تازہ ترین : 1
Budget Orr Oversease Pakistani

بجٹ اور اوورسیز پاکستانی

بجٹ جب بھی آتا ہے نہ صرف پاکستان میں اہل پاکستان پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ بیرون ملک بسلسلہ روزگار مقیم پاکستانیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جبکہ سرمایہ دار اور بزنس مین ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں

طاہر منیر طاہر:
بجٹ جب بھی آتا ہے عوام پر بجلی بن کر گرتا ہے۔ حکومتی افراد جنہوں نے بجٹ بنایا ہوتا ہے وہ اپنے تیار کردہ بجٹ کو ہمیشہ عوام دوست بجٹ قرار دیتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ ہر بجٹ کو عوام دشمن بجٹ قرار دیتے ہیں۔ بجٹ جب بھی آتا ہے نہ صرف پاکستان میں اہل پاکستان پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ بیرون ملک بسلسلہ روزگار مقیم پاکستانیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جبکہ سرمایہ دار اور بزنس مین ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں۔
بجٹ غریب لوگوں کے لئے پریشانیاں جبکہ تاجر طبقہ کے لئے خوشیاں لاتا ہے کیونکہ بجٹ میں قیمت بڑھنے والا سامان انہوں نے پہلے ہی سٹاک کر لیا ہوتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی بجٹ سے کس طرح متاثر ہوتے ہیں آئیے کچھ لوگوں سے بات کرتے ہیں۔ اکبر جمیل باجوہ متحدہ عرب امارت میں موجود ہیں اور پاکستان میں اپنے خاندان کی کفالت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہاں تو تنخواہیں سالہا سال نہیں بڑھتیں جبکہ پاکستان میں مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور بجٹ تو غریب عوام پر ایک بم کی طرح گرتا ہے۔
بجٹ پاکستان میں آتا ہے جبکہ بیرون ملک اثر ہماری جیبوں پر پڑتا ہے کیونکہ ہر ماہ خرچہ ہمیں بھجوانا ہوتا ہے۔ اس سال بھی بجٹ ہم پر گراں گزارا ہے جسے عوام دوست بجٹ نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) مڈل ایسٹ کے صدر چودھری نورالحسن تنویر سے جب بجٹ کے بارے رائے جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بذریعہ ٹیکسٹ یہ لکھا کہ ”بیلنس بجٹ“ یعنی بجٹ متوازن ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوٴں چودھری محمد شکیل اور طارق حسین بٹ سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بجٹ میں متوسط طبقہ کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اس بجٹ کو امراء کے فائدے کا بجٹ تو کہا جا سکتا ہے غرباء کا بجٹ نہیں کہا جا سکتا۔ حالیہ بجٹ سے مہنگائی اور بڑھے گی جس کا سارا اثر غریب اور متوسط درجہ کے لوگوں پر پڑے گا جس سے اثرات بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں پر بھی ہوں گے۔
پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے انہیں بھی یہاں سے ماہانہ خرچہ زیادہ بھجوانا پڑے گا۔ حالیہ بجٹ میں بھی مال سٹاک کرنے والوں کو بھی فائدہ پہنچایا گیا جس سے ایسا طبقہ اور امیر ہو گا جبکہ غریب آدمی غربت کی چکی میں پستا رہے گا۔ طارق حسین بٹ اور چودھری محمد شکیل نے کہا کہ ہم اس بجٹ کو عوام دوست بجٹ نہیں سمجھتے۔
مقامی سوشل ورکر اور خاتون خانہ شیریں درانی نے کہا کے ہر بجٹ روزمرہ کی اشیاء پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے گھریلو بجٹ متاثر ہو جاتا ہے اور اسے بیلنس رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر حکومت روزمرہ کے استعمال کی اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں نہ بڑھائے تو معاملات جیسے تیسے چل جاتے ہیں لیکن بجٹ کے بعد تاجر اپنی مرضی سے جو قیمتیں بڑھا دیتے جس سے گھر کا نظام کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ شیریں درانی نے کہا کہ میری نظر میں حالیہ بجٹ عام لوگوں کے لئے بوجھ ہے۔
