بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چاول کی فاضل پیداوار
حکومت کی عدم توجہی کا شکار۔۔۔ یہ ایسا زرعی مسئلہ ہے جس سے صرف 70فیصد زرعی آبادی کے کسان مزدورہی بری طرح متاثر نہیں بلکہ رائس ڈیلرز اور برآمد کنندگان کا تمام تر سرمایہ منجمد ہونے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی مکمل جمود کا شکار ہیں

امان اللہ چٹھہ:
چاول کا بحران پچھلے دو سال سے جاری ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دھان کی کاشت کا سیزن شروع ہو جانے کے باوجود کاشتکاروں میں جوش و خروش تو درکنار کاشت کیلئے ہمت اور حوصلہ ہی نظر نہیں آرہا۔ ماضی قریب کے تلخ تجربہ کے باعث ان کو اپنے معاشی مستقبل کیلئے دور دور تک روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ وہ فصل جو نہ صرف ملک کے وسیع علاقہ کی زرعی معیشت کی بنیاد ہے بلکہ ملک کو کم و بیش 3ارب ڈالر سالانہ غیر ملکی زرمبادلہ بھی مہیا کرتی ہے سخت انحطاط کا شکارہے حال ہی میں کسانوں کی طرف سے تمام ضلعی صدر مقامات پر جو احتجاجی مظاہرے ہوئے ان میں بعض دوسرے اہم مسائل کے ساتھ دھان اور چاول کی امدادی قیمت کی ضمانت دینے کا مطالبہ سر فہرست تھا۔

یہ ایسا زرعی مسئلہ ہے جس سے صرف 70فیصد زرعی آبادی کے کسان مزدورہی بری طرح متاثر نہیں بلکہ رائس ڈیلرز اور برآمد کنندگان کا تمام تر سرمایہ منجمد ہونے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی مکمل جمود کا شکار ہیں۔ اس معاشی المیہ کا انتہائی تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ارباب حل و عقد کی طرف سے اس مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز کی معیشت بوجوہ بھاری قرضوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے حالیہ بجٹ میں سب سے زیادہ رقم 12کھرب روپے سے زائد صرف بیرونی قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی کیلئے مختص کی گئی ہے مگر اپنے گھر میں قریباً 6ارب ڈالر کا برآمدی مال پڑا ہوا ہے۔
تاجروں کا بھاری سرمایہ منجمد ہے کسان مالی بد حالی و بے چینی کا شکار ہیں مگر جن حضرات کے ہاتھ میں مسئلہ کے حل کی شاہ کلید ہے وہ دانستہ یا نادانستہ طور پربے نیازی بلکہ بے حسی کا مظاہرہ کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ خزانہ، تجارت فوڈ سیکورٹی اور امور خارجہ کی وفاقی وزارتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مربوط کوششوں سے ہر قیمت پر ملکی چاول عالمی منڈی میں فروخت کرنے کا انتظام کریں۔
18ویں ترمیم کے بعد خوراک و زراعت کی صوبائی وزارتوں کو بھی اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ اس ضمن میں قطعاً کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔
زراعت نظر انداز۔۔۔۔۔ حکومتی اعلان سے انحراف
پچھلے سیزن میں سپر باسمتی دھان کا نرخ گزشتہ سے پیوستہ سال کے 2400روپے من کے مقابلہ میں 1400روپے تک گر گیا تو کسانوں کے زبردست احتجاجی مظاہروں سے ایوان اقتدار کی فضا میں کچھ ارتعاش پیدا ہوا۔
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے خود اعلان کیا کہ کسانوں کو دھان پر 1000روپے من کا جو نقصان بردا شت کرنا پڑا ہے اس کے ازالہ کیلئے حکومت 5000روپے فی ایکڑ کی سب سڈی دے گی۔ یاد رہے اوسط پیدوار فی ایکڑ 25من کے حساب سے بھی اصل نقصان 25000روپے فی ایکڑ تھا۔تا ہم اس اعلان پر وزیر خزانہ محمد اسحق اور وزیر فوڈ سیکورٹی سکندر حیات بوسن پر مشتمل وزارتی کمیٹی نے مالی اعانت کیلئے ضروری رقم مختص کرنے کی نوید بھی سنائی لیکن اب اگلی فصل کی کاشت کاا?غاز ہو رہا ہے لیکن اس سمت میں عملاً ایک قدم بھی نہیں بڑھایا گیا جس سے موجودہ حکمرانوں کے بارے میں پائے جانے والے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ یہ اپنے دور حکمرانی میں زراعت کو بری طرح نظر انداز کرتے ہیں۔
یہاں تو زراعت ہی نہیں ملکی سطح پر دوسرے نمبر کی اہم ترین برآمدی جنس کی تجارت اور اس سے منسلک تاجروں کو بھی معاشی تباہ حالی سے دوچار کرنے کی نوبت بھی آچکی ہے جو یقینا اعلیٰ حکام کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
کاشت اور مارکیٹنگ کا مخمصہ
اب کاشتکاروں کہ یہ فکر دامن گیر ہے کہ دھان کی پچھلی فصل پر ہونے والے بھاری خسارہ اور غیر معمولی بارشوں، ڑالہ باری سے گندم کی ناقص پیداوار کی وجہ سے وہ دھان کے اخراجات کاشت کیسے پورے کر پائیں گے۔
اس سے بڑھ کر یہ پریشانی لاحق ہے کہ جیسے تیسے فصل کاشت کر لی جاتی ہے تو اس کا کوئی خریدار بھی ہوگا یا نہیں؟یا جو لوگ ڈیلر یا ایکسپورٹر یہ کاروبار کرتے ہیں ان کا سرمایہ پچھلے دوسال سے پھنسا ہوا ہے۔ ان کے پاس مزید خریداری کی کتنی سکت ہوگی؟ اور اگر وہ مارکیٹ میں کوئی سرگرمی نہیں دکھاتے تو کسان کا کون پرسانِ حال ہوگا؟ ایسی صورت میں دیوالیہ ہونے کا خطرہ کسانوں کے سر پر منڈلارہا ہے۔
جس کے معاشی انتظامی اور سماجی نتائج بہت خوفناک ہو سکتے ہیں۔ معاشی زبوں حالی سے متاثرہ لوگ خودکشی یا کوئی اور انتہائی اقدامات کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ خدانخواستہ بحران کا حل کیسے؟
یہ ایک پیش پا افتادہ حقیقت ہے جس کا کما حقہ آدراک کرنے کیلئے کسی راکٹ سائنس جیسی مہارت کی ضرورت نہیں۔ یہ ارباب بست و کشاد کی ذمہ داری ہے اور وہ احساس اور عزم کر لیں تو اس مسئلہ سے بخوبی عہدہ برآبھی ہوسکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت 5000روپے فی ایکڑ اعانت کا اپنا وعدہ ایفا کرے اور اس کے ساتھ ہی دو سال سے رکے ہوئے چاول کے سٹاک کی برا?مد کے بنیادی مسئلہ کو حل کرنے کیلئے تمامتر مساعی بروئے کار لانے کا تہیہ کرلے۔ ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (TDAP)ٹریڈنگ کارپوریشن (TCP)اور وزارت تجارت جیسے اداروں کو پوری طرح متحرک کرنے کے ساتھ سفارت خانوں اور ان میں تعینات کمرشل اتاشیوں کویہ ٹاسک دیا جائے کہ وہ مشرقی وسطیٰ، مشرق بعید ،یورپ، امریکہ کے روایتی خریداروں سے سودے کرنے کے علاوہ نئی منڈیاں بھی تلاش کریں۔
روڈ شوز، فوڈ فیسٹیول (Food Festival)منعقد کریں اور عالمی نرخوں میں تفاوت کی صورت میں کچھ مالی اعانت مہیا کرکے موجودہ فصل کی برداشت سے پہلے سارے چاول کی بر آمد کو یقینی بنائیں۔ دوسری طرف کاشت میں دلچسپی کی خاطر کسانوں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پاسکو اور ٹریڈنگ کارپویشن جیسے زرعی اجناس کی قیمتوں میں استحکام کے ضامن بھاری بھر کم اداروں کوبھی فعال کیا جائے۔
دھان اور چاول کی مناسب امدادی قیمت مقرر کر کے اس پر خریداری کو یقینی بنانے کیلئے ان اداروں کو ضروری وسائل مہیا کرنے کا انتظام کیا جائے۔اس طرح نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر اور ملکی معیشت کے استحکام میں مدد ملے گی بلکہ عوامی سطح پر زراعت و تجارت سے وابستہ لوگوں ،ڈیلروں اور برآمدی تاجروں کیلئے بہتر موقع پیدا ہوں گے اور مقامی منڈی میں خریدوفروخت کی سرگرمیاں بحال ہو سکیں گی۔

