|
|
|||
مزید
اہم
خبریں
|
صوبائی حکومت کا حیات آباد میں زیر علاج مولانا صوفی محمد سے براہ راست رابطہ،وزیر محنت کی ملاقات ،مالاکنڈ شریعہ نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے بارے میں تبادلہ خیال:
پشاور( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18نومبر۔2007ء)صوبہ سرحد کے نگر ان وزیرمحنت، آبپا شی و بر قیات اور سو شل ویلفیئر بخت بید ار خان نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد سے ملاقات کی اور ان کی بیمار پرسی کی ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملاکنڈ ڈویژن کی موجودہ صورت حال خاص کر مولانا صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ کی جانب سے مسلح کاروائیوں پر تبادلہ خیال کیا ذرائع کے مطابق اس موقع پر صوبائی حکومت نے ملاکنڈ شریعہ نظام عدل ریگولیشن1999ء کے عملی نفاذ اور اس میں خامیوں پر بات چیت کی ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نگران وزیر محنت بخت بیدار نے کہا کہ مولانا صوفی محمد سے دوران ملاقات شریعت ایکٹ94ء اور99ء پر بات چیت کی گئی جس پر اس وقت عمل درآمد نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ ہماری اس وقت صوفی محمد اور ان کے ساتھیوں سے بات چیت جاری ہے کہ ان قوانین کو کس طرح عملی شکل دی جائے اسی طرح اس میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے لئے بھی مشاورت کی جارہی ہے تاکہ خامیوں سے پاک قوانین نافذ کی جاسکیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ایم ایم اے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسلام کے نام پر ووٹ لینے والوں نے نفاذ شریعت کے لئے کو ئی عملی اقدام نہیں کیا اور مالاکنڈ میں نفاذ شریعت کے لئے پہلے ہی سے جا ری عمل کے تسلسل کو روکا جسکی وجہ سے مو جو دہ حالات پید ا ہو ئے ان لوگوں نے مولا نا صوفی محمداور ان کے ساتھیوں کو جیلوں میں رکھ کر عوام میں بے چینی پید ا کی گئی تاہم انہوں نے کہا کہ مو جودہ نگران حکومت نفا ذ شریعت کے لئے بے لو ث کو ششیں کر رہے ہیں اور اسلام کے مبارک نام کو کر سی کے حصول کا ذریعہ نہیں بنائیں گیاانہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مولانا صوفی محمد کو اس وقت صحت کی سہولیات مہیا کررہی ہے اور ان کے خلاف بننے والے کیسزکا جائزہ لے رہی ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک وزیر کے علاوہ مالاکنڈ کا باشندہ بھی ہوں اور مولانا صوفی محمد کی تیمارداری ضروری تھی ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ کے عوام کی طرف سے نفا ذ شریعت کے مطالبے پر حکومت سنجیدگی سے کا م کر رہی ہے اور علما ء کر ام، علا قائی مشران اور مو لا نا صوفی محمد کے سا تھیوں سمیت مختلف مکتبہ فکر کے عما ئدین سے مشاورت جا ری ہے اور بہت جلد عوام کا یہ دیر ینہ مطالبہ پورا ہو جا ئے گاانہوں نے کہا کہ ملاکنڈ کے عوام تشدد اور اسلحہ کو چھو ڑ کر اپنی تجا ویز اور آراء سے مالاکنڈ میں نفا ذ شریعت کے لئے شریعت ایکٹ کے عملی نفا ذ اور اصلاح کے لئے حکومت کا ساتھ دیں انہوں نے کہا کہ حکومت مذکورہ ایکٹ میں بہتری اور اصلاح کے عمل کے لئے مو لانا صوفی محمد اور انکے سا تھیوں سمیت ہر مکتبہ فکر کی طرف سے تجا ویز کا خیر مقدم کرے گی اور مالاکنڈ کے مسئلہ کی افہام و تفہیم اور مشاورت سے حل کر نے پر یقین رکھتی ہے۔ 18/11/2007 23:18:53 : وقت اشاعت
|
||
|
|||