکومت کی جگ ہنسائی اور پورے ملک میں معاشی و اقتصادی بحرانوں اور عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں، ڈالر پر سٹے بازی کرنے والے اس گروہ کو کم از کم اس بار بے نقاب کرتے ہوئے قانون کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔
وقت اشاعت : 2015-09-02

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • prince abdullah Says : 03/09/2015 - 16:42:35

    Dollar ka rate kam hona par hi pakistan taraqi kar sakta ha

    Reply to this comment

اپنی رائے کا اظہار کریں