کسان دوست بجٹ کی ضرورت
چاول جیسی اہم بر آمدی جنس کو بحران سے مستقل طور پر بچانے کیلئے زرعی پالیسی میں یہ بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ اس کی کاشت کے اخراجات (Cost of Production)کو دوسرے ممالک کی سطح پر لایا جائے جس کے بغیر عالمی منڈی میں مسابقت میں سخت مشکلات پیش آتی ہے۔ہمارے اکنامک منیجرزاس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوں گے کہ جہاں یوروپی ممالک اپنے کاشتکاروں کو اربوں ڈالر کی سب سڈی دے رہے ہیں وہاں بھارت جیسے ایشیائی ممالک بھی برائے نام قیمت پر بجلی اور سستی کھاد بیج ادویہ مہیا کرکے اپنی زرعی برآمدات کو جمود سے بچاتے ہیں۔
چنانچہ ناگزیر ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بجٹ میں زراعت پر موجودہ ناروا ٹیکس و گرانی کا بوجھ ختم کرنے کیلئے خصوصی اہتمام کریں زرعی ٹیوب ویلوں پر پچھلے تیس چالیس سال سے جاری فلیٹ ریٹ بحال کیا جائے کھاد بیج ادویہ اور زرعی مشینری پر عائد بھاری جنرل سیلز ٹیکس ختم کیا جائے اور فصلوں کے منصفانہ معاوضوں کا مستقل نظام قائم کیا جائے۔ جس سے ملک کو زرعی ترقی کی منزل سے ہمکنار کیا جا سکے۔

تاریخ اشاعت: 2015-06-30

(0) ووٹ وصول ہوئے