تازہ ترین : 1
Adam Tawazun Ka Shikar Pakistani Mueshaat

عدم توازن کا شکار پاکستان معیشت

اس کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔۔۔۔۔ واجب الادا قرضوں کا حجم 65 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ٹیکس چوروں کی اکثریت حکومت ایوانوں میں بستی ہے

علیزہ رانا:
پاکستان معیشت روز اول سے اُتار چڑھاوٴ کا شکار ہے عالمی مالیاتی ادروں پر انحصار عوام پر ٹیکسوں کابوجھ بڑھاتا چلا جاہا ہے۔ واجب الادا قرضوں کا حجم 65 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ٹیکس چوروں کی اکثریت حکومت ایوانوں میں بستی ہے ۔اگر حکومت عوام دوست ٹیکس اصلاحات کے درمیان حائل خلیج کو کم کیاجا سکے ۔ لیکن پہلے معیشت کو عد م توازن سے بچانا ہو گا۔
تاکہ عوام کو وسائل کی فراہمی اور مہنگائی میں کمی کے ذریعے ریلیف دیا جائے۔ امریکی ادارے نیشنل بیور وآف اکنامک ریسرچ نے حال ہی میں مختلف ماہرین اقتصادیات کے جمع کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا مقصد حکومت کو عوام سے ٹیکس اکٹھا کرنے کے جدید طریقوں سے متعارف کروانا تھا تاکہ ان کے نفاذ سے حکومت اپنے مطلوبہ اہداف بھی بہ آسانی حاصل کرے اور لوگوں پر اسکے خوشگوار اثرات مرتب ہوں کیونکہ ٹیکس ادا کرنے والوں کو اکثر حکومتی اقدامات سے متنفردیکھا گیا ہے۔
ٹیکس ادا کرنے والوں کو حکومت سے اکثر جن باتوں پر نالاں دیکھا گیا وہ ٹیکس ادا کرنے کے طریقے ہیں جن میں سے اکثر لوگ متفق نہیں ان کے مطابق حکومت ٹیکس محض اپنی شاہ خرچیوں کے لئے جمع کرتی ہے۔ لہٰذا اس رپورٹ کی رو سے حکومت برطانیہ نہ صرف اپنے بلکہ دیگر ممالک کی حکومت اور عوام کے مابین ٹیکس دوست اصلاحات متعارف کرانا چاہتی ہے لیکن پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں معیشت کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔
یہاں ٹیکس چوروں کی اکثریت ایوان اقتدار میں بیٹھی ہے۔ بقیہ طبقہ ان افراد پر مشتمل ہے جو حکومتی ایوانوں کی چھتر چھایا میں پناہ گزیں ہو کر اربوں روپے کا ٹیکس چوری کرنے کاجرم سرعام کرتے ہیں۔ ملک کے امراء کے ٹیکس کا بوجھ بھی غریب عوام پر لادا جانا معمول بن چکا ہے۔
روز اول سے پاکستانی معیشت اُتار چڑھاوٴ کا شکار رہی ہے۔ معاشی استحکام ڈانواں ڈول رہیگا جب تک عوام اور ٹیکس نافذ وصول کرنے والے اداروں کے درمیان خلیج حائل رہے گی۔
تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرا تو اس وقت امریکی ڈالر کی قیمت تین روپے تیس پیسے تھی پھر یہ قیمت جولائی 1955 تک برقرار رہی اس لے بعد اگست1955 میں ڈالر کی قیمت چار روپے76 پیسے ہو گی۔ اپریل 1972 میں ڈالر کی قیمت11روپے مقرر ہوئی جبکہ فرورئی1993 سے1982 تک 9.90 بر قرار رہی۔ ضیاء الحق کے دورمیں حکومت کے آخری پانچ سال کے دوران ڈالر کی قیمت15اور 17 روپے کے درمیان برقرار رہی جبکہ دسمبر 1990 میں یہ قیمت 21 روپے 90 پیسہ تک جا پہنچی۔
غرض یہ کہ یہ اتار چڑھاوٴ چلتا رہا دسمبر 2010 میں ڈالر کی قیمت85.70 روپے تھی۔ گذشتہ حکومت کے دور میں ڈالر کی قیمت110 روپے تک بھی چلی گئی تھی جبکہ آج یہی ڈالر پہلے کی نسبت قدرے کنٹرول ریٹ پر واپس آچکا ہے ۔
اگر پیپلز پارٹی کے دورحکومت کاجائزہ لیں تو قرضوں اور سود کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ملک کا ہر دسواں شہری بے روزگار تھا۔ دراصل حکومت نے اتنے قرضے لئے کہ ان کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
چنانچہ 2007 میں پاکستان پرکل قرضے 6691 ارب روپے تھے جو کہ جون2013 میں 16228 ارب ہو چکے تھے۔ نیتجتاََ بے روزگاری نے جہاں بھوک کی شرح میں اضافہ کیا وہیں ریاستی مشینری کو بھی سست روی کا شکار بنا دیا۔
موجودہ حکومت نے بھی جب اقتدار سنبھالا تو ریاست کا نظام چلانے کے لئے بیرونی قرضوں پر انحصار کی پالیسی ہی اپنائی۔ گزشتہ دنوں سٹیٹ بنک کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ ملک پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بنکوں سے لے گئے واجب الادا بیرونی قرضوں کا حجم65 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ۔
قرضوں سے نجات دلانے کے وعدے کرنے والی موجودہ حکومت کی حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں مالیاتی اداروں سے 3346 ملین ڈالر کے قرضے لئے گئے۔ آج پاکستان کا اندارونی و بیرونی سطح پر قرضہ 184 ارب ڈالر پہنچ چکا ہے اور ہر پاکستانی 825 ڈال کا مقروض ہے معیشت کو اب بھی بہتری کے راستے پر لایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کی منڈیوں اور مالی اداروں پر عالمی معاشی بحران کے اثرات پر قابو پایا جائے۔
دوسری طرف پاکستان میں سیکورٹی مسائل کو بھی معاشی بہتری کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے۔ 2011 میں امریکہ نے پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی امداد دی جس میں سے 50 کروڑ ڈالر معیشت کی بہتری کے لے تھے لیکن زیادہ تر رقم حکومتی شاہ خرچیوں پر ہی خرچ کی گی ۔ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ میں ہمارے حکمران ماضی میں بھی ملوث تھے اور موجودہ حالات بھی ہمارہے سامنے ہیں۔

معیشت کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں 26 ویں نمبر پر ہے جبکہ آبادی کے اعتبار سے یہ چھٹا بڑا ملک ہے ۔ پاکستان کی معیشت کو درکار وسائل میں بھی روز بروز اضافہ تویشناک ہے کیونکہ وسائل اور مسائل میں عدم توازن کی بناء پر ہماری معیشت ڈانواں ڈول ہے گزشتہ حکومتوں کے تقش قدم پر چلتے ہوئے موجودہ حکومت بھی ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لے کر عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دھکیلنے کے سلسلے میں کمی نہیں آسکی۔
وقت اشاعت : 2015-03-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں