تازہ ترین : 1
Budget Main Jagirdar Zimeendar Kis Liye Mustasna

بجٹ میں جاگیردار ، زمیندار۔۔۔۔۔ کس لئے مستثنیٰ

رواں مالی سال میں 1375 ارب روپے ریونیو میں وصول ہوں گے لیکن آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس ریونیو کا یہ ہدف بڑھا کر 2810 ارب روپے کردیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ 710 ارب روپے کے فاضل ٹیکسز عائد کئے گئے ہیں

عبدالقدوس فائق:
خزانہ اور اقتصادی امور کے وفاقی وزیر محمد اسحاق ڈار نے موجودہ حکومت کا 43 کھرب 2 ارب روپے کادوسرا بجٹ پیش کردیا جس میں مجموعی آمدنی کا تخمینہ 40کھرب174 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ کی طویل تقریر اس میں شامل خوشخبریوں اور دعوں کو ماہرین نے لفاظی اور خواب کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بجٹ کی طویل تقریر کا ہمیشہ یہی مقصد ہوتا ہے کہ لفاظی او رلچھے دار باتوں سے لوگوں کو خوش کرکے سخت بجٹ کے اثرات سے ان کی توجہ ہٹائی جائے۔
گزشتہ کئی سالوں سے وزراء خزانہ کی یہ بجٹ تقاریر دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہیں پہلے حصے میں رواں سال میں کامیابیوں ، کامرانیوں اور مسحور کن روداد جس میں بتایا جاتاہے کہ رواں مالی سال مثالی رہا جس میں ترقی ہوئی ،ہر شعبے میں کامیابی نے قدم چومے ، عوام کو خوشی نصیب ہوئی۔ اس کے بعد وزیر خزانہ نصف گھنٹے سے زائد ان کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہیں پھرآئندہ مالی سال کے لئے عوام سے کئے گئے اقدامات بڑے دل نشین اندازمیں عوامی فلاح و بہبود کے پروگرام کا اعلان اور وعدہ کیا جاتاہے اس کے بعد محدود آمدنی کا رونا رو کر مختلف شعبوں میں ٹیکسوں میں اضافے کااعلان کیا جاتا ہے اس سال اسحاق ڈار صاحب کی تقریر پہلے سے بھی زیادہ طویل تھی اور انہوں نے بڑے حوصلے سے یہ تقریر شروع سے آخر تک پڑھی۔
وزارت خزانہ کا شعبہ خزانہ کبھی بھی بجٹ اعلان سے قبل بجٹ دستاویز فراہم نہیں کرتا تاکہ بجٹ تقریر کا سحر زائل نہ ہوجائے اس بار بھی یہی ہوا فیڈریشن او رایوان تجارت کراچی میں جمع چوٹی کے صنعتکار اور تاجر بجٹ تقریر سے اتنے مسحور ہوئے کہ ہمیشہ کی طرح اکثریت نے بجٹ کو متوازن ، موجودہ حالات میں بہترین بجٹ قرار دے دیا او ر جب بجٹ دستاویزات ان کے ہاتھ لگیں تو ان کے لئے لحاف میں منہ ڈال کر رونے کے سوا کچھ نہ تھا۔
مالیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے بجٹ میں 7 کھرب 10 ارب روپے کے فاضل ٹیکسز عائد کئے گئے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکس ریونیو کا ہدف 2475 ارب روپے مقرر کیا گیاتھا جب کہ ابتدائی 9 ماہ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو 1574 ارب روپے وصول کرسکا اور 30 جون 2014 کے اختتام پر 2100 ارب روپے وصول ہوگا۔ اسی طرح رواں مالی سال میں 1375 ارب روپے ریونیو میں وصول ہوں گے لیکن آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس ریونیو کا یہ ہدف بڑھا کر 2810 ارب روپے کردیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ 710 ارب روپے کے فاضل ٹیکسز عائد کئے گئے ہیں یہ ٹیکسز کون دے گا وہی جن کے لئے بجٹ میں بڑے اعلانا ت کئے گئے۔
بجٹ بریفنگ میں ڈار صاحب نے یہ اعتراف کیا کہ ملک کی اکثریت افلاس کی لکیر سے نیچے ہے مگر حیر ت انگیز طو رپر انہوں نے غریب لوگوں کے لئے کچھ نہیں رکھا۔ سوائے بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کے جو ہر آدمی کے علم میں ہے۔غریبوں کے بجائے وڈیروں جاگیرداروں کی جیب میں ہی جاتی ہے یہی نہیں بلکہ ٹیکسوں کی بھر مار سے اب متوسط درجہ کا طبقہ بھی غربت کی لکیر سے نیچے جارہا ہے جس ملک کے پاس وافر قدرتی گیس، تیل کے ذخائر ہوں اس پر اسے نت نئے ٹیکسز لاگو کرکے مہنگی ترین گیس اور پیٹرول دیا جارہا ہو نئے بجٹ میں بھی گیس انفرا اسٹریکچر ڈویلپمنٹ سیس کے طورپر 2013-2014 کے بجٹ کے 38 ارب روپے کے مقابلے میں وصولی کا ہدف 145 ارب روپے اسی کے ساتھ قدرتی گیس پر 46 ارب40کروڑ روپے ترقیاتی سرچارج کے طور پر عائد کئے گئے ہیں جبکہ پیٹرولیم پر لیوی( محصول) کا ہدف108 ارب روپے سے بڑھا کر 123 ارب روپے کردیا گیا ہے۔