پی ایم ایل این لاہور کی ورکر شمع بٹ نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں عام اشیاء کی قیمتوں کو بڑھنے نہیں دیا جس سے لوگوں کی جیب پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔
حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ بجٹ بے شمار مسائل کے باوجود انتہائی متوازن دیا گیا ہے جس پر عام آدمی پر بوجھ نہیں پڑا بلکہ ریلیف ملا ہے۔
پی ایم ایل این متحدہ عرب امارت کے رہنما ملک دوست محمد اعوان نے کہا کہ بجٹ میں حکومت نے پاکستان کی تعمیر و ترقی کا خاص خیال رکھا ہے۔ بہت سے منصوبوں کی تکمیل کے لئے خاصی رقم رکھی ہے جن میں بجلی اور کراچی لاہور موٹر وے کے منصوبوں کو اولیت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھتا ہے تو حکومت کا ساتھ دیتا ہے۔ بجٹ کو خوش دلی سے قبول کرنا ہے ملک دوست محمد اعوان نے کہا کہ بجٹ ہر لحاظ سے مکمل اور جامع ہے جس میں سب کا خیال رکھا گیا ہے جس میں تنخواہ دار طبقہ اور پینشنرز شامل ہیں۔ حکومت واقعی پاکستان کے عوام کے لئے مثبت کام کر رہی ہے جس کا․․․․ حالیہ متوازی بجٹ ہے۔
متحدہ عرب امارت میں مقیم پاکستان بزنس مین جمیل اسحق اور پاکستان سوشل سنڑز شارجہ کے صدر چودھری خالد حسین آف سدووال نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستان میں جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو بیرون ملک پاکستانی ہرممکن حکومت پاکستان اور اہل وطن کے مدد کے لئے آگے آجاتے ہیں۔ پاکستان سے اچھی خبر آئے تو بیرون ملک پاکستانیوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں جبکہ کوئی پریشان کن خبر پاکستانیوں کو سوگوار کر جاتی ہے۔
حالیہ بجٹ کو اگر مثبت انداز میں غور سے دیکھا جائے تو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بہترین بجٹ جس میں ایک عام آدمی کے مسائل کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے۔
دوبئی میں جاب کرنے والی ایک خاتون رانی درانی نے کہا کہ بجٹ آتے ہی پاکستان میں اخراجات بڑھ جاتے ہیں جس کا اثر براہ راست بیرون ملک ہم پر پڑتا ہے کیونکہ ماہانہ خرچہ ہمیں بھجوانا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر ماہ مہنگائی بڑھتی ہے اور ہر ماہ یہاں ہمارا بجٹ متاثر ہو جاتا ہے بیرون ملک یہاں ہماری تنخواہیں بڑھتی نہیں ہیں لیکن جیسے تیسے پاکستان میں اہل خانہ کو روزمرہ کے اخراجات کے لئے رقم باقاعدہ بھجوانا پڑتی ہے۔ بجٹ ابھی آیا ہی ہے اور ہمیں فکر لگ گئی ہے کہ اخراجات بڑھیں گے۔ حکومت چاہے جتنا بھی عوام دوست بجٹ بنائے یا کہے وہ ہوتا عوام پر بوجھ ہی ہے۔
بجٹ بھی عوام پر گراں گزرتا ہی لگتا ہے۔
آزاد علی تبسم شارجہ سے پاکستان بزنس مین جو حلقہ پی پی 51 سے بطور ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے سابقہ جتنی بھی حکومتیں آئیں تھیں۔ ایسا متوازن بجٹ کسی نے نہیں دیا جس میں عام آدمی کا خاص خیال رکھا گیا ہو۔ آزاد علی تبسم نے کہا کہ مہنگائی تو اب ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے کچھ اشیاء کی قیمتیں بین الاقوامی طور پر بڑھتی ہیں جس کا اثر اندرون پاکستان بھی پڑتا ہے جسے خوشدلی سے قبول کرنا چاہئے تاہم مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ مثالی ہے جس میں پاکستان کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ عام آدمی کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔
اس بجٹ کے مثبت اثرات آئندہ چند ماہ میں ہوں گے جس سے پاکستانی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا اور پاکستان میں خوشحالی آئے گی۔
وقت اشاعت : 2014-06-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں