تازہ ترین : 1
Budget 2014

وفاقی بجٹ 2014ء

خودانحصاری اس برس بھی حکومت کی ترجیح نہیں ہے۔بجٹ کے بعد اقتصادی ماہرین مہنگائی میں مزیداضافے کی نویدبلکہ وعید سنارہے ہیں۔اسکی وجہ یہ ہےکہ خوردنی تیل،سیمنٹ سی این جی کی فروخت پربھی مزیدٹیکسز عائد کردئیےگئےہیں

محمد کلیم عمران:
مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے دور اقتدار کا دوسرا اور ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کردیا ہے۔ موجودہ بجٹ کا کل حجم تقریباََ 43کھرب روپے اور کل بجٹ خسارے کا حجم 14کھرب روپے ہے۔مجموعی طور پر اس بجٹ کو ماضی میں پیش کیے جانے والے بجٹوں کے مقابلے میں متوازن قرار دیا جاسکتاہے لیکن اسکے باوجود اس میں خامیاں موجود ہیں جنہوں دور کیا جانا ضروری ہے اور حکومت کو چایئے کہ قومی اسمبلی میں اس بجٹ کی منظوری سے قبل پیش کی جانے والی ترامیم کے ذریعے انہیں دو کرے۔
اس سلسلے میں سب سے بڑی مثال ای او بی آئی پنشنز کی دی جاسکتی ہے جن کی پنشن میں نہ تو گزشتہ بجٹ میں کوئی اضافہ کیا گیا تھا اور نہ ہی موجودہ بجٹ میں اس مسئلے کی جانب توجہ دی گئی ہے۔ ای او بی آئی پنشن میں اضافے کی صورت میں حکومتی خذانے پر کوئی بہت بڑا بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ اس محکمے کے پاس اربوں روپے کے فنڈز موجود ہیں۔
بجٹ کے بعد اقتصادی ماہرین مہنگائی میں مزید اضافے کی نوید بلکہ وعید سنارہے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ خوردنی تیل، سیمنٹ اور سی این جی کی فروخت پر بھی مزید ٹیکسز عائد کردئیے گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں مہنگائی پہلے ہی قابو سے باہر ہے اور بجٹ میں تجویز کیے گئے اقدامات سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے مہنگائی یوں تو پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر تنخواہ دار اور پنشن گزار طبقے پر ہوتا ہے کیونکہ ان کے ذرائع آمدن یا تو جوں کے توں رہتے ہیں یا اگر ان میں تھوڑا بہت اضافہ ہوتا بھی ہے تو وہ مہنگائی میں ہونے والے بے محابا اضافے کی وجہ سے بے اثر ہوجاتا ہے۔
موجودہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور سابق ملازمین کی پنشن میں 10فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو کہ مہنگائی کی موجودہ شرح کے حساب سے بہت کم ہے اور اسے بڑھاکر کم از کم 15سے 20فیصد ہونا چاہئے۔ سابق سرکاری ملازمین کی کم از کم پنشن 6ہزار روپے مقرر کی گئی ہے لیکن ای او بی آئی پنشنز کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی پنشن کی کم از کم حد 6ہزار روپے مقرر کی جائے۔

حکومت کا سب سے بڑا ذریعہ آمدن محاصل ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں حقیقی ٹیکس کلچر تاحال فروغ نہیں پاسکا۔ بجٹ چوری میں ہماراکوئی ثانی نہیں ہے اور اس حوالے سے دیکھا جائے تو بجٹ جمع کرنے والے ادارے میں سب سے زیادہ بدعنوانی ہوتی ہے۔ ایک برس میں بیسیوں مرتبہ بیرون ملک جانے والے بے شمار امراء کے پاس قومی ٹیکس نمبر ہی نہیں ہے۔ موجودہ بجٹ میں حکومت نے ایک مرتبہ پھر براہ راست ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرنے، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور کم از کم 231ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسی طرح انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں دی جانے والی متعدد رعایتیں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
فضائی سفر، غیر معقولہ جائداد کی خریداری، ایک لاکھ روپے سے زائد ماہانہ بجلی کے بل اور پرچون فروشی پر بھی نئے ٹیکسز عائد کئے گئے ہیں۔ ہر حکومت پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ غریبوں پر ٹیکسز لگائے جاتے ہیں اور امراء کو بخش دیا جاتا ہے ۔
اس بجٹ پر بھی یہ الزام عائد کیا جاسکتا ہے کیونکہ خوردنی تیل ، سی این جی اور پرچون فروشی پر نئے ٹیکسز کا اطلاق کیا گیا ہے تو لگژری گاڑیوں اور سیٹلائٹ فون پر عائد ڈیوٹی میں کمی کردی گئی ہے۔ اسی طرح کارپوریٹ ٹیکس، بڑے ہوٹلز اور شادی ہالز میں ہونے والی تقریبات پر عائد ٹیکس میں ایک فیصد کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔
ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی غرض سے 30جون 2017ء سے پہلے پہلے قائم ہوجانے والے صنعتی یونٹس کے لئے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 20فیصد مقرر کی گئی ہے لیکن اس سے قبل یا بعد میں قائم ہونے والے صنعتی یونٹس پر کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 34فیصد سے کم کر کے 33فیصد کردی گئی ہے ۔
ایسے معذور افراد، جن کی سالانہ آمدن 10لاکھ تک ہے، پر انکم ٹیکس میں 150فیصد کمی کی گئی ہے۔ 2013ء میں انکم سپورٹ لیوی کو موجودہ بجٹ میں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ہمارے زیادہ تر قومی اداروں کو ری سٹرکچرنگ کی ضرورت ہے لیکن اس اہم ترین مسئلے کی جانب تاحال توجہ نہیں دی جارہی ۔ اداروں کی ری سٹرکچرنگ نہ ہونے کی وجہ سے ان میں پمپ کیے جانے والا نیا سرمایہ بھی بے معنی اور غیر موثر ہوجاتا ہے اور اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔

گزشتہ حکومت کے دور میں دفاعی بجٹ میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں کیا گیا۔ موجودہ حکومت نے اپنے پیش کردہ پہلے بجٹ میں دفاع کے شعبے کے لئے مختص فنڈز میں اضافہ کیا تھا۔ گزشتہ سال ہمارا دفاعی بجٹ 625ارب روپے تھا جسے موجودہ بجٹ میں 11فیصد اضافے کے ساتھ 700 ارب روپے سے زائد کردیا گیا ہے۔
دفاع کے بعد دوسرا اہم ترین شعبہ تعلیم کا ہے جو ایک طویل عرصے سے فنڈز کی شدید کمی سے دوچار ہے اور ہم اپنے جی ڈی پی کا بمشکل ایک فیصد ہی تعلیم کے فروغ پر خرچ کرتے ہیں۔
رواں مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کے فروغ کیلئے مجوعی طور پر 64ارب ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں اور ان میں سے 47ارب 49کروڑ 30لاکھ روپے اعلیٰ تعلیم کیلئے مخصوص کیے گئے ہیں۔ ماہرین تعلیم نظام تعلیم کو اہرام سے تشبیہ دیتے ہیں جس کی بنیادیں بہت چوڑی لیکن ان کے اوپر تعمیر کی جانے والی عمارت بتدریج سکڑتی جاتی ہے۔ اس مثال سے یہ ثابت کرنا مقصو ہے کہ پرائمری اور ثانوی تعلیم کیلئے زیادہ فنڈز مختص کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے رکھی جانے والی رقم زیادہ ہے۔ دراصل ہمیں اپنی خام ملکی پیداوار کا کم از کم 5 سے 10فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔
تعلیم کے بعد ہمارے ہاں سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے وال شعبہ صحت کا ہے۔ صحت کے حوالے سے عوام کو دستیاب سہولیات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں کھانسی کا مضر صحت بلکہ نشہ آور شربت پینے سے درجنوں لوگ مارے جاتے ہیں۔
لاہور کے امراض قلب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں غلط ادویات کے استعمال کے باعث 100سے زائد مریض جاں بحق ہوجتے ہیں۔ مجموعی طور پ ربات کی جائے تو خسرے اور پولیو جیسی بیماریوں کے خاتمے میں ہم ابھی تک ناکام ہیں۔ پولیو کے خاتمے میں ناکامی کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی جانب سے ہم پر سفری پابندیاں عاید کئے جانے کا آغاز ہوگیا ہے اور ابتدائی طور پر بیرون ملک جانے والے تمام پاکستانیوں کو بلالحاظ عمر پولیو کے قطرے پینے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری قرار دیا جاچکا ہے۔
ماضی میں متعدد آئین ترامیم کے نتیجے میں صحت اور تعلیم کے شعبے وفاقی حکومت کی بجائے صوبائی حکومتوں کے سپرد کردئیے گئے تھے لیکن اس حوالے سے انتظامی سطح پر مناسب اقدامات نہیں کیے گئے جس کے باعث ان دونوں میں خدمات کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی۔ موجودہ بجٹ میں صحت کیلئے 27ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے اور اس میں سے ایک ارب روپے پولیو کے خاتمے کی مہم پر صرف کیے جائیں گے۔

گزشتہ چند برس میں ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ ملک میں جاری توانائی کے شدید ترین بحران کا ہے۔ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد توانائی کی پیداوار کے شعبے میں رواں قرضہ جات ادا کیے تھے جو ایک مستحسن لیکن عاضی قدم ہی تھا۔ توانائی کے بحران کے خاتمے کیلئے ہمیں جہاں بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے قائم کرنے کی ضرور ت ہے وہیں سستی بجلی کے حصول کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔
اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں پن بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے لگائے جائیں اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا جلد از جلد آغاز کیا جائے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ہمیشہ ملک میں قومی اتفاق رائے سے مشروط کردیا جاتا ہے جس کا مستقبل قریب یا بعید میں کوئی امکان نہیں۔ ایک خالصتاََ تکنیکی مسئلے کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں حکومتی ترجیحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ بجٹ تیز رفتار اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول میں اس حد تک مددگار ثابت نہیں ہوگا جتنا کہ اس سے توقعات وابستہ کی گئی ہیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ موجودہ بجٹ میں زیادہ تر شعبوں میں خود انحصاری کی جانب توجہ نہیں دی گئی۔ بجٹ تقریر میں وزیرخزانہ سے معیشت کی شرح نمو میں اضافے کا جو دعویٰ کیا ہے وہ حقیقی اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مالی سال میں ہماری معاشی شرح نمو بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہے۔ افراط زر ہماری معیشت کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کررہا ہے۔
موجودہ حکومت پر قابو پانے کا دعویٰ کرتی ہے اور اسے سابق حکومت کی غلب معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ورثے میں ملنے والے افراط زر کی شرح کم نہ ہوتی تو اسے بڑھنے بھی نہ دیا جاتا لیکن اس حوالے سے احوال واقعی یہ ہے کہ افراط زر ماضی کی نسبت زیادہ ہوچکا ہے۔ بجٹ خسارے کو بڑھنے سے روکنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنے ترقیاتی اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کی ہے جس کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔
رواں مالی سال میں برآمدات میں اضافے کی اوسط شرح گزشتہ 5، 6برس کی اوشط شرح سے کم رہی ہے اور بیرون ملک سے ترسیلات زر کی شرح بھی گزشتہ چند برس کے مقابلے میں اس وقت کم ترین سطح پر ہے۔
وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کا دعویٰ ہے کہ ملک کی معاشی شرح نمو 4.91 فیصد رہی۔ اعداد و شمار البتہ اس حوالے سے ایک اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ گزشتہ برس جون کے مہینے میں سامنے آنے والے اکنامک سروے میں بتایا گیا تھا کہ 2010-11ء میں معاشی شرح نمو 4.4 فیصد رکھی گئی تھی لیکن بعد ازاں جون 2014ء میں اسے نظر ثانی کے بعد 3.8فیصد کردیا گیا تھا اور یوں حکومت کو یہ دعویٰ کرنے کا موقع یا جواز مل گیا کہ گزشتہ 6برس کے مقابلے میں رواں برس یہ شرح زیادہ رہی ہے۔

آئندہ مالی سال کے لئے حکومت نے ایف بی آر کو 2819ارب روپے ٹیکس وصولی کا جو ہدف دیا گیا ہے وہ اگر من و عن یہ ہدف پورا بھی ہوجاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں ملکی معیشت پر کوئی خاص مثبت اثرات مرتب نہیں ہونگے کیونکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی حکومت 1720 روپے صوبوں کو فراہم کرنے کی پابند ہے اورر یوں اس کے پاس صرف 1090ارب روپے بچیں گے اور وفاق کو صرف اندرونی قرضہ جات پر سود کی ادائیگی کے لئے 1325ارب روپے درکار ہونگے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سابق حکومت کا ایک سیاسی حربہ تھا موجودہ حکومت اپنی سیاسی مجبوریوں کے باعث اس پروگرام سے جان چھڑوانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس برس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 118ارب روپے رکھے گئے ہیں اور قوم کو بھکاری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ اسی رقم کو اگر مائیکرو فنانس سکیم سے منسلک کردیا جائے تو امداد لینے کیلئے گھنٹوں قطار میں کھڑے ہونے والو ں کو اپنی روزی روٹی خودکمانے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔

حکومت نے ملک میں اسلامی بینکاری کے حقیقی نظام کے فروغ کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ موجودہ اسلامی بینکاری نظام ایسے ہی ہے جیسے خدا کے وجود سے منکرکسی شخص کو امامت کا جبہ پہنا دیا جائے۔ رواں مالی سال میں حکومت اندرونی قرضہ جات پر سود کی ادائیگی میں 1325ارب روپے خرچ کرے گی۔ یہ رقم ہمارے دفاعی بجٹ سے تقریباََ دو گنا زیادہ ہے اور ملک کے مجموعی ترقیاتی بجٹ سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ حکومت اگر سود کے خاتمے کیلئے مخلصانہ کوشش کرے تو اس گناہ کبیرہ سے قوم کو بچایا جاسکتا ہے۔اور ملکی معیشت کو بھی با آسانی درت راستے پر گامز ن کیا جاسکتا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-06-18

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں