تازہ ترین : 1
Berozgari Aur Paisha Wrana Taleem

بیروزگاری اور پیشہ ورانہ تعلیم

بیروزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ غور کیا جائے تو اس روایتی تعلیم کا خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ صورتحال یہ دیکھی جا رہی ہے کہ بارہویں کے امتحانی نتائج کے بعد جہاں ایک طرف کالجوں میں داخلہ کیلئے مشکلات اور کم ہوتی سیٹیں ایک مستقل مسئلہ کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

بیروزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ غور کیا جائے تو اس روایتی تعلیم کا خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ صورتحال یہ دیکھی جا رہی ہے کہ بارہویں کے امتحانی نتائج کے بعد جہاں ایک طرف کالجوں میں داخلہ کیلئے مشکلات اور کم ہوتی سیٹیں ایک مستقل مسئلہ کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف بے روزگار نوجوانوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا ہے۔
تشویشناک اعداد و شمار اس کا ثبوت ہیں کہ ملک کے کالج اور یونیورسٹیاں بے روزگاروں کو ڈھالنے کی فیکٹریوں میں تبدیل ہو گئے ہیں جہاں سے سال بہ سال لاکھوں نوجوان اپنے ساتھ ڈگریاں لے کر روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں زراعت، صنعت، ملازمت کے شعبہ میں برق رفتاری کے ساتھ تبدیلی آئی ہے اور ملک میں جس طرح کی اقتصادیات اور ترقیات کا بنیادی ڈھانچہ فروغ پا رہا ہے۔
اس کیلئے پیشہ ورانہ اور تکنیکی مہارت کی ضرورت ہے۔کامرس، سائبر مینجمنٹ کارپینٹر، موٹرمکینک،ڈپلومہ یافتہ نوجوان اپنی مہارت اور ہنر کا فائدہ اٹھا سکیں۔ پیشہ ورانہ تعلیم کی درس و تدریس اور اس کے نصاب کو معاشرے کی طلب کے مطابق کرنے سے متعلق ایسے جملہ مسائل ہیں جن پر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو سنجیدگی سے غور کرنا پڑے گا کیونکہ ان کو دور کئے بغیر منزل تک پہنچنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبہ میں تربیت یافتہ استادوں اور بنیادی سہولتوں کی کافی بلکہ بہت زیادہ کمی ہے۔ پیشہ وارانہ تعلیم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کو حاصل کرنے والوں کو وہ معلومات اور مہارت سے آراستہ کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں انسان کی معاشی ترقی ہی نہیں ہوتی بلکہ خود کفیل بننے میں بھی اسے مدد ملتی ہے۔ لیکن یہ تعلیم عصری ضرورت کے مطابق ہونی چاہئے تاکہ وہ تبدیل شدہ حالات میں سماجی و معاشرتی ضرورتوں کا ساتھ دے سکے۔
اگر ہم پاکستان کے حالات دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں روایتی تعلیم کی بجائے پیشہ ورانہ تعلیم کو اپنایا جائے تو مسلسل بڑھتی بیروزگاری میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے۔ پیشہ ورانہ تعلیم کی ضرورت جتنی آج پاکستان کو ہے ماضی میں نہ تھی۔ خاص طور پر اقتصادیات کے اس دور میں سرمایہ کاری اطلاعات کا انقلاب اور تجارت کی بالادستی کے باعث اس کی اہمیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔
آج کے ترقی یافتہ ممالک پیشہ ورانہ تعلیم کو اہمیت دے کر ہی اتنی ترقی کی منازل طے کر پائے ہیں جبکہ روایتی تعلیم کے تحت بی اے، بی ایس سی، بی کام کرنے والے بے شمار نوجوان نوکری کی تلاش میں دربدر مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ان کو روزگار کے محدود مواقع موجودہ ماحول میں کشیدگی ناامیدی کی فضا سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی ممتاز یونیورسٹیوں میں اردو، پنجابی، سرائیکی، سوشیالوجی وغیرہ جیسے مضامین میں داخلہ لینے سے طلبہ منہ چرانے لگے ہیں جو مذکورہ مضامین کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔
وہ طلباء و طالبات بھی روزگار پانے سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں حکومتی اعلانات اور سبز باغ دکھانے کے باوجود حاصل نہیں کر پاتے۔ ان سے متعلق آلات اور مشینیں عام طور پر وہاں مہیا نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں برسوں پرانے فرسودہ نظام نیز ٹریڈ بازار کی موجودہ مانگ کے مطابق ثابت نہیں ہو رہے۔ تعلیم کیلئے رقم کی کمی کا مسئلہ بھی موجود ہے لہٰذا اس خصوصی تعلیم کیلئے سرمایہ کی فراہمی کیلئے وقت پر توجہ دئے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔
پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کی اہمیت کو نظرانداز کرنا اب حکومتوں کیلئے مشکل ہے۔ پرانی تعلیمی پالیسی کو روزگار سے وابستہ کرنا آج وقت کا تقاضہ بن گیا ہے جس کو موجودہ تھوڑے سے ادارے پورا نہیں کر سکتے لہٰذا پرائیویٹ اداروں کی معاونت اور اس کے معیار کی نگرانی کر کے اس شعبہ کو نہ صرف وسعت دی جا سکتی ہے بلکہ بیروزگاروں کی بڑھتی تعداد میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔
وقت اشاعت : 2018-01-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں