بھارت، بابری مسجد مقدمے میں ایڈوانی سمیت 20 افراد کو نوٹس
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اپریل

تلاش کیجئے

بھارت، بابری مسجد مقدمے میں ایڈوانی سمیت 20 افراد کو نوٹس

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔1اپریل۔2015ء)بھارت کی عدالت عظمیٰ نے تاریخی بابری مسجد منہدم کیے جانے والے دیرینہ معاملے میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنماوٴں لال کرشن ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی سمیت 20 افراد کو نوٹس جاری کیے ہیں۔جن لوگوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے، ان میں پارٹی کے معروف رہنما کلیان سنگھ اور اوما بھارتی بھی شامل ہیں۔کلیان سنگھ فی الوقت شمالی ریاست ہماچل پردیش کے گورنر ہیں اور اوما بھارتی مرکزی وزیر ہیں۔

چھ دسمبر 1992 کو انتہاپسند رجحان رکھنے والے ہندووٴں نے بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا جس کے بعد ملک کے کئی حصوں میں فرقہ وارانہ ہندو مسلم فسادات بھڑک اٹھے تھے اور درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔سپریم کورٹ نے اس معاملے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کرتے ہوئے تازہ نوٹس جاری کیے۔یہ اپیل حاجی محمود نامی شخص نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی جس میں بابری مسجد منہدم کیے جانے کے معاملے میں مذکورہ افراد کے خلاف سازش کا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

01-04-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان