
![]() |
بعض عناصر حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر نا چاہتے ہیں، شخصیات کے بجائے اداروں کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں 1973کے آئین پر لگ جانے والے دھبے صاف کئے جائیں گے، وزیر اعظم ، دہشتگردوں کا خاتمہ کر کے ہی دم لینگے، ملک کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے،گڈ گورننس میں پیش رفت کیلئے عوام کے اجتماعی رویے میں تبدیلی ضروری ہے، پیپلزپارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔9فروری۔2010ء)وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہبعض عناصر حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر نا چاہتے ہیں، شخصیات کے بجائے اداروں کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں، بہت جلد 1973کے آئین پر لگ جانے والے دھبے صاف کئے جائیں گے، دہشتگردوں کا خاتمہ کر کے ہی دم لینگے، ملک کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے،گڈ گورننس میں پیش رفت کیلئے عوام کے اجتماعی رویے میں تبدیلی ضروریہے۔منگل کوپاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر تے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ شخصیات کے بجائے اداروں کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں ،تمام ادرے حدود میں رہتے ہو ئے فرائض انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد 1973کے آئین پر لگ جانے والے دھبے صاف کئے جائیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانی دی ہیں، قوم کو دہشت گردی کے کینسر سے نجات دلائی جائے گی۔وزیر اعظم نے کہاکہ آج کی حکومت کل کی اپوزیشن اور آج کی اپوزیشن کل کی حکومت ہے،بعض عناصر حکومت کیلئے مشکلات پید اکرنا چاہتے ہیں ۔گڈ گورننس کیلئے عوام کو رویے میں تبدیلی لانی ہو گی۔بھارت سے تعلقات کے معاملے پر اپوزیشن کا رویہ حوصلہ افزا رہا ۔سیاسی حالات اور قومی مفادات کا تقاضا ہے کہ انتہائی برد باری اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اس حقیقت کو اجاگر کریں کہ ہم اقتدار کو عوام کی امانت اور عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔سندھ میں چھوٹے ڈیم بنا کر ہاریوں کو مفت اراضی دینگے،واضح کر دینا چاہتا ہوں کی قدرتی وسائل میں اضافہ نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، دہشت گردی کے کینسر سے قوم کو نجات دلا کر دم لیں گے انہوں نے کہاکہ ہم ”گڈ گورننس “ کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں لیکن اس کے لئے قوم کے اجتماعی رویہ میں تبدیلی ناگزیر ہے ۔ ہم نے 22ماہ کی مختصر مدت میں ملکی احوال بہتر بنانے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے جو کوششیں کی ہیں ، ان کو الزامات اور کردار کشی پر مبنی پراپیگنڈہ سے بے اثر اور ناکام نہیں بنایا جاسکتا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم شخصیات کی بجائے اداروں کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کام کر رہے ہیں اور تمام ریاستی ادارے اپنی اپنی آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی انجام دیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سیاست میں تعصب ، کینہ پروری اور رقابت کے بجائے مفاہمت، مصالحت اور تعاون کی جمہوری اقدار کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں ۔ انہوں نے زور دیا کہ آج کل وطن عزیز کے سیاسی حالات ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں ہماری معمولی سی لغزش نہ صرف ہمارے لئے بلکہ پوری قوم کے لئے گھمبیر مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اسی باعث ہم نہایت احتیاط، سوچ بچار اور مشاورت کے بعد پیش رفت کرتے ہیں۔ دوسری طرف بعض عناصر اس کوشش اور کھوج میں رہتے ہیں کہ کسی طرح حکومت کے لئے مسائل اور مشکلات پیدا کی جائیں۔ اپوزیشن کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ہم تمام اپوزیشن جماعتوں کا خواہ وہ پارلیمنٹ کے اندر ہوں یا پارلیمنٹ سے باہر ہوں ، دل سے احترام کرتے ہیں اور ان کے اس جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ حکومت پر تنقید کریں، حکومت سے اختلاف رائے رکھیں اور رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کریں۔ ہم نے اپوزیشن کے لئے اپنے اس احترام کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوری معاشرہ میں آج کی حکومت آنے والے کل کی اپوزیشن اور آج کی اپوزیشن آنے والے کل کی حکومت ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اندر موجود اپوزیشن اپنا کردار موثر انداز میں ادا کر رہی ہے اور میں اس سلسلہ میں اپوزیشن ارکان اسمبلی کے جذبہ اور کوششوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر کبھی ایسا کوئی موقع آیا یعنی اپوزیشن نے مجھ سے ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل کے لئے لائحہ عمل پیش کرنے کے لئے رابطہ کیا تو میں کھلے دل سے ان کو خوش آمدید کہوں گا ۔وزیراعظم نے عوام کو ریلیف پہنچانے کے مختلف اقدامات، ترقیاتی منصوبوں خصوصاً آغاز حقوق بلوچستان پر بھی روشنی ڈالی اور پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ حال ہی میں دوسری مرتبہ بلوچستان کیلئے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے چیف سیکرٹری کا تقرر کیا گیا ہے۔ دہشت گردی کی لعنت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے ہم غافل نہیں رہ سکتے ۔ یہ ہماری ہی نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ یہ پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کا مسئلہ ہے۔ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور اب وہ اپنی ناکامی کو سامنے دیکھ کر شہری آبادیوں کی طرف آ رہے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردوں کو خبردار کیا کہ وہ گمراہی کا راستہ چھوڑ دیں ورنہ پاکستان کے عوام بھی ان کو نیست و نابود کر دیں گے۔ میں پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ وہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے آپس میں اتحاد اور اعتماد کی فضاء قائم کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے قومی سیاست میں مفاہمت اور صبر و تحمل کا جو راستہ اختیار کیا ، اس کے خوشگوار اثرات اب صاف محسوس کئے جا رہے ہیں۔ مفاہمت کا فلسفہ ہماری بی بی شہید کا فلسفہ ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ جمہوری ادارے تیزی سے مستحکم ہو رہے ہیں، ملکی آئین اور قانون پر عمل کیا جا رہا ہے، پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہو رہی ہے۔آج پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خوشگوار اور حوصلہ افزاء تعلقات قائم ہیں۔ عدلیہ مکمل آزادی سے کام کر رہی ہے،حکومت عدلیہ کے احکامات کی تعمیل کر رہی ہے چنانچہ ہمارے وزراء عدالتوں کے سامنے ایک عام شہری کی طرح پیش ہو رہے ہیں، میڈیا کو ایسی مثالی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے 1973ء کے آئین کو اصل شکل میں بحال کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ 1973ء کے آئین کو اس کی اصل شکل میں واپس لانے کے لئے پارلیمان کی کمیٹی تیزی سے اپنا کام مکمل کر رہی ہے۔ وہ دن اب دور نہیں جب 1973ء کے آئین کی دستاویز پر لگے وہ تمام دھبے صاف کر دئیے جائیں گے جو آمروں اور غیر منتخب عناصر نے اپنے مفادات کی خاطر اس پر لگا دئیے تھے۔ وزیراعظم نے موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم انسان، قدرت کے فراہم وسائل میں اضافہ نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر قدرت نے ہمیں جو پانی فراہم کیا ہے ، ہم اپنے طور پر اس کی مقدار میں اضافہ نہیں کر سکتے لیکن یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ میسر پانی اور بجلی کا بہتر اور مناسب استعمال کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم، خاص طور پر پانی کی تقسیم کے مسئلہ کو اسی جذبہ اور اسی سوچ کے ساتھ حل کیا جائے۔ پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ وہ منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا رواں سال ہونے والا یہ پہلا اجلاس تھا جو ایسے موقع پر منعقد ہوا جب پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم حکومت اپنے دو برس مکمل کرنے والی ہے۔ وزیراعظم نے پارٹی کے منتخب نمائندوں پر زور دیا کہ وطن عزیز کو درپیش حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور خاص طور پر ارکان پارلیمنٹ کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ تاریخ اور وقت نے ان پر سیاسی، آئینی اور سماجی اعتبار سے بھاری ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔ 09/02/2010 22:26:54
|
|||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||