پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ میں کاروائی کے آغاز کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتا ہوں،نوازشریف

آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور مکمل شفافیت پر کامل یقین رکھتا ہوں عوام کی عدالت تو پے در پے فیصلے صادر کر رہی ہے بہتر ہوگا عدالتی فیصلے کا انتظار بھی کر لیا جائے،بیان

جمعہ 21 اکتوبر 2016 10:55

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔21اکتوبر۔2016ء)وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ میں پانامہ پیپرز کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کاروائی کے آغاز کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتا ہوں۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پانامہ رپورٹس کے آغاز ہی سے اور اپوزیشن کے کسی بھی مطالبے سے پہلے میں نے سپریم کورٹ کے معزز ریٹائرڈ جج صاحبان پر مشتمل کمیشن کا اعلان اسی جذبے کے ساتھ کیا تھا کہ شفاف تحقیق کے ذریعے اصل حقائق قوم کے سامنے آجائیں۔

اس کے جواب میں واحد مطالبہ یہ سامنے آیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں حاضر سروس جج صاحبان پر مشتمل کمیشن بنایا جائے۔ میں نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر یہ مطالبہ بھی تسلیم کر لیا۔تاہم اس کے ساتھ ہی ٹی۔

(جاری ہے)

او۔ آرز کا تنازعہ شروع کر کے سپریم کورٹ کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کی روشنی میں حکومت نے متفقہ TORs کی تیاری کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کر دی۔

کمیٹی کے ارکان کی تعداد کا تعین کرتے ہوئے پارلیمان میں حکومت کی واضح عددی برتری کے باوجود اپوزیشن کو برابر نمائندگی دی گئی لیکن ہماری ان تمام تر کوششوں کے باوجود اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ اسی دوران حکومت نے سپریم کورٹ کے خط کی روشنی میں 1956 ء کے کورٹ آف انکوائری ایکٹ کو تبدیل کرنے اور کمیشن کو مزید موثر اور طاقتور بنانے کے لئے ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا لیکن مسلسل منفی رویہ جاری رکھتے ہوئے مسلمہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے برعکس ایک متوازی بل پیش کر دیا گیا۔

اس موضوع پر دو بار قوم سے خطاب کرنے کے علاوہ میں نے قومی اسمبلی کے ایوان میں بھی اپنا تفصیلی موقف پیش کیا لیکن دوسری جانب سے حکومت کی نیک نیتی پر مبنی تمام کوششوں کو سبوتاڑ کرتے ہوئے اس کی شفاف اور بے لاگ تحقیقات کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی گئیں۔پانامہ پیپرز کا معاملہ اب الیکشن کمیشن، لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے لایا جا چکا ہے میں آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور مکمل شفافیت پر کامل یقین رکھتا ہوں۔ عوام کی عدالت تو پے در پے فیصلے صادر کر رہی ہے بہتر ہوگا کہ عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی کر لیا جائے۔