یہ معاشیات کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ ایندھن او رپیٹرولیم میں اضافے سے سامان کی ترسیل کی لاگت میں اضافے کے ساتھ ساتھ عام آدمی پر اس کے مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گیس پر ان دونوں ٹیکسز کے علاوہ سیلز ٹیکس بھی عائد ہے۔ اس طرح گیس کی فراہمی پر بیک وقت 3 ٹیکسز عائد کئے گئے ہیں۔ نئے بجٹ میں سب سے زیادہ ٹیکسوں میں اضافہ 166 ارب روپے سیلز ٹیکس میں کیا گیا ہے رواں مالی سال کے 1005 ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2014-2015 میں سیلز ٹیکس کی وصولی کا ہدف 1171 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے اسی طرح مختلف سامان پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرکے اس میں بھی 40 ارب روپے کے نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں نئے بجٹ میں فیڈرل ایکسائز کا ہدف 178 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ انکم ٹیکس میں 286 ارب روپے کا اضافہ کرکے اس کا نیا ہدف1180 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ساتھ ہی گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمینٹ سیس کی رقم جو رواں سال کے بجٹ میں 35 ارب روپے رکھی گئی تھی۔
اسے رواں مالی سال ہی میں 88 ارب روپے وصول کیا گیا اور نئے بجٹ میں بڑھا کر 195 ارب روپے کردیا گیا اس طرح گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس میں 107 ارب روپے کے اضافے کے ساتھ گیس پر دوسرا ٹیکس یعنی گیس ڈویلپمنٹ سرچارج بھی 35 ارب 33 کر وڑ90 لاکھ روپے کے ہدف سے بڑھا کر 46 ارب 40 کروڑ روپے کردیا گیا ہے گیس کی شرح 300 فیصد سے اضافہ کرکے بجلی استعمال کرنے والے بجلی گھروں کو بجلی کی شرح میں اضافہ ، صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور عام آدمی پر اس کے تباہ کن اثرا ت مرتب ہوں گے۔
بجٹ میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی وجہ سے عمارتی سرئیے ، اسٹیل ،سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا جب کہ سیلز ٹیکس میں اضافے مہنگائی مزید شدت اختیار کر جائے گی۔ اس کے علاوہ ملک میں پہلی بار سٹہ کمپنیوں کی جانب سے جاری ہونے والے بونس شیئرز پربھی ٹیکس عائد کردیا گیا ہے یہ اپنی نوعیت کا عجیب و غریب ٹیکس ہے جبکہ بھارت کی سپریم کورٹ نے اسی غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔
اس سے اسٹاک ایکسچینج میں حصص کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوں گی۔ اس سے پہلی بھی ہم کہہ چکے ہیں کہ محصولات میں اضافہ اور ملک کی معاشی ترقی کے لئے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ضروری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس ریونیو جی ڈی پی کے 15 سے30فیصد تک ہمارے ملک میں 9 سے10 فیصد ہے ا س لئے ٹیکس میں اضافہ ضروری ہے مگر ٹیکس میں اضافے کے لئے غریب عوام او رعام طبقہ اور ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنا کہاں کا انصاف ہے۔
دنیا کے ہر ملک میں اس ملک کے تمام طبقہ خواہ وہ صنعتکار ہوں یا تاجر، تنخواہ یافتہ ہوں یا زمیندار باقاعدگی سے ٹیکس دیتے ہیں ترقی یافتہ ملکوں کو دیکھئے تمام طبقوں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے حتی کہ چند ماہ قبل جرمنی میں ہوٹلوں میں کام کرنے والے بیروں کی ٹپ پربھی ٹیکس عائد کیا گیا تھا دوسری طرف سوڈان جیسے غریب ملک میں چائے کی کیتلی ہاتھ میں لئے گھوم کر چائے فروخت کرنے والے سے بھی ٹیکس لیا جاتا ہے یہ وہ ملک ہے جہاں مرد اور عورتیں سارا دن کام کرتی ہیں تو رات کو ایک وقت کی روٹی نصیب ہوتی ہے اور تو اور ترقی یافتہ ممالک بالخصوص یورپ او ر امریکہ میں طوائفوں کو بھی ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے مگر ہمارے ملک میں بڑے بڑے زمیندار جاگیردار، کاشت کار اس سے مستثنیٰ ہیں جبکہ جی ڈی پی میں ان کا حصہ 30 فیصد کے لگ بھگ ہے نہ ان پر کسی قسم کا انکم ٹیکس عائد ہے۔
نہ کسی قسم کا سیلز ٹیکس ، کھربوں روپے کی آمدنی پر ایک پیسہ بھی ٹیکس وصول نہیں ہوں گے اور جو صنعتکار یا تاجر ٹیکس دیتے ہیں وہ ریفنڈ اور ایڈجسٹمنٹ کے لئے بھاری رشوتیں دے کر نصف سے زائد ہڑپ کر جاتے ہیں اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے جس کے لئے بجٹ میں سرے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا نئے بجٹ سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا او رحکومت کی مقبولیت کو سخت دھچکہ لگے گا۔
وقت اشاعت : 2014-06-